مارشل لاء کا کوئی امکان نہیں، حکومت جمہوری طریقے سے جائے گی، مریم نواز

بیک ڈور ڈپلومیسی کی عادی نہیں ہوں، کٹھ پتلی حکومت سے بات کرنا گناہ سمجھتی ہوں، اسمبلیوں سے استعفے دیے تو حکومت کا کام تمام ہوجائے گا۔ نائب صدر ن لیگ کی کوئٹہ میں سینئر صحافیوں سے گفتگو

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ مارشل لاء کا کوئی امکان نہیں، حکومت جمہوری طریقے سے جائے گی، بیک ڈور ڈپلومیسی کی عادی نہیں ہوں، کٹھ پتلی حکومت سے بات کرنا گناہ سمجھتی ہوں،اسمبلیوں سے استعفے دیے تو حکومت کا کام تمام ہوجائے گا۔ انہوں نے کوئٹہ میں سینئر صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ناراض لوگوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے ریاست کو بات کرنی چاہیے، ریاست کا فرض ہے کہ ناراض لوگوں کو سنے۔
ناراض لوگوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے سے ملک مستحکم ہوگا۔ جب چیزیں غلط ہوں گی تو آوازیں اٹھیں گی۔ لیکن حقیقی سیاسی جماعتیں کبھی بھی عوامی ردعمل کیخلاف نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے بلوچستان میں باپ پارٹی بنائی ان کو جواب دینا ہوگا۔
مریم نواز نے کہا کہ ہماری تحریک سے مارشل لاء لگنے کا کوئی امکان نہیں۔ آزمائے ہوئے لوگ مارشل لاء نہیں لگا سکتے۔

بیک ڈور ڈپلومیسی کی عادی نہیں ہوں، یہ حکومت جمہوری طریقے سے ہی گرے گی۔ اسمبلیوں سے استعفے دیے تو حکومت کا کام تمام ہوجائے گا۔ کٹھ پتلی حکومت سے بات کرنا گناہ سمجھتی ہوں، ایک دوسرے کوسڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں ماضی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انتظار کیا کہ یہ لوگ حکومت کیسے کرتے ہیں ، لیکن یہ ناکام ہوگئے۔ اب اس حکومت کا عوام کے سامنے ٹھہرانا مشکل ہے۔
اب لوگوں کو پتا چلا کہ مافیا کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کے کوئٹہ جلسے میں آنے سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتی۔ یاد رہے نائب صدر ن لیگ مریم نواز پی ڈی ایم جلسے میں شرکت کیلئے کوئٹہ کے دورے پر ہیں۔ کوئٹہ پہنچ کر انہوں نے ن لیگ کے ورکرز کنونشن سے خطاب میں کہا کہ نوازشریف کے ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو عملی شکل پہنانے کا وقت آگیا ہے۔
سلیکٹڈ، نااہل اور جعلی وزیراعظم اور ان کے ٹولے کے دن گنے جا چکے ہیں۔ بلوچستان کی عوام سے ملنے والی محبت اور شفقت کو بھلا نہیں سکتی، نوازشریف نے ووٹ کو عزت اور عوام کی حکمرانی،آئین کی بحالی کی جدوجہد میں صرف کارکنوں کو نہیں بلکہ اپنی بیٹی کو صف اول کا کردار دیا ہے، پی ڈی ایم کے صرف دو جلسوں سے حکمران بوکھلاہٹ کے شکار ہیں جب کوئٹہ کا جلسہ ہوگا تو ان کا کیا حال ہوگا