وہ شخص دھوپ میں چھاؤں جیسا تھا

،، منشاقاضی ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ میں نے حقیقی قوم پرستوں، دانشوروں ، حکیموں اور مفکروں کو ھمیشہ اپنی ھی قوم کے ھاتھوں زھر کی پیالے پیتے دیکھا ھے ، لوگوں کے لئیے وجہ ء تسکین بننے والے ھی انسانیت کے ماتھے کا جھومر ھوتے ھیں اور ان وہ جس راست سے گزرتے ھیں ان کی دید کے مشتاق لوگ دیدہ و دل فرش راہ کرتے ھیں ، ان کے دل میں مکرر ملاقات کی تمنا جاگ اٹھتی ھے اور وہ بیساختہ پکار اٹھتے ھیں ، ، ایک نظر مڑ کر دیکھنے والے ،، کیا یہ خیرات پھر نہیں ھو گی ،، میں بائیس سال گزر جانے کے باوجود آج بھی

اس نظر کی ایک جھلک کا منتظر ھوں جو اس دھرتی پر رب العالمین کی توحید کا نقارہ بجا گئے۔ وہ ایک نعمت تھی ،، رکے تو چاند چلے تو ھواؤں جیسا تھا ،، وہ شخص دھوپ میں چھاؤں جیسا تھا ،، آج ھم اس مرد خدا آگاہ ، خود آگاہ اور خودی کا پیکر متحرک کی یاد میں جمع ھوئے ھیں جس نے ایک زمانے کو ورطہ ء حیرت میں ڈبو دیا تھا دکھوں اور مصیبتوں کے مارے ھوئے لوگوں کے درد کا درماں تھا درد سے اتنا تعلق خاطر تھا کہ درد کے ساتھ ھم لازم و ملزوم ھو گئے اور ھمدرد نے درد مندوں کی ایک جماعت تیار کر لی جسے ھمدرد مجلس شوریٰ کے نام سے ھم پیروں و جواں ھی نہیں نونہال بھی ھم سے زیادہ جانتے ھیں کیونکہ اس کے بانی کا دل نونہالوں کی فصلوں کی اصلوں کی فصلوں کو شاداب وسیراب کر رھا تھا کہ کسی کی نظر بد لگی اور وہ فرشتہ صفت انسان ھم سے پچھلی صدی کی دم توڑتی

ھوئی ساعتوں میں سفاک ، بھیانک اور ظالموں نے ھم چھین لیا وہ کیا کیفیت اور حالت ھوگی ، پھول وہ شاخ سے ٹوٹا کہ چمن ویراں ھے ، آج منہ ڈھانپ کے پھولوں میں صبا روئے گی ، آج ھمدرد مجلس شوریٰ کے زیر اھتمام اسی مسیحا کی یاد میں درد مندوں کی ایک کثیر تعداد کو بڑے سلیقے اور قرینے کے ساتھ سید علی بخاری صاحب نے جمع کیا، اور ھمدرد مجلس شوریٰ کی اس تقریب میں حکیم محمد سعید شہید کی حیات و خدمات کا اعتراف کرتے والوں میں مہمان خاص چودھری محمد سرور گورنر پنجاب ، میزبان خاص بلبل پاکستان محترمہ بشریٰ رحمٰن ، مقررین میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ ، حکیم راحت نسیم سوہدروی ممبر نیشنل کونسل فار طب ، ممتاز صحافی مجیب الرحمٰن شامی ، جسٹس ناصرہ اقبال، سہیل وڑائچ ، ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ حکومت پنجاب ، ڈاکٹر عمران مرتضیٰ ،ڈاکٹر طلحہ شیروانی ، سید علی بخاری