خان صاحب، گھبرانا نہیں ہے

خان صاحب اگر پنڈی کے راجہ بازار یا وزیر اعظم ہاؤس سے 10 منٹ دوری پر آبپارہ مارکیٹ کا ہی چکر لگا لیں تو انہیں سب پتہ چل جائے گا لیکن لگتا ہے کہ وہ حد درجہ پر اعتماد ہیں کہ صورت حال بظاہر جتنی خطرناک کیوں نہ ہو، گھبرانا نہیں ہے۔

غریدہ فاروقی تجزیہ کار GFarooqi@
———————-

حکومت کے وزیر مشیر سب گھبرائے ہوئے ہیں پریشان ہیں اور خان صاحب انہیں تسلی دیتے ہیں گھبرانا نہیں ہے۔

گھبرانے والی بات بھلا کیوں نہ ہو۔ ایک طرف خوف ناک ناقابل برداشت مہنگائی، اس پر اپوزیشن کی بتدریج رفتار پکڑتی تحریک جس پر پٹرول چھڑکا، آگ لگائی کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری اور آئی جی سندھ پولیس کے مبینہ اغوا کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے۔

پھر یک نہ شد دو شد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے کیس کا تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ نے جاری کر دیا جو حکومت کے خلاف ٹھیک ٹھاک بڑی چارج شیٹ ہے۔ پہلے ہی سندھ اور بلوچستان بار کونسل کے ساتھ پاکستان بار کونسل کی قراردادوں سے ناصرف حکومت بلکہ ایک پیج بھی اچھے خاصے دباؤ میں ہیں ایسے میں جسٹس قاضی فائز جیسے محبوب العام قاضی والے کیس میں اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج صاحبان حکومت کے بارے میں ایسا سخت فیصلہ تحریر کریں تو گھبرانا تو لامحال ہے۔ لیکن پھر بھی خان صاحب کہتے ہیں گھبرانا نہیں ہے۔

کیپٹن صفدر گرفتاری اور آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال بھلے ہی بظاہر اور اوپری سطح پر حل ہوگئی ہو لیکن اس سے عمران خان کی حکومت کو دو تین نقصانات اور اپوزیشن کو چند بڑے فائدے ضرور حاصل ہوگئے۔ ایک تو پی ڈی ایم تحریک کو عوامی سطح پر ہمدردی اور نرمی کے پوائنٹس حاصل ہوگئے۔

حکومت عقل کا استعمال کرتی تو کیپٹن صفدر کی مزارِ قائد پر نعرے بازی کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر سکتی تھی لیکن جس طرح آئی جی سندھ کو مبینہ اغوا کیا گیا، زبردستی پرچہ کٹوایا گیا، مریم نواز کے کمرے پر دھاوا بولا گیا اس نے وسیع عوامی ہمدردی اور نرمی کو یکدم اپوزیشن کے پلڑے میں ڈال دیا۔

الزام آیا وفاقی حکومت پر اور مظلوم بن گئی اپوزیشن۔ اس صورت حال میں اگر وزیراعظم فوری نوٹس لیتے، مداخلت کرتے وزیر اعلیٰ سندھ سے بات کرتے تو اپوزیشن کے سیاسی فائدے کو ایک ہی جست میں ڈی فیوز کر سکتے تھے لیکن انہوں نے یہ موقع بھی گنوایا گیا۔ خلا پیدا ہوا اور جب بھی خلا پیدا ہوتا ہے کوئی اور قوت دخل اندازی کرتی ہے سو یہی ہوا۔ آرمی چیف اور بلاول بھٹو کا براہِ راست رابطہ ہو گیا۔

اس رابطے سے پہلے نہ تو وزیراعظم سے رابطہ کیا گیا، نہ اعتماد میں لیا گیا جس کی بوجوہ ضرورت بھی محسوس نہ کی گئی۔ بعد میں سیاسی خفت مٹانے کو حکومتی لوگوں نے بیانیہ تو گھڑا کہ بلاول بھٹو نے پہلے وزیراعظم سے بات کی تھی لیکن یہ بیانیہ بے پیندے سے زیادہ کا ثابت نہ ہوا۔

اب فائدہ اپوزیشن کا خاص کر پیپلز پارٹی کا یہ ہوا کہ مقتدر حلقوں سے براہِ راست بات چیت کی بظاہر راہ ہموار ہوگئی بیچ پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک کے۔ اب سارے کام کے پتے پیپلزپارٹی کے ہاتھ میں ہیں۔ نقصان حکومت کا یہ ہوا کہ ایک ماہ سے جو پیٹ پیٹ کر ڈھول بجایا جا رہا تھا کسی طور اپوزیشن کے بیانیے اور تحریک کو اداروں خاص کر فوج کے مخالف ثابت کیا جاسکے، اس ڈھول کی چُولیں ہل گئیں۔

اس براہ راست رابطے سے حکومت تو جو بوکھلائی سو بوکھلائی خود اپوزیشن اتحاد کے اپنے اندر کھلبلی اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ بظاہر تو پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کو دلاسہ دینے میں کامیاب ہوگئی ہے لیکن سیاست کے بےتاج بادشاہ آصف علی زرداری نے تاحال صورت حال کے حساب سے اپنے پتے سینچ کر سینے سے لگا رکھے ہیں اور ایک ایک کرکے سامنے لائے جا رہے ہیں۔

قابلِ غور بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے ہوم گراؤنڈ پر نواز شریف کی تقریر نہیں ہونے دی گئی جبکہ نون لیگ کے ہوم گراؤنڈ پر آصف زرداری تقریر کر چکنے کے بعد سے اب تک پی ڈی ایم میں کسی بھی قسم کی فرنٹ سکرین اور آن سکرین شمولیت سے خود کو دور رکھے ہوئے ہیں۔ اڑتی اڑتی خبر تو یہ بھی آئی کہ جس روز مریم نواز کے کمرے پر دھاوا بولا گیا کیپٹن صفدر گرفتار ہوئے اسی روز آصف زرداری کی ملاقات ایک بہت اہم شخصیت سے ہوئی۔ اس ملاقات میں کیا بات ہوئی یہ کسی اور مناسب وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔

تیزی سے بدلتی اس ہنگامہ خیز صورت حال میں بھی خان صاحب حکومت کو اگر تسلی دیتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ خان صاحب کی عوام سے دوری ہے۔ وزیر اعظم حکومت کے انہی لوگوں میں گھرے ہیں جن کی قربت حقائق سے اور بالآخر اقتدار سے دوری کا سبب بنتی ہے۔

وزیر اعظم کے قریب ترین چند لوگ انہیں صرف سب اچھا اور کوئی خطرہ نہیں کی رپورٹ ہی دیتے ہیں۔ جو لوگ وزیر اعظم کو بتاتے ہیں کہ اپوزیشن تحریک محض وقتی ہے یہ وہی لوگ ہیں جو خان صاحب کے کان میں پھونکتے ہیں کہ عوامی مسائل کا واحد علاج گذشتہ حکومتوں کی نااہلی اور چوری کا شور ہے۔

چند باشعور وزیر مشیر جب اجلاسوں میں وزیر اعظم کو عوامی حالت سے آگاہ کرتے ہیں کہ لوگوں کی اب بس ہوگئی ہے اور وہ حکومت کو گالیاں دیتے ہیں تو یہی قریبی لوگ خان صاحب کو تسلی دیتے ہیں کہ بس اگلے ہفتے سے مہنگائی کم ہو جائے گی۔

یہی لوگ وزیر اعظم کو بریفنگ دیتے ہیں کہ آج کی مہنگائی ڈھائی تین سال پہلے کی چوری اور نااہلی کی وجہ سے ہے۔ یہی لوگ وزیر اعظم کو گمراہ کن اعداد و شمار اور حقائق کے ذریعے اپنا الو سیدھا کرنے کے مسلسل چکر میں ہیں۔ وزیر اعظم کو گمراہ کن تسلیاں دیئے جاؤ اور مال بنائے جاؤ۔

حکومت کو خبردار رہنا چاہیے کہ ہر حکومت میں یہی لوگ ہوتے ہیں جو حکومت گرنے کا باعث بنتے ہیں۔ خود خان صاحب کا عوامی رابطہ تو مکمل ختم ہو چکا ہے۔ وزیراعظم کا عوامی رابطہ محض وزرا کی زبانی، تقاریب اور کنونشنز میں خطابات، میڈیا انٹرویوز یا سوشل میڈیا تک ہی محدود ہو چکا ہے۔

وزیر اعظم کو چاہیے ہفتہ وار براہ راست عوامی رابطے کا کوئی پروگرام تشکیل دیں۔ خان صاحب کسی دن اگر پنڈی کے راجہ بازار یا وزیر اعظم ہاؤس سے 10 منٹ دوری پر آبپارہ مارکیٹ کا ہی عوامی چکر لگا لیں تو کہتی ہے خلقِ خدا کیا سب سننے کو اور براہ راست جاننے کو ملے گا لیکن لگتا ہے کہ وزیراعظم حد درجہ یا شاید اس سے بھی زیادہ پر اعتماد ہیں کہ صورت حال بظاہر جیسی ہی خطرناک کیوں نہ معلوم ہوتی ہو، گھبرانا نہیں ہے
————from—-Independenturdu—-pages—–