کھلے آسمان تلے ہائی ویز پر موجود اربوں کی گندم خراب ہونے کا انکشاف


کراچی(رپورٹ/رفیق بشیر)
حالیہ بارشیں ، کھلے آسمان تلے ہائی ویز پر موجود اربوں کی گندم خراب ہونے کا انکشاف،مارچ میںفصل تیار ہوگئی تھی،سندھ حکومت نے خریداری پر پابندی عائد کردی اور خود بھی ایک ماہ تاخیر سے گندم خریدی، فلور ملز مالکان اینڈ ٹریڈرز کاکہناہےکہ صوبائی وزیر خوراک نہ اہل ہیں،یہ گوداموں میں جاتے ہیں نہ ان کوگندم کی پیداوار، کھپت کا علم ہے۔تفصیلات کےمطابق حالیہ بارش سے کھلے آسمان تلے موجود اربوں روپے مالیت کی گندم خراب ہوگئی،سندھ کے ہائی ویز پر محکمہ خورارک کی لاکھوں بوریاں کھلے آسمان تلے تاحال پڑی ہوئی ہیں اور کئی کئی جگہ پر موجود ان لاکھوں بوریوں کی حفاظت کا کوئی نظام نہیں ،بارش کے پانی میںبھیگنے کے بعد اس گندم سے بد بو بھی آنا شروع ہوگئی،مارچ میں گندم کی فصل تیار ہوگئی تھی لیکن سندھ حکومت نے گندم کی خریداری پابندی عائد کردی تھی اور خود بھی حکومت نے ایک ماہ کی تاخیر سے گندم کی خریداری کی جبکہ ہرسال کی طرح محکمہ موسمیات نے بارشوں کی بھی اطلاعات محکمہ خوراک کو دے دی تھی

تاہم محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کی خریداری کے بعد گندم کو محفوظ کرنے کا کوئی منظم نظام یا طریقہ کار،منصوبہ بندی نہیں کی گئی،جب بارش کا سلسلہ شروع ہوا تو اس وقت تک حکومت نے گندم کی خریداری شروع کرکے گندم کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی اور خریدی گئی گندم سڑک کنارے رکھ دی گئیں