سندھ اسمبلی-سندھ پولیس کو خراج تحسین پیش کرنےکی ایک قراردادمتفقہ طور پر منظور

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے بدھ کوپیپلزپارٹی رکن ڈاکٹر سہراب سرکی کی ایک قرارداد جو سندھ پولیس کو خراج تحسین پیش کرنے سے متعلق تھی متفقہ طور پر منظور کرلی۔قراراداد میں18 اکتوبر کو آئی جی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا گیا ڈاکٹر سہراب سرکی کا کہنا تھا کہ آئی جی کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں پاکستان کے ساتھ درست نہیں ہیں۔یہ ملک کس طرح چلے گا۔ہم نے پاکستان کے لیے ووٹ دیا۔ہم اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی جس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس برخاست کردیا گیا۔

——————
کراچی(اسٹاف رپورٹر)ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کے جزائر پر قابض ہونے کی کوشش کررہی ہے ۔صدارتی آرڈی ننس سندھ کے عوام کے خلاف ہے پیپلزپارٹی آئین اور پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے ۔سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں کمی نہیں کی جارہی ہے ۔پولیس کے غیرسیاسی ہونے کے حامی ہیں۔پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پچھلے 48گھنٹوں میں جوبیانات دیئے ہیں وہ ظاہرکرتے ہیں کہ پولیس کواستعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔وہ منگل کو سندھ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ گلشن اقبا ل میں ہونے والے دھماکے کے حوالے سے پولیس اور رینجرز حکام تحقیقات کررہے ہیں ۔ابتدائی تحقیقات میں لگ رہاہے کہ یہ گیس سلینڈر کا دھماکہ ہے ۔انہوںنے کہا کہ آج سندھ اسمبلی میں تاریخی دن ہے۔سندھ کے عوام کے سامنے آج یہ عیاں ہوجائیگا کہ کون کون سی سیاسی جماعتیں سندھ کے عوام، مٹی اورجزیروں کے ساتھ کھڑاہے۔صدارتی آرڈیننس سندھ کے عوام کے خلاف ہے۔ماہی گیروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ایوان میں پیپلزپارٹی ارکان اس بات کااظہارکریں گے کہ صدارتی آرڈیننس آئین کے آرٹیکل ایک 97,172اور239کے خلاف ہے۔آج متحدہ کے نمائندوں کابھی امتحان ہے ۔دیکھتے ہیں کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں یا عمران خان کے ساتھ ہیں ۔ہماری قرارداد ثبوت ہے کہ ہم آئین کی سربلندی پریقین رکھتے ہیں۔پی ٹی آئی اورمتحدہ وفاقی حکومت کاحصہ ہیں۔اسی حکومت نے غیرآئینی آرڈیننس جاری کیا ہے۔ہم عوام کے حقوق کوآئینی تحفظ فراہم کرنے والے تمام اقدامات اٹھائیں گے۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے آئی جی سندھ اور چیف سیکرٹری دھمکیاں دی گئیں ۔اس پولیس والے کو بھی دھمکیاں دی گئیں جو کہہ رہا تھا کہ میں قانونی کارروائی کرتا ہوں ۔انہوںنے کہا کہ پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ نے آئی جی سندھ کے گھر جاکر تمام کو چھٹی کی درخواستیں واپس لینے کی اپیل کی جو انہوںنے قبول کرلی ۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ رینجرز کے اختیارات میں کمی نہیں کی جارہی ہے۔
==============
کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی محمد حسین نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے پی ڈی ایم کے جلسے میں اردو زبان کے خلا ف بات کرکے قائد اعظم کے فرمان کی نفی کی ہے ۔ان کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے اب تک یہ نہیں بتایا ہے کہ آئی جی کے ساتھ ہوا کیا ہے ۔جزائر کے معاملے پرقانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد موقف اختیار کریںگے ۔بدھ کو سندھ اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محمد حسین نے کہا کہ کراچی میں ایک شخص نے بلوچستان سے آکر نفرت انگیز گفتگو کی ہے ،جس پر پی ڈی ایم کی دیگر نے جماعتوں نے بھی پراسرار خاموشی اختیار کی ہے ۔محمود اچکزئی کی تقریر کے حوالے سے سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی ہے ۔اسپیکر سے درخواست کریںگے کہ وہ اس قرارداد کو ایجنڈے میں شامل کریں ۔ہماری کوشش ہوگی کہ تمام جماعتوں کے ارکان اس کی حمایت کریں ۔انہوںنے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے قائد اعظم کے فرمان کی بھی نفی کی ہے ۔جو س طرح کی بات کرتا ہے کہ وہ پاکستان دشمن ہے ۔محمود خان اچکزئی کو فوری گرفتار کیا جائے ۔محمد حسین نے کہا کہ میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ پی ڈی ایم کے جلسے میں ہونے والے سلوک کی مذمت کرتے ہیں ۔تمام جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے وررکز کی تربیت کریں ۔جزائر کے حوالے سے وفاقی حکومت کے آرڈی ننس پر بات کرتے ہوئے محمد حسین نے کہا کہ جزائر کا معاملہ اور وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان ہے ۔ہم اپنے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد اس پر موقف اختیار کریںگے ۔انہوںنے کہا کہ آئی جی سندھ کے ساتھ کیا ہوا ہے اس حوالے سے ابھی کوئی بات واضح نہیں ہے ۔ہمیں سب کچھ میڈیا کے ذریعہ معلوم ہوا ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے بھی ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ آئی جی کے ساتھ کیا ہوا ۔پولیس افسران کی چھٹی کی درخواستوں میں مس ہینڈل کا تو لکھا گیا ہے لیکن یہ نہیں لکھا کہ کس نے یہ سب کیا۔
—————
کراچی: سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہریار شر نے پارٹی مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے جزائر سے متعلق حکومت سندھ کی قرار داد کی حمایت کردی۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شہر یار شرنے کہا کہ سندھ کا بیٹا ہوں اورجزائر سے متعلق حکومتی قرار داد کی حمایت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پرپارٹی کی جانب سے بیان واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا لیکن اپنا مؤقف واپس نہیں لوں گا۔

پی ٹی آئی رہنما شہر یارشر کی جانب سے جب حکومت سندھ کی قرار داد کی حمایت کی گئی تو حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کا خیرمقدم کیا-وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ اور پی پی کے اراکین اسمبلی نے قرار داد کی حمایت پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی شدید شور شرابہ ہوا اوراپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا۔ اپوزیشن اراکین اسپیکر ڈائس کے سامنے اکھٹے ہو گئے اور ایوان میں شرم کرو حیا کرو، سیلاب متاثرین کا خیال کرو کے نعرے لگنے لگے۔

اپوزیشن کے احتجاج پر حکومتی ارکان بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوئے تو اسپیکر آغا سراج درانی نے انہیں بیٹھنے کی ہدایت کی۔سندھ اسمبلی میں جزائر سے متعلق صدارتی آرڈی ننس کے خلاف صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کردہ قرار داد پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

ایم کیوایم پاکستان کے رہنما کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ اردو سے متعلق پی ڈی ایم کے جلسے میں کی گئی جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

فنکشنل مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے اس موقع پر کہا کہ پی پی نے سندھ کو تقسیم کیا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلزپارٹی حکومت نے ایم کیوایم کے ساتھ مل کر سندھ کی زمینوں کے معاہدے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کو پتہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں پاس ہونے والی قرارداد کی کتنی اہمیت ہے؟

نصرت سحرعباسی نے کہا کہ فنکشنل لیگ نے زرداری حکومت میں بھی آواز اٹھائی تھی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ
وزیراعلیٰ سندھ بتائیں کہ صوبے میں ہونے والے معاملات کا ذمہ دار کون ہے؟ نصرت سحرعباسی کا کہنا تھا کہ آپ نے آئی جی سندھ کے معاملے پر کل پریس کانفرنس میں بات کیوں نہیں؟