پاکستان عملاً غلام ملک بن گیا،عوام کو گھروں سے نکلنا ہوگا،قیصر بنگالی

پاکستان عملاً غلام ملک بن گیا،عوام کو گھروں سے نکلنا ہوگا،قیصر بنگالی

کراچی (رپورٹ: اے اے سمنانی)معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا ہے کہ پا کستان قرضوں کی دلدل میں دھنس چکا ہے،معیشت غیر ملکی اداروں کے قبضے میں چلی گئی اور وہ طے کرتے ہیں کہ وزیر خزانہ ،مشیر خزانہ اوراسٹیٹ بینک کا گورنر کون ہوگا، نجکاری ملک کو گروی رکھنے کے برابر ہے، غیر ملکی کمپنیاں ہر ادارے پر قابض ہوجائیں گی، قرض اتارنے کے لیے مزید قرض لیے جارہے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کے لیے پیسے نہیں ،عوام کو سڑک پر نکلناہوگا، چہروں کی تبدیلی کے بجائے نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ جسارت سے پاکستان کی معاشی صورتحال پر خصوصی گفتگو کرتے ہوے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم قرض لیتے ہیں وہ کسی ترقیاتی منصوبے کے لیے نہیں لیتے بلکہ واپس کرنے کے لیے لیتے ہیں ،پاکستان صرف قرضوں پر ہی چل رہا ہے۔ جس دن قرضے بند ہوں گے معیشت بیٹھ جائے گی، ہم پیٹرول درآمد نہیں کرپائیں گے، ہوائی جہازوں سمیت تمام ٹرانسپورٹ بند ہو جائے گی، ہم سائیکل یا گدھا گاڑی پر سفر کریں گے اور معیشت کا دار و مدار قرضوں پر آجائے تو معاشی خود مختاری ہی نہیںسیاسی خود مختاری بھی ختم ہوجاتی ہے۔

