بلوچ اسٹوڈنس کونسل کا پیدل مارچ

عزیز سنگھور
روزنامہ آزادی، کوئٹہ

پاکستان میں روز اول سے یہ منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے کہ بلوچستان میں سردار تعلیم اور ترقی کے خلاف ہیں۔ سرداروں کی وجہ سے بلوچستان میں تعلیم کا فقدان ہے۔ سردار تعلیم کے فروغ دینے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ دوسری جانب حکومت یہ کھوکھلے دعوے بھی کرتی رہی کہ حکومت چاہتی ہے کہ بلوچستان میں دودھ کی نہریں بہیں۔ تعلیم عام ہوں۔ ہر غریب کا بچہ تعلیم یافتہ ہوں۔ وغیرہ وغیرہ کے جیسے نعرے لگاتے رہے۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں تمام سرداروں کو باکردار اور تعلیم دوست قرار دیا۔کیونکہ تمام کے تمام نواب اور سردار پرویز مشرف کی حکومت کے حصہ تھے۔تمام سرداروں کو کلین چٹ دے دی گئی۔ جبکہ تین سرداروں پر بلاوجہ تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔مشرف حکومت کا کہنا تھا کہ شہید نواب اکبر بگٹی، نواب خیربخش مری اور سردار عطااللہ مینگل بلوچستان میں ترقی کے خلاف ہیں۔
تین سرداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ بالآخر ایک فوجی آپریشن کا آغاز کیاگیا۔ نواب اکبر خان بگٹی سمیت سینکڑوں بلوچوں نے شہادت حاصل کرلی۔ ہزاروں سیاسی کارکن لاپتہ کردیئے گئے۔ جو آج تک لاپتہ ہیں۔ نواب خیربخش مری بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ جبکہ سردار عطااللہ مینگل اپنی صحت کی وجہ سے ایک عرصے سے سیاست سے کنارہ کش ہیں ۔ اب تو کوئی سردار نہیں ہے۔ اگر جو ہیں وہ سرکاری سردار ہیں۔ اور وہ حکومت کا حصہ بن چکے ہیں۔
اسرائیل کی ایک پالیسی ہے کہ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے اتنا پروپیگنڈہ کیا جائے کہ جھوٹ بھی سچ ثابت ہوں۔ لگتا ہے کہ ہماری سرکار بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ جھوٹ پھر بھی جھوٹ ہوتا ہے۔ ایک دن ثابت ہوجاتا ہے کہ سچ کچھ اور تھا۔ اس صورتحال میں شاعر نے کیا خوب کہا:
آسمانوں سے فرشتے جو اتارے جائیں
وہ بھی اس دور میں سچ بولیں تو مارے جائیں

