میر شکیل الرحمان بے قصور ، سچ چھپایا نہیں جاسکتا، مقررین

ایڈیٹر انچیف جنگ جیو گروپ میر شکیل الرحمان کی نیب کے ہاتھوں غیر قانونی گرفتاری کیخلاف جمعہ کے روز بھی کراچی، لاہور،پشاور اور راولپنڈی سمیت کئی چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا، اس موقع پر صحافتی تنظیموں کے عہدیداروںسینئر صحافیوں ، سیاسی رہنمائوں ،وکلا، تاجروں، سول سوسائٹی ، جنگ ، جیو ، دی نیوز اور آواز کے کارکنوں سمیت مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی مذمت کی اور انہیں فوری طور پر رہا کرنے کامطالبہ کیا ، احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئےمقررین نے کہا کہ میر شکیل الرحمان بے قصور ہیں اور سچ کبھی بھی چھپایا نہیں جا سکتا،

دوسری جانبکراچی میں صحافتی تنظیموں، جنگ جیو ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام میرشکیل الرحمان رہائی احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی سماجی رہنما سندھ بلوچستان سردار منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ بابائے صحافت کے فرزند اور جدید صحافت کے بانی میرشکیل الرحمان کو فوری رہا کیا جائے، جنگ اور جیو نے ہمیشہ مظلوموں اور بے کسوں کی رہنمائی کی ہے، حکومت حق اور سچ کو عام ہونے سے نہ روکے، اہلیان سندھ و بلوچستان جنگ جیو کے صحافیوں اور کارکنوں کے ساتھ ہیں، اس موقع پر سینئر صحافی، سیکرٹری جنرل ایپنک شکیل یامین کانگا، سینئر وائس چیئرمین کراچی ایپنک رانا محمد یوسف اور جنرل سیکرٹری دی نیوز ایمپلائز یونین سی بی اے دارا ظفر نے بھی خطاب کیا۔

کیمپ میں مسلم لیگ ن سندھ کے نائب صدر اقبال خاکسار، سید ارشاد بخاری اور جاوید پریس یونین کے جوائنٹ سیکرٹری منظور احمد ہزاروی بھی موجود تھے۔ سردار منظور کاکڑ نے کہا کہ جنگ گروپ کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ اس نے قیام پاکستان سے اردو کا ایک بڑا اخبار شائع کیا جس کی سچائی اور حق گوئی پر سب کو یقین ہے، آج میر شکیل الرحمان حق اور سچ گویائی پر ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ میرشکیل الرحمان نے اس ادارے کو جدت دی اور وہ بلاشبہ جدید میڈیا کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دیگر مقررین نے کہا کہ اس وقت پاکستان اپنی بقا اور سالمیت کی جنگ لڑ رہا ہے، جنگ اخبار پاکستان بننے سے پہلے سے شائع ہورہا ہے اس کی خبروں کی سچائی پر اس ملک کے ہی نہیں بیرون ملک میں بسنے والے پاکستانی بھی یقین کرتے ہیں اور یہی چیز حکومت کو برداشت نہیں ہورہی کہ حق اور سچ پاکستانیوں کو کیوں بتایا جارہا ہے۔
———–Jang—-report—-