ایک پیج پر۔۔

تحریر =ناظم علی عطاری سعودی عرب

حکومت و فوج ایک پیج پر ہیں
اپوزیشن جماعتیں اور حکومت ایک پیج پر ہیں
ریاست کے ادارے ایک پیچ پر ہیں

یہ جملے آپ نے ہر دور میں سنے ہونگے
مگر زمینی حقائق کے ساتھ ان کو سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کی
ابھی سمجھا دیتا ہوں
کہ مثال کے طور پر کوئی سوال کرے کہ اس وقت ایک پیج کیا ہے
تو ستر سالہ تاریخ میں ایک پیج کا موقعہ پہلی بار آیا ہے وہ صرف کنز العلماء ہیں
ورنہ مفادات کی پیکنگ والا ہر پیج دھوکہ فراڈ ہوتا ہے
اپوزیشن و حکومت یا فوج و حکومت اور ادارے کبھی ایک پیج پر نہیں رہے


مثلاً دیگر ممالک کے سربراہ مملکت دور کی بات ان کا چپڑاسی بھی پاکستان آتا ہے تو جب تک وہ وزیر اعظم صدر اپوزیشن لیڈر آرمی چیف چیرمین سینٹ سپیکر قومی اسمبلی سے الگ الگ ملاقاتیں نہ کر لے تو اس کی تسلی ہی نہیں ہوتی کیونکہ ہر آنے والے کو ڈر ہی رہتا ہے کہ پیچھے سے ان بے اتفاقوں میں سے کوئی مکر ہی نہ جائے ورنہ ایسا کسی کمزور سے کمزور ملک میں بھی نہیں ہوتا
توجناب ایک پیج کیسا؟
بادالنظر میں چیرمین سینٹ یا سپیکر قومی اسمبلی کے پاس وزیراعظم سے زیادہ اختیارات ہیں
صدر دیکھنے کو فارغ سا لگتا ہے مگر مسلح افواج کا کمانڈر انچیف اور وزیراعظم کا مجازی سربراہ ہوتا ہے اس کے بغیر وزیراعظم ایسا ہی ہے جیسے شوہر کے بغیر بیوی

آرمی چیف کے پاس ایک الگ ریاست ہے یعنی الگ احتساب الگ سے عدالتی نظام ہے ان کے علاقے میں جانے کے لیے بھی الگ سے ویزہ نما امیگریشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے
ججز کی الگ دنیا ہے باقی بھی اپنی اپنی ناموس کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں
وزیراعظم کو ملنا آسان ہے مگر ہوم سیکرٹری سے ملنا مشکل ہے یعنی ان سب کی باپ بیوروکریسی ہے
صوبے اپنی الگ سلطنت بنائے ہوئے ہیں

مطلب ایک سازش کے تحت 73 کے آئین کی چیر پھاڑ کر کے
ایک پیج والا قصہ ہی ختم کر دیا گیا
اور عوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا
کہاں ہے ایک پیج ۔۔۔؟
اب آتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب پر ہی آکر یہ ریکارڈ کیوں ٹوٹا کہ اس کو اندر رکھا جائے اس کو باہر نہ آنے دیا جائے اس پر جیل کی زندگی بھی تنگ کر دی جائے ہو سکے تو اس پر 295 کا اطلاق کیا جائے
ان ارادوں کو لیکر آج حکومت اپوزیشن ہر ادارہ ہر سیاسی و مزہبی جماعت اور ہر مسلکی و مزہبی دشمن ایک پیج پر کیوں آئے کیوں کہ کنز العلماء مفکر اسلام کا مضبوط ترین بیانیہ اقوام عالم اور خاص کر حکومتی اپوزیشن سیاسی و مذہبی مسلکی انتظامی عدالتی ڈاکوؤں کے لیے خطرہ ہے اسی خطرے نے تاریخ میں پہلی بار طاقت کے علمبرداروں کو ایک پیج پے آنے پر مجبور کر دیا
جس دن اس پیج کو پاؤں کے نیچے روند کر وقت کا امام باہر نکلے گا تو یہ فتح معمولی نہیں ہوگی بلکہ یہ عظیم فاتح ٹھہرے گا
ان شاءاللہ