آج بلوچوں کے خلاف سرکاری منفی پروپیگنڈہ کو بلوچ اسٹوڈنس کونسل ملتان نے پاش پاش کردیا۔ ان طالبعلموں نے اپنی سیاسی بصیرت سے یہ بات ثابت کی کہ تین سردار تعلیم اور ترقی کے خلاف نہیں تھے بلکہ ریاستی ادارے ہیں۔وہ بلوچ نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنس کونسل ملتان کی جانب سے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں بلوچستان کے طلبا کی اسکالر شپس کا خاتمہ، فیس وصولی پالیسیوں اور ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں کے طلباء کےلیے نشستوں کی عدم فراہمی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ طلبا کا پیدل لانگ مارچ ملتان سے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے۔ اس وقت وہ لاہور میں داخل ہوچکے ہیں اور تب سے پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ طالبعلم وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ پنجاب کے بلوچ وزیراعلیٰ نے پنجاب کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم بلوچستان کے طلبا کا مسئلہ حل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ جوکہ طالعبلموں نے یہ کہہ مسترد کیا تھا کہ وہ مسئلے کا مستقل حل چاہتے ہیں۔ جبکہ پنجاب حکومت بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں زیرتعلیم بلوچ طلبا کے تعلیمی اخراجات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طالبعلموں کا کہنا ہے کہ ان کے اخراجات کی ادائیگی کو نوٹیفیکیشن کے بجائے قانونی سازی کرکے باقاعدہ بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔ تاکہ ہرسال ان کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ نہ ہوسکے۔ قانون سازی کے بعد حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں گی۔ مگر اخراجات کی ادائیگی نہیں روکی جاسکے گی۔ جس سے آنے والے بلوچ طالبعلموں کو حصول تعلیم سے دشواری کا سامنا کرنا نہیں پڑیگا۔ یہی اس مسئلہ کا مستقل حل ہے۔
اس سے قبل یہ طلبااپنے مطالبات کو منوانے کی خاطر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی گیٹ کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر 40 دن سے دھرنا دے رہے تھے۔ لانگ مارچ میں شریک بلوچ طلبا نے کہا کہ ہم نے یہ اقدام انتہائی مجبوری میں اٹھایا ہے۔ تاکہ حکومت وقت بیدار ہو۔ ان کے مارچ کے مطالبات میں پنجاب بھرکے جامعات میں بلوچستان کے طلبا کی تمام سیٹوں کی دوبارہ بحالی بھی شامل ہے.
مختص نشستوں اور اسکالرشپس کے خاتمے سے بلوچستان کے طالب علموں میں مایوسی کی لہر دوڑگئی ہے۔کیونکہ بلوچستان کی 60 فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر طلبا اپنا تعلیمی سلسلہ ادھورا چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔
اسکالرشپ کے خاتمے کے بعد بلوچستان کے طلبا میں بے چینی کی لہر دوڑگئی ہے۔ بلکہ وہاں زیر تعلیم غریب طلبا اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔ کیونکہ وہ یونیورسٹی فیسیں اور ہاسٹل کا کرایہ اداکرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ سارے کے سارے بچوں کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے۔
بلوچستان پسماندہ صوبہ ہیں جہاں تعلیمی مراکز کی کمی ہے ملک کے دیگر علاقوں میں ان کے لیے تعلیم کے دروازے بند کرنا انہیں اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔احتجاج میں شامل طلبا نہایت پسماندہ علاقوں سےتعلق رکھتے ہیں جہاں تعلیمی مراکز کی کمی ہے۔
بلوچستان میں سرکاری ریکارڈ کےمطابق شرحِ خواندگی صوبوں کے نسبت کم ہے۔ تعلیمی اداروں میں نہ دیواریں ہیں، نہ پینے کا پانی اور نہ تعلیمی اداروں کو ملنے والی دیگر ضروریات موجود ہیں۔ اسپورٹس اور دیگر سرگرمیوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔
صوبے کے 36 فیصد اسکولز میں پانی کا مسئلہ ہے۔ 56 فی‌صد اسکولز میں بجلی کی سہولت موجود نہیں اور 15 فیصداسکولز بالکل بند پڑے ہیں۔
صوبے میں نظامِ تعلیم بگڑا ہوا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مفت تعلیم فراہم کر ے اور یکساں نظام تعلیم رائج کرکے تعلیم کو عام کیا جائے۔ تعلیم ایک اہم شعبہ ہے اس ضمن میں عجلت میں کیے گئے فیصلوں کے سنگین تنائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔
یہ بلوچوں کا پہلا پیدل مارچ نہیں ہے۔ اس سے قبل لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کوئٹہ سے اسلام آباد پیدل مارچ کیاگیاتھا۔ ماما قدیر بلوچ کی قیادت میں لانگ مارچ کے شرکا پہلے پیدل کراچی پہنچے۔ کراچی میں چند روز قیام کے بعد اسلام آباد کے لیے مارچ شروع کیاگیا۔ اس مارچ میں خواتین کے علاوہ ایک دس سالہ بچہ علی حیدر بلوچ بھی شامل تھا۔ جس نے اپنے والد محمد رمضان کی بازیابی کے لیے اس مارچ میں شرکت کی تھی۔
کوئٹہ سے براستہ کراچی، اسلام آباد تک مارچ میں شریک افراد کو لگ بھگ چار مہینے لگے تھے۔ یہ دنیا کی سب سے طویل مارچ تھا۔ جس نے چینی مارکسی عسکری و سیاسی رہنما، ماؤزے تنگ اور بھارت کے سیاسی اور آزادی کی تحریک کے اہم ترین کردار موہن داس گاندھی کے پیدل مارچ کا ریکارڈ توڑدیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے تمام بلوچ سیاسی لاپتہ افراد کی بازیابی تو کجا بلکہ لانگ مارچ کے شرکا کے خاندان سے تعلق رکھنے والوں کو بھی نہیں چھوڑاگیا۔تاہم اس مارچ نے بلوچ ایشو کو دنیا کے سامنے اجاگر کروایا۔ آج بلوچوں سے زیادتی اور ناانصافی کے حوالے سے دنیا آگاہ ہیں۔ جس کی بنیاد پر اصل حکمرانوں نے اس تاثر کو مٹانے کے لئے سینیٹ کی چیئرمین شپ پر ایک بلوچ کو منتخب کروادیا۔ اسی طرح پنجاب میں ایک بزدار بلوچ کو وزیراعلیٰ اور بلوچستان میں ایک جدگال بلوچ کو وزیراعلیٰ مقرر کیاگیا۔ یہ تبادلے اور تقرریاں دراصل دنیا کو دکھانا ہے کہ یہاں بلوچوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ جبکہ بلوچوں کو مساوی حقوق حاصل ہوناتواپنی جگہ بلکہ ان کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے دور رکھنے کی پالیساں بنائی جارہی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کا یہ مارچ سے نتائج کیا نکلتے ہیں۔ لیکن بات نتائج نکلنے کی نہیں بلکہ ہار میں بھی جیت ہوتی ہے۔ بلوچ معاشرے میں ایک سیاسی شعور بیدار ہوچکا ہے۔ یہ سیاسی شعور ریاست کے جبروستم نے پیدا کیا ہے۔ ہر نوجوان باشعور ہوچکا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کے مسائل کا حل قلم اور کتاب میں ہی ہے۔ تعلیم قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