سندھ میں اس سال گندم کی زیادہ پیدوار ہوئی۔ ہماری پیداوار 26 ملین ٹن تھی۔ ۔ گندم گئی کہاں۔

وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ

پورٹ قاسم کو جو زمین سندھ حکومت نے بیچی ہے وہ اس کی ہے ۔
یہ زمین ان۔کی نہیں ہے۔
ان کو کوئی بھی چیز سمجھنا نہیں ہے۔
دوسال سے اوپر ہوگئے ہیں۔
دوسال میں انہوں نے ایک روپے کا اضافہ نہیں کیا۔
ان سے باتیں جتنی مرضی کرا لو۔
مہنگائی اللہ معاف کرے لوگوں پر ظلم ہورہا ہے۔
چینی مہنگی ہوکر بھی 55 روپے تھی۔
اب 105 اور 110 روپے ہوگی
کہتے ہیں گھبرانا نہیں۔
غریب آدمی گھبرائے نہیں تو کیا کرے۔
جو ہم ایک سال قبل گندم ایکسپورٹ ررہے تھے۔
ہم نے گندم کی پرائس بڑھائی۔
گندم ، چینی کی قیمت بڑھ گئی تو کہتے ہیں سندھ حکومت۔
ہم تمہیں بتاتے ہیں سندھ حکومت کیسے چلتی ہے۔
سندھ میں اس سال گندم کی زیادہ پیدوار ہوئی۔
ہماری پیداوار 26 ملین ٹن تھی۔
جولائی میں آپ بھی تھے۔
گندم گئی کہاں۔
جون کے مہینے میں کہتے تھے کہ ریلیز کردو۔
چھ ملین ٹن گندم کہاں گئی۔
گندم آدمی رکھ کر کیا کرے گا۔
مصنوعی گندم بحران پیدا کیا گیا
پنجاب سے گندم آتی ہے۔
اب تو پنجاب سے بھی آگے نکل گئی ہے۔
یوکرائن کی گندم عوام کھا نہیں سکیں گے۔
دنیا بھر میں قیمتیں نیچے گئی ادھر بڑھ گئی۔
ان سے امید رکھنا بے کار ہے۔
وفاقی حکومت قابل نہیں ہے۔
ہمارا آئین اور قانون موجود ہے۔
چھ ارب روپے صوبے کے کاٹ لیے۔
ہم آپ کے لیے ٹیکس کلکٹ نہیں کرسکتے ۔
جب ہم نے انکار کیا تو یہ درست ہوگئے۔
اس کے علاؤہ ان کو زبان ہی سمجھ نہیں آتی ہے۔
18 اکتوبر 2007 شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ائی۔
ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کےلیے جارہی تھی۔
دھماکوں میں کارکنان شہید ہوئے۔
ہمارے لیے یہ بہت دکھ گھڑی تھی۔
ہر سال ہم 18 اکتوبر کو جلسہ کرتے ہیں
پی ڈی ایم نے کہا کہ ہم بھی شہداء کےلیے جلسہ کرنا چاہتے ہیں۔
ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔
اس جلسے کے بعد گھبراہٹ چھا گئج۔
پہلے تو تھانوں میں گئے ۔
پھر پولیس کو پریشر دینا شروع کیا۔
جب پولیس نے اپنا کردار ادا کیا۔
پھر جعلی مقدمہ بنایا۔
پی ٹی آئی والے کئی بار شور کرکے گئے
جعلی مقدمہ بنانا قائد اعظم کے مزار کو گواہ بنا کر
ایک مفرور آدمی کے زریعے جعلی مقدمہ بنایا۔
سندھ کی دھرتی اپنے مہمانوں کا سندھ مشہور ہے مہمان نوازی کا۔
ہمارے مہمان آئے ہوئے تھے
ایک غیر مہذب طریقے سے گرفتار کیا۔
پوری سندھ دھرتی شرمندہ ہے۔
اس کو انہوں نے استعمال کیا۔
دو دنوں میں بہت کچھ ہوا۔
بہت چیزیں میں نہیں بتا سکتا ہوں۔
کہا گیا حکومت ختم ہو جائے گی۔
ہمارے مہمانوں سے بڑھ کر ہماری حکومت نہیں۔
چیف آف آرمی اسٹاف نے بھی اس پر نوٹس لیا ہے۔
پولیس والے کے ساتھ کس طرح بدتمیزی کی گئی۔
رات کو ایک ڈیڑھ بجے کہا گیا کہ صبح تک مقدمہ درج نہ ہوا تو ایسی کی تیسی کریں گے۔
ایسا لگا سندھ کالونی ہے۔
اس کی انکوائری ہوگی۔
ان کو اپنی عقل نہیں ہے پتا نہیں کیا کیا بیانات دیتے ہیں۔
جو باہر آنے والی گندم پر شادیانے بجائے تو اس کی عقل کو میں کیا کہہ سکتا ہوں
مجھےبلاول بھٹو نے ہدایت دی کی جو لوگ ہیں ان کو بے نقاب کریں گے۔
جب دھرتی تک بات آئے گی تو ہم کھڑے ہوں گے۔
جو اس کی حمایت نہیں کرے گا وہ غلطی کرے گا۔
ان کی دھرتی سے محبت پر شک ہے۔
شہر یار شر ایک خص لاکھوں کے برابر ہے۔