سیپا کی کے الیکٹرک، لکی سیمنٹ کو ایک ہفتے کی مہلت

کراچی(کامرس رپورٹر) ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ (سیپا) کے ڈائریکٹرجنرل نعیم احمد مغل نے کے الیکٹرک اور لکی سیمنٹ کی انتظامیہ کو ایک ہفتے کے اندر اندر اپنے پیداواری اور رسدی امور میں ماحولیاتی معاملات کو بہتر بنانے کا وقت دیا ہے بصورت دیگر دونوں اداروں کے خلاف سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014 کے تحت ضابطے کی کارروائی کی جائے گی۔ اپنے دفتر میں دونوں اداروں کی انتظامیہ کی علیحدہ علیحدہ ذاتی شنوائی کے موقع پر ڈی جی سیپا نے فضائی آلودگی خاص طور پر بھاری مقدار میں راکھ کے فضاء میں اڑنے کی روک تھام کے لیے مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے لیے گئے غیر تسلی بخش اقدامات پر برہمی کا اظہار کیا اور انہیں اپنے ماحولیاتی معاملات ایک ہفتے کے اندر درستگی کی سمت موڑنے کی ہدایات دیں۔ یاد رہے کہ ماحولیاتی معیارات پر غیر تسلی بخش عمل کرنے پر کے الیکٹرک اور لکی سیمنٹ کی انتظامیہ کو ذاتی شنوائی کے لیے ڈی جی سیپا نے اپنے دفتر بروز بدھ طلب کیا تھا تاکہ کسی مزید قانونی کارروائی سے قبل انہیں دلائل اور شواہد کی مدد سے اپنے دفاع کا پورا موقع دیا جائے گا۔واضح رہے کہ حکومت سندھ کے ترجمان اور وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر سیپا کی جانب سے پورے صوبے میں آلودگی کی روک تھام کے لیے بھرپور اقدامات لیے جارہے ہیں۔ دونوں کمپنیوں کی اعلی انتظامیہ کو تین روز قبل جاری شدہ علیحدہ علیحدہ نوٹسز میں کہا گیا تھا کہ سیپا کی مانیٹرنگ ٹیم کے

مطابق دونوں کمپنیوں کی پیداواری اور رسدی سرگرمیوں کے دوران ماحولیاتی تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جارہا ہے اور کوئلے کے ذرات، دھویں اور دیگر اخراج کی کافی مقدار ہوا میں شامل ہوکر آس پاس کی فضاء کو آلودہ کررہے ہیں۔ نوٹسز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ٹھوس فضلے کے مناسب بندوبست اور فضائی اخراج کی روک تھام کے لیے دونوں کمپنیوں کے اقدامات ناکافی دکھائی دیتے ہیں جو سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014اور اس کے زیریں قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014 کے تحت اگر کسی سرگرمی کے دوران ماحول کو کسی بھی قسم کے نقصان کا ارتکاب ہو چکا ہو، ہورہا ہو یا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں کسی قانونی کارروائی سے قبل اس سرگرمی کے ذمہ دار فرد کواپنا دفاع کرنے کے لیے ذاتی شنوائی کا موقع دیا جاتا ہے۔