اسکرین پر خواتین کو بولڈ دکھانا خواتین کی تذلیل ہے: حمزہ علی عباسی

شوبز انڈسٹری سے عارضی کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد واپسی کا عندیہ دینے والے حمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ اسکرین پر خواتین کو عریاں یا بولڈ دکھانا آرٹ نہیں بلکہ اُن کی تضحیک کرنا ہے۔

اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ’یہ میری ذاتی رائے ہے کہ اسکرین پر خواتین کو بولڈ اور نیم عریاں انداز میں دکھانا ان کی تذلیل ہے اور اسے کسی طرح آرٹ نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی یہ عمل مذہب اور سیکولرزم میں قابل قبول ہے
خیال رہے کہ حمزہ علی عباسی اس سے قبل بھی فلموں میں آئٹم سانگس کی مخالفت کرچکے ہیں جس پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

اب دوبارہ انہوں نے آئٹم نمبرز پر اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے، حمزہ عباسی نے آئٹم سونگ کے حامیوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی فتوحات پر مبنی مقبول ترین تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ نے کسی بھی آئٹم سونگ کے بغیر ہی دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال اسلام کی خاطر شوبز انڈسٹری سے عارضی کنارہ کشی اختیار کرنے والے حمزہ علی عباسی نے باضابطہ طور پر واپسی کا اعلان کیا ہے۔

حمزہ علی عباسی نے ایک آن لائن پروگرام میں شرکت کی جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹی وی ناظرین کو وہ جلد اسکرین پر نظر آئیں گے۔

میزبان احمد علی بٹ کے سوال پر حمزہ علی عباسی نے بتایا کہ انہوں نے عارضی طور پر شوبز سے کنارہ کشی اختیار کی تھی اور اب ایک سال کے وقفے کے بعد جلد ٹی وی اسکرین پر نظر آؤں گا۔

اداکار نے یہ تو بتایا کہ وہ دو پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں تاہم اس متعلق مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