گندم/آٹے کے بحران کے سبب لاکھوں کاشتکار خسارے میں

اسلام آباد (مہتاب حیدر) گندم/آٹے کے بحران کے سبب لاکھوں کاشتکار خسارے میں ہیں۔ اس حوالے سے حکومت گندم کی سپورٹ قیمت 1700 روپے فی من مقرر کرنے پر غور کررہی ہے۔ جس کا فیصلہ آئندہ ہفتے ای سی سی اجلاس میں ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق، لاکھوں کاشت کاروں کو گندم / آٹے کے بحران کی وجہ سے خسارے کا سامنا ہے کیوں کہ حکومت 62 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم ، 1400 روپے فی ٹن کے حساب سے لے رہی ہے۔ حالاں کہ اتنی رقم صرف کاشت کاری میں لگ جاتی ہے۔ اب حکومت مجبور ہے کہ وہ غیرملکی زرمبادلہ کا استعمال کرے اور اربوں کی سبسڈی سے 16 لاکھ ٹن گندم درآمد کرے۔فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے عالمی مارکیٹ اور یوکرائن میں گندم کی قیمت 180 ڈالرز فی ٹن سے بڑھ کر 235 ڈالرز فی ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ جب کہ کراچی گندم پہنچنے پر اس کی قیمت 280 ڈالرز فی ٹن سے کم نہیں رہے گی۔ اس ضمن میں صوبہ پنجاب اور سندھ کا کردار مسائل کا باعث رہا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اب مختلف طریقہ کار پر غور کررہی ہے تاکہ گندم کی سپورٹ قیمت 1700 روپے فی ٹن تک کی جاسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ

گندم کی سپورٹ قیمت کا تخمینہ 1400 روپے فی ٹن تک ہے۔
—-jang—-report—–