سینیٹر سراج الحق ، حافظ نعیم الرحمن کا اسلام آباد میں یوم یکجہتی کراچی ریلی سے خطاب

سینیٹر سراج الحق ، حافظ نعیم الرحمن کا اسلام آباد میں یوم یکجہتی کراچی ریلی سے خطاب

لاہور 14اکتوبر2020 ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی اپیل پر ملک بھر میں ’ ’ یوم یکجہتی کراچی “ منایا گیا ۔ یوم یکجہتی کراچی کے حوالے سے کراچی تا خیبر چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں ، جلسے ، جلوس اور سیمینارز منعقد ہوئے جن میں کراچی کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اور کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ریلی کی قیادت کی نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم ، امیر جماعت شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم بھی اس موقع پر موجود تھے۔لاہور میں یکجہتی کراچی ریلی سے امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد اور رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید نے بھی خطاب کیا ۔
ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکمرانوں نے کراچی کے حقوق ادا اور مسائل حل نہ کیے تو عوام حکمرانوں کے عالی شان بنگلوں اور محلوں کا محاصرہ کریں گے اور پھر ان نااہل حکمرانوں کو بھاگنے کا بھی موقع نہیں ملے گا ۔ جماعت اسلامی کراچی کے مسائل کے حل کے لیے کراچی کے عوام کی ترجمان ہے ۔ ہم اقتدار کے ایوانوں اور عوام میں کراچی کی آواز اٹھائیں گے ۔ عزت اور انصاف کے حصول کی جنگ میں پورے ملک کے عوام اہالیان کراچی کے ساتھ ہیں ۔ وفاقی حکومت لوگوں کو جلسے جلوس اور احتجاج کا حق نہیں دے رہی ، حکومت عوام سے آئینی اور جمہوری حق چھین رہی ہے ۔ کراچی منی پاکستان ہے کراچی کو عزت دینا پاکستان کے وقار کو بلند کرنے کی جدوجہد ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام کو مرد م شماری پر تحفظات ہیں ۔ کراچی کے عوام کہتے ہیں کہ وہاں کی آبادی تین کروڑ سے زائد ہے موجودہ مردم شماری مشکو ک ہے ۔ کراچی کو حقیقی مردم شماری کا حق ملناچاہیے ۔ کراچی میں لوکل گورنمنٹ کے نام سے ایک نام نہاد حکومت ہے مگر وہ شہر کا کوئی ایک مسئلہ حل نہیں کر سکی ۔ کراچی وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان ایک سینڈ وچ بن چکاہے ۔ کراچی سے اب تک کچرا نہیں اٹھایا جاسکا ۔ بارشوں میں پورا شہر ڈوب گیاتھا ، کراچی سے تین صدر ہوئے ،مگر کسی ایک صدر نے بھی شہر کے مسائل پر توجہ نہیں دی ۔کراچی کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ملازمتوں میں کراچی کو اس کا حق دیا جائے اور میرٹ پر ملازمتیں دی جائیں ۔ کراچی کے عوام صاف پانی سے محروم ہیں ۔ کے الیکٹرک کا بچھو کراچی کے عوام کو ڈس رہاہے ۔ بیس سال میں کراچی میں نیا ہسپتال اور نئی یونیورسٹی نہیں بنی ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کراچی کے عوام کے مسائل حل کریں ۔ جھوٹی تسلیوں پر کراچی کے عوام کو بہلایا جارہاہے ۔ کراچی میں جتنے بھی بڑے پراجیکٹ قائم ہوئے ہیں ، وہ نعمت اللہ خان یا عبدالستار افغانی کے دور میں لگے ۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کو ارد گرد دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے آٹا، چینی ،ڈرگ اور لینڈ مافیا نے گھیر رکھاہے ۔ اب وزیراعظم کی باتوں پر کوئی اعتماد نہیں کر رہا ۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پر عوام کو نچوڑا اور لوگوں کی گردن مروڑی ۔ انہوںنے کہاکہ ہم تاجروں ، صنعت کاروں ، مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کے لیے ہر جگہ آواز بلند کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ اس حکومت میں ہر چیز مہنگی اور موت سستی ہوگئی ہے ۔ حکومت نے تو کفن کے کپڑے کو بھی سترہ فیصد مہنگا کردیاہے ۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ جماعت اسلامی نے کراچی کی آواز کو پورے ملک کی آواز بنادیاہے ۔ کراچی مسائل کی آماجگاہ بن چکاہے ۔ سندھ ، خصوصاً کراچی میں مردم شماری میں آبادی کم ظاہر کی گئی ہے ۔ اگر کراچی کی آبادی پوری گنی جائے تو کراچی کی 62سیٹیں ہو جائیں گی مگر پیپلز پارٹی کو مردم شماری میں آبادی کم ظاہر کیے جانے سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ بلدیاتی نظام کو بھی اختیارات نہیں دیے جا رہے ۔ کراچی کو کے پی کی، کی طرز پر یا 2002 ءکا بلدیاتی نظام ملنا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ کراچی میں دو لاکھ ملازمتیں دی گئی ہیں جن میں سے صرف آٹھ ہزار کرا چی کے شہریوں اور باقی ایک لاکھ بانوے ہزار کراچی سے باہر کے لوگوں کو دے دی گئیں ۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے ایجنڈے میں بھی کراچی شامل نہیں ۔ وزیراعظم 12 سو ارب کا اعلان کر کے آگئے مگر دوبارہ پوچھا بھی نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ کراچی کے حوالے سے ہم ملک بھر میں چودہ نکاتی ریفرنڈم کرانے جارہے ہیں ۔ پاک فوج کو کراچی کی آبادی کم دکھانے پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے ۔ فوج پوزیشن واضح کرے گی تو حکومت فوج کے پیچھے نہیں چھپ سکے گی ۔ انہوںنے کہاکہ جب ہم فوج سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو صرف سیکورٹی دی تھی ، اعداد و شمار محکمہ شماریات کا کام ہے ۔
دریں اثنا امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی طرف سے کراچی کے چودہ نکاتی مطالبات کے حل کے لیے سینیٹ میں قرار داد جمع کروا دی گئی ہے ۔
جاری کردہ

شعبہ نشرواشاعت جماعت اسلامی پاکستان