واضح رہے کہ جب وزیر اعظم پاکستان ملائیشیا جارہے تھے تو سعودی عرب نے منع کردیا تو وہ نہیں گئے یہ غلام ملک کی نشانی ہے ۔ غربت اور بیروزگاری سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے پیسہ نہیں تو زراعت کا انفرا اسٹرکچر ، لینڈ لیولنگ ، پانی کے کینال کی مرمت نہیں ہو سکے گی،سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہوں گی توکھیت سے منڈی تک مال نہیں پہنچ سکے گا، بجلی نہ ہونے کے باعث کارخانے نہیں چل رہے ،نئے اسکولز اور اسپتال نہیں بن رہے ،حکومت کے پاس ادویات کے پیسے نہیں تو اس کا اثر عوام پر پڑے گااور پڑ بھی رہا ہے ۔گزشتہ 50سالہ تاریخ دیکھیں جب حکومت کے پاس ترقیاتی بجٹ کم ہوتا ہے، کٹوتی کرتی ہے تو اس کا براہ راست اثر خواندگی کی شرح پر ہوتا ہے، بچوں اور ماؤں کی اموات اور غربت کی شرح پر اس کا اثر فوراً نظر آتا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی مہنگائی پر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ افراط زر کی 2 وجہ ہوتی ہیں، ایک سپلائی سائیڈ سے ہوتا ہے ایک ان ہینڈ سائیڈ سے ہوتا ہے۔ سپلائی سائیڈ سے مراد یہ کہ اگر آپ کوئی چیز پیدا کررہے ہیں اس کی پیدا کرنے کی قیمت بڑھادیں، کاسٹ بڑھا دیں، یعنی میں اگر ایک کارخانہ چلا رہا ہوں بجلی استعمال کررہا ہوں اور حکومت بجلی کا ریٹ بڑھادے گی تو میری جو اشیا بنے گی وہ بھی مہنگی بنے گی۔ پہلے تو انہوں نے بھاری ڈی ویلیویشن کی ہے۔ 40فیصد ویلیو میں کمی کردی گئی جس سے ہر چیز مہنگی ہوگئی۔ جو چیز پہلے 105یا 110روپے کی آتی تھی اب 160 روپے کی آرہی ہے۔ تیل چونکہ ہم درآمد کرتے ہیں وہ مہنگا ہوگیا، بجلی، گیس، پیٹرول کی قیمت بڑھا دی تو سپلائی سائیڈ سی انفلیشن بڑھا پھر حکومت نے پچھلے ڈیڑھ سال میں نئے نوٹ چھاپے ہیں اور نوٹ زیادہ چھاپنے سے لوگوں کے پاس زیادہ پیسے ہوتے ہیں خرچ کرنے کے لیے توڈیمنڈ سائیڈ انفلیشن بڑھتا ہے یہ جو راؤنڈ انفلیشن اس وقت ہے یہ پہلے سپلائی سائیڈ پر تھا جبکہ پچھلے 4سے 6ماہ سے سپلائی پلس ڈیمنڈ سائیڈ پر انفلیشن ہے اور یہ مزید بڑھے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملکی معیشت غیر ملکی اداروں کے قبضے میں چلی گئی ہے اور وہ طے کرتے ہیں کہ وزیر خزانہ ،مشیر خزانہ کون اور اسٹیٹ بینک کا گورنر کون ہوگا، ہمارے وزیر اعظم کے پاس اختیار نہیں ہے کہ اپنی مرضی سے وزیر لگا سکے ، جو قرض دینے والے ادارے ہیں وہ طے کرتے ہیںکسے وزیر بنایا جائے ۔نجکاری ہورہی ہے یہ ملک کو گروی رکھنے کے برابر ہے،مطلب یہ کہ اگر آئی ایم ایف اپنی شرائط پر قرض دیتا ہے مثلاً 6 ارب کا قرض 3 سال کے لیے دیتا ہے تو وہ طے کرتا ہے آپ فلاں اثاثے کسی غیر ملکی کمپنی کو بیچ دیں گے۔ نجکاری اور گروی میں فرق بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب آپ کوئی چیز گروی رکھتے ہیں تو وہ محدود وقت کے لیے ہوتی ہے رقم ادائیگی کے بعد وہ اثاثے واپس مل جاتے ہیں لیکن نجکاری کا مطلب آپ تاحیات اس اثاثے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ائر پورٹ کی نجکاری کی تو بات چل رہی ہے اور یہ ساری چیزیں ایک ایک کرکے چلی جائیں گی اور پو رے ملک پر قبضہ ہوجائے گا۔ غیر ملکی کمپنیاں ہر ادارے پر قابض ہوجائیں گی اور کافی حد تک ہوبھی چکی ہیں، 80 فیصد بینکاری غیر ملکیوں کے ہاتھ میں ہے۔ 100فیصد ٹیلی فون کا نظام غیر ملکیوں کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سلسلہ شروع تو ہوہی گیا۔ان سے جب یہ پوچھا کہ وزیر اعظم تو کہہ رہے ملک کی معیشت درست سمت پر گامزن ہے اور اس پر وہ مبارکباد بھی پیش کررہے ہیں تووہ ایسا کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں کون سے معاشی اینڈکیشن ہیں تواس پر ان کا جواب تھا کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے بس وہ اپنی دنیا میں رہتے ہیں، کس دنیا میں رہتے ہیں ہمیں نہیں پتا لیکن جو ان کے دعوے ہوتے ہیں جب انہیں ہم سنتے ہیں تو دنگ رہ جاتے ہیں کیونکہ ہمارا کام ہے اعداد و شمار کو دیکھنا اور پرکھنا انہیں ایسا لگتا ہے پتا نہیں کس ملک کی بات کررہے ہیں ،پاکستان کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ خاص طور پر 2000 ء سے ساری پالیسیاں وہ مخصوص طبقات کے فائدے کے لیے بنتی آرہی ہیں۔ ابھی حال ہی میںجس کنسٹرکشن پالیسی کا عمران خان نے اعلان کیا ہے اس سے کنسٹرکشن تو کوئی نہیں ہو رہی ہے، نہ اس سے مزدور کو کوئی روزگار ملا ہے وہ پالیسی بنائی گئی پراپرٹی بلڈرز اور پراپرٹی ڈیلرز کو فائدہ ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کا جو حال ہے اس کی سب سے بڑی ذمے داری مارشل لا حکومتوں پر عاید ہوتی ہے کیونکہ جنرل ضیاکے 11سالہ دور میں زراعت اور صنعت کے انفرا اسٹرکچر میں بالکل انویسٹمنٹ نہیں کی گئی وہ اس حد تک بگڑ گیا کہ آپ کارخانے لگاتے ہیں تو اس کی پیداواری قوت کم ہوگئی، زراعت کی پیداواری قوت کم ہوگئی اس وجہ سے جو ہماری برآمدات 26ارب ملین تھی پچھلے 6سال سے وہیں پر ہے بڑھ نہیں رہی، ہمارے پاس بیچنے کو کچھ نہیں، ہم بناتے کچھ نہیں، ہر چیز درآمد کی جاتی ہے خاص طور پرشوکت عزیز یا مشرف کے دور میں درآمد کے دروازے سارے کھول دیے۔ جو چیز پہلے پاکستان میں بنتی تھی وہ سارے کارخانے پاکستان میں بند ہوگئے اور وہ ہم اب امپورٹ کر رہے ہیں۔ جوتوں کی 2یا 3 بڑی مقامی کمپنیاں اب یہاں جوتے نہیں بنواتیں بلکہ چائنا سے منگوا کر اپنا لیبل لگا کر بیچتی ہیں۔ڈاکٹر قیصر بنگالی نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان کی بہت ہی مایوس کن صورتحال ہے اور یہ ایسی بات نہیں ہے کہ ہم خبر سنیں اور اس پر افسوس کا اظہار کریں اور پھر اپنے کام میں لگ جائیں۔ اس پر عوام کو بھرپور مذمت کرنی چاہیے اور میڈیا کا اس حوالے سے کردار کافی بہتر ہے کہ وہ عوام کو آگاہ کرنے کی کوشش میں لگا ہے لیکن جب تک لوگ باہر نہیں نکلیں گے،ا حتجاج نہیں کریں گے تب تک چیزیں درست نہیں ہوں گی۔ اور ایک ہی راستہ ہے سڑک پر نکلناہوگا اور چہروںکی تبدیلی کا مطالبہ نہ کیا جائے بلکہ نظام کی تبدیلی کا،