قائد اعظم بانی پاکستان ہیں،اُن کے مزار کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنایا جائے: الطاف شکور

قائد اعظم بانی پاکستان ہیں،اُن کے مزار کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنایا جائے: الطاف شکور
حکومت و اپوزیشن ملک کو سیاسی انارکی کا شکار کر رہے ہیں،دونوں کا طرز عمل قابل مذمت ہے
بابائے قوم کو عزت نہ دینے والے کس منہ سے ووٹ کو عزت دو کہتے ہیں
مزار پر نعرہ بازی قابل تعزیر جرم ہے،صفدر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے
صفدر کی ایف آئی آر کٹنے پر 5 وزراء پر مشتمل کمیٹی، قائد اعظم کے مزار پر ہلڑبازی پر مجرمانہ خاموشی؟
صحافی عمران اسلم کی گمشدگی پر پاسبان رہنماؤں کی شدید مذمت اور فوری بازیابی کا مطالبہ

کراچی( ) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ قائد اعظم بانی پاکستان ہیں ان کے مزار کو سیاسی اکھاڑہ بنانے سے گریز کیا جائے۔مزار پر نعرہ بازی اور شور شرابہ قابل تعزیر جرم ہے،صفدر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ حکومت و اپوزیشن ملک کو سیاسی انارکی کا شکار کر رہے ہیں، دونون کا طرز عمل قابل مذمت ہے۔ صفدر کی ایف آئی آر کٹنے پر تحقیقات کے لئے سندھ حکومت نے 5 وزراء پر مشتمل کمیٹی بنادی ہے لیکن قائد اعظم کے مزار پر ہلڑبازی پر مجرمانہ خاموشی کیوں؟ حکومت اور اپوزیشن قیادت تھرڈ کلاس سوچ رکھتی ہے اپنے اپنے مفاد کے لئے ملکی و قومی وقار کو بھی داو پر لگانے سے گریز نہیں کیا جارہا۔ بابائے قوم کو عزت نہ دینے والے کس منہ سے ووٹ کو عزت دو کہتے ہیں؟ عوام کو متوجہ کرنے کے لئے مزار قائد پر ڈرامہ بازی قابل مذمت اورصوبائی حکومت کی اس معاملے میں خاموشی معنی خیز ہے۔ اپوزیشن اخلاقی قدریں پامال نہ کرے اور حکومت انتقامی کاروائیوں سے باز رہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ پہلے حکمران اور حزب اختلاف کے رہنما کراچی آمد کے موقع پر سب سے پہلے بابائے قوم کے مزار پر حاضری دے کر نظریہ پاکستان سے وابستگی کا اظہار کرتے تھے۔ عرصہ دراز ہوا یہ سلسلہ موقوف ہو گیا۔ اب مریم نواز نے مزار پر حاضری دی بھی تو سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے جو کہ اخلاقی اقدار کے سراسر مخالف عمل تھا۔ جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ مزار قائد پر سیاسی نعرے بازی کر کے مزار کا تقدس پامال کیا گیا اور پاکستانی عوام کے جذبات مجروح کئے گئے۔ اصولا تو اس معاملے پر میزبانوں کے خلاف بھی کاروائی کی جانی چاہئیے جو بڑے دھڑلے سے بانی پاکستان کے مزار کی توہین کرنے والوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ پاکستان پر وہ لوگ مسلط ہیں جنہیں نظریہ پاکستان سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔ وہ محض اپنے مفادات اور سیاست کی دوکان چمکانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور اس کا عملی مظاہرہ پی ڈی ایم کے جلسہ سے قبل مزار قائد پر ہلڑ بازی کر کے کیا گیا۔ صفدر اعوان کو گرفتار کرکے صحیح قدم اٹھایا گیا لیکن چوبیس گھنٹے کے اندر اندر رہا کرکے سندھ حکومت نے اپنی کمزوری بھی ظاہر کر دی۔ پاکستان اور نظریہ پاکستان کی سالمیت کا معاملہ ہے۔ وفاق قانون کے مطابق اس معاملے کا براہ راست نوٹس لے اور کاروائی عمل میں لائے۔ مسلم لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم یا کوئی بھی سیاسی جماعت ہو کسی کوبھی حق نہیں ہے کہ محسن پاکستان کی قبر کو اپنے سیاسی دوکان چمکانے یا مفادات و مقاصد کے لئے استعمال کرے۔ دریں اثناء الطاف شکور نے صحافی عمران اسلم کی گمشدگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے صوبائی و وفاقی حکومت سے ان کی جلد از جلد بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ عمران اسلم آئی جی پولیس کے مبینہ اغواء اور صفدر اعوان کے معاملے میں رپورٹنگ کر رہے تھے۔ ان کا اس طرح غائب ہوجانا حق و سچ کو چھپانے کی سازش ہے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی صحافی عمران اسلم کی گمشدگی کی شدید مذمت کر تی ہے#