تحریک انصاف کے شہر یار شر نے پارٹی سے بغاوت کردی

اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کیا۔

سندھ ہماری ماں ہے۔

قرار داد کی حمایت کرتے ہیں۔

ہمارے ضلع میں تباہی ہوئی۔

ہم سندھ دھرتی کے پانی کی حمایت کریں گے۔

مجھے پارٹی کی جانب سے بیان واپس لینے کا پریشر ڈالا جائے گا۔
میرا یہ موقف ہے میں سندھ کا بیٹا ہوں۔
میں یہ واپس نہیں لوں گا۔
———————————————————–

اسماعیل راہو
آج جو ہنگامہ کیا گیا تو ان کو معلوم تھا کہ یہاں کیا قرار داد آئے گی۔
سندھ کے اختیارات چھیننے گئے۔
بارشوں سے نقصان ہوا ہے۔
پہلے ہی بتا دیا تھا کہ نقصان ہوگا۔
ہمارے نمائندے اپنے اپنے علاقوں میں موجد تھے۔
کہیں ہم راشن دے رہے تھے۔
ہمارے لوگ عوام کے ساتھ تھے۔
ہمارے چیئرمین دا روز تک طبیعت خراب ہونے کے باوجود نکلے۔
وزیر اعظم آئے ہی نہیں۔
وزیر اعظم جب کراچی آئے تو کسان انتطار کررہے تھے۔
کسی اضلاع کسی تحصیل کا دورہ کرلیتے ۔
لیکن وزیر اعظم نے ایک لفظ تک نہیں بولا۔
حیرانگی ہے وزیر اعظم اور اتحادیوں نے ایک بات نہیں کی۔
————————————————–
عبد الباری پتافی
اس ایوان میں پاکستان کی قرارداد پیش ہوئی تھی
جی ایم سید نے قرار داد پیش کی تھی۔
افسوس ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔
ہم بلاول کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمیشہ سازشوں کے خلاف کھڑے ہوئے۔
انہوں نے ثابت کیا کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی زنجیر ہے۔
بلاول بھٹو پاکستان کی لیڈر شپ ہیں۔
آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ وفاق کی ملکیت ہے۔
یہ صوبے کی ملکیت ہے۔
بارہ ناٹیکل میل تک صوبے کی حدود ہے۔
یہ سندھ حکومت کا حصہ ہے۔
ہمیں مختلف دھمکیاں دی جاتی ہے۔
ہم اس کی پروا نہیں ہے۔
روزانہ نئے روپ سے سندھ پر حملہ کیا جاتا ہے۔
یہ وہی سندھ دھرتی ہے
جس نے پاکستان کی قرارداد پیش کی۔
آج اسی پاکستان کی وفاق سندھ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔
آرڈیننس کو مسترد کرتا ہوں۔
———————————–
رفیق بھابھن جی ڈی اے

یہاں ٹڈی دل نے فصلیں تباہ کردی۔
اسپتالوں میں ادویات نہیں ہے۔
ایک قرارداد اس پر بھی لیکر ائیں۔
سندھ کو برباد کرنے کا ٹھیکہ صرف سندھ حکومت کے پاس ہے۔
تیرہ سال میں ایک ضلع بتا دیں جہاں تمام سہولیات موجود ہیں۔
سندھ تباہ ہورہا ہے۔
یہاں قانون اور قرار دادوں سے چھتیں بھر دی ہے۔
لیکن عمل کہیں نہیں ہورہا ہے
—————-
سردار شاہ صوبائی وزیر
یہ قرارداد سندھ کی ہے
یہ ہماری دھرتی اور ہماری قوم کی ہے۔
اس ملک میں جو اقتدار میں ہیں وہ لوگ وہ نہیں ہیں جن کو عوام نے اقتدار دیا تھا۔
یہ جزیرہ صرف جزیرے نہیں ہیں
سندھ دھرتی کے ماتھے کے جھومر ہیں ۔