کے ڈی اے جو زمین کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے حوالے کر چکا ہے ان پر غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ۔

کے ڈی اے جو زمین کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے حوالے کر چکا ہے ان پر غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ۔شہر کے مختلف علاقوں میں ایسی بہت سی شکایات سامنے آرہی ہیں کہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے جو زمین کے ایم سی آئی ڈی ایم سی ایس کے حوالے کر چکا ہے

وہاں پر غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں کے ایم سی اور ڈی ایم سی کے متعلق احکام آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں یا ملی بھگت سے سب کچھ ہو رہا ہے یا ان کی نااہلی اور غفلت کا نتیجہ ہے کہ دن دہاڑے اور مہینوں سے یہ سلسلہ جاری ہے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایم سی ڈی ایم سیز اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے پاس بھی اینٹی انکروچمنٹ کے انتظامات اور گنجائش موجود ہے وہ خود ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف اس تندہی سے ایکشن نہیں لے رہے جس کی ضرورت ہے اور ساری توقع صرف کے ڈی اے سے وابستہ کرلی گئی ہے حالانکہ کیلئے وہ زمینی پہلے ہی کے ایم سی اور ڈی ایم سی کے حوالے کر چکا ہے


عملی طور پر اس وقت کے ڈی اے کی ذمہ داری صرف ان پلاٹوں کی ٹرانسفر یا میوٹیشن کی حد تک رہ گئی ہے باقی ذمہ داری کے لیے کی نہیں کیونکہ پڑھیے یہ زمینی پلاٹ اور یونٹس ہینڈاوور کر چکا ہے لیکن بعض عناصر کی طرف سے یہ غلط فہمی پھیلائی گئی ہے

اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ساری ذمہ داری کے ڈی اے کی ہے ۔حالانکہ اس ذمہ داری کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کی ہے کیونکہ انہیں یہ زمینی پلاٹ اور یونٹس ہینڈ اوور ہو چکے ہیں اب اگر یہاں پر غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے

تو اسے روکنا اور گھرانہ کے ایم سی اور ڈی ایم سی ایس کی ذمہ داری ہے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے لیکن شہر کے مختلف حصوں بالخصوص ناظم آباد سے کیسی شکایت موصول ہو رہی ہیں کے مختلف علاقوں

میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔سابق میئر کراچی وسیم اختر بھی ٹی وی انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اب یہ ذمہ داری عدالت کی جانب سے بھی انہیں مل چکی ہے اور انہوں نے سارے نالے اور کیا آزاد کرانے ہیں رفاہی پلاٹ ٹو پرسیو غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کرنا ہے گویا ہر لحاظ سے یہ کہ ہنسی کی ذمہ داری ہے اور قیمتی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک انکوائری کمیٹی بننے یا عملدرآمد کمیٹی بنائی جائے جو سارے کارڈ پر مشتمل ہو


اور کم از کم کمشنر کی نگرانی میں کام کرے اور یہ دیکھیں کہ کس کے علاقے میں کس کے محکمہ میں غیر قانونی سرگرمیاں ہو رہی ہیں اور ان غیر قانونی تعمیرات کو روکنے اور گرانے کی ذمہ داری کس کی ہے اور کون غفلت اور لاپرواہی برداشت رہا ہے ۔