معاشی معاملات پر توجہ حکومت کی اولین ترجیح ہونا ضروری ہے

امیر محمد خان
————————
پاکستان کے گرما گرم ماحول میں خواہش تھی کہ ملکی حالات پر اپنی ذہنی سوچ کو لکھوں، وزیر اعظم اور معاونین دن رات اس میں مصروف ہیں کہ سابقہ بقول انکے ”کرپٹ ترین‘‘ نواز شریف کو ملک میں ہر حالت میں لیکر آئینگے ، حکومت برطانیہ سے درخواست در درخواست کی جائے گی کہ اس کرپٹ شخص کو پاکستان کی جیل میں ڈالنے کیلئے پاکستان فوری بھیجیں، عوام خوش تھے کہ مراد سعید کے بقول اب لوٹی دولت پاکستان لائی جائے گی، اور جنکا قرض ہے انکے منہ پر ماری جائے گی، جب نواز شریف کو لانے کیلئے پاکستانی شرلاک ہومزجدوجہد کررہے ہیں توالطاف حسین بھی واپس لائے جائینگے، