ڈرائیور کی خودسوزی، سیکرٹری ایکسائز نے چھاپے مار ٹیم کو نوکری سے برخاستگی کے شوکاز نوٹس جاری

کراچی (اسد ابن حسن) سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عبدالحلیم شیخ نے 8ملازمین پر مشتمل چھاپہ مار ٹیم کو شوکاز نوٹسز جاری کردیئے ہیں کہ کیوں نہ ان کو نوکری سے برخاست کردیا جائے کیونکہ ان کی وجہ سے ایک آئل ٹینکر ڈرائیور نے خودسوزی کرکے اپنی جان دے دی۔ تفصیلات کے مطابق سکرنڈ ایکسائز آفس میں تعینات ایک ٹیم جس کا سربراہ ایکسائز انسپکٹر آصف علی لاکھو تھا جبکہ ممبران میں کانسٹیبلز شفیع محمد ملاح، صحبت خان ڈنو، محمد سائل کیریو، معشوق علی چانڈیو، اختر سولنگی، غلام مصطفیٰ بابر اور محمد بچل کلہوڑو شامل تھے، نے گزشتہ ہفتہ 10 اکتوبر کو مبینہ طور پر ایک آئل ٹینکر کو روکا، اس کے ڈرائیور مطیع الرحمان کو باہر نکال کر گالیاں دیں اور زدوکوب کیا جس سے دلبرداشتہ ہوکر اس نے پٹرول چھڑک کر خودکشی کی کوشش کی۔ اس کوشش میں وہ بری طرح جھلس گیا اور چھ روز تک موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گیا۔ پوری ٹیم کو 14 اکتوبر کو معطل کردیا گیا تھا۔ متوفی مطیع الرحمان نے اپنے ابتدائی بیان میں انکشاف کیا تھا کہ نہ صرف کو مغلظات دی گئیں بلکہ تشدد بھی کیا گیا اور اس سے بھاری رقم بھی چھین لی گئی جس کے بعد اس ٹیم کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے اس نے یہ انتہائی قدم اُٹھایا۔ سیکرٹری کے یلٹر میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ وہ

سات یوم یعنی 23 اکتوبر تک اپنی صفائی میں تحریری یا زبانی بیان پیش کردیں کیونکہ مدعی کے بیان کے بعد انکوائری کمیٹی بنانے کی ضرورت نہیں اور ملازمین کو سندھ سرونٹ رولز کے رول 4-A کے سب رول 3 کے تحت ان کے خلاف نوکری سے برخواستگی کی کارروائی ہوسکتی ہے