ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سابق صوبائی صدر سندھ نوابزادہ امیر بخش بھٹو کو ہنگامی بنیاد پر اسلام آباد طلب کرلیا

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سابق صوبائی صدر سندھ نوابزادہ امیر بخش بھٹو کو ہنگامی بنیاد پر اسلام آباد طلب کرلیا سندھ کے اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی امیر بخش بھٹو کی وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات متوقع ہے زرائع کے مطابق بعض حلقوں کی طرف سے عندیہ دیا جارہا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے کے لیئے گورنر سندھ اندرونِ سندھ سے بنانے پر مشاورت جاری ہیں کیونکہ چند روز قبل سندھ پولیس کے روائیے کے باعث یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ سندھ پولیس جیالہ پولیس بن چکی ہے اور زرداری کی سندھ حکومت نے پولیس سمیت تمام ادارے یرغمال بنائے ہوئے ہیں اور سندھ کے تمام محکمے عوام کی فلاح و بہبوط خدمت کے لئے نہیں بلکہ پی پی کی سندھ حکومت کے ہاتھوں کی کٹھپوتلیاں بنے ہوئے ہیں پولیس سمیت ان تمام اداروں کو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کر کے جھوٹے مقدمات بناتی ہے اور عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھورا ہوا ہے زرائع کے مطابق کیپٹن صفدر اعوان کی گرفتاری پرسندھ پولیس کے روائیے کے بعد پیپلز پارٹی کو وفاق کی جانب سے تین روز قبل یہ واضع پیگام دے دیا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی ہٹ دہرمی اور بادشاہت کو ختم کرنے کے لیئے سندھ میں کیسی وقت بھی گورنر راج نافض کیا جا سکتا ہے جس کے بعد بلاول زرداری سمیت پوری پیپلز پارٹی پریشان ہے زرائع کے مطابق بعظ حلقوں اور قوتوں نے وزیراعظم عمران خان کو کہا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی سے نیمٹنے کیلئے عمران اسمائیل کو گورنر سندھ کے عہدہے سے ہٹا کر سابق وزیراعلی سندھ سردار ممتاز علی بھٹو یا پھر امیر بخش بھٹو کو گورنر سندھ بنایا جائے زدائع کے مطابق جس کے لیئے اسلام آباد میں پارٹی رہنمائو کے ساتھ اہم مٹینگیں اور صلح مشورے جاری ہیں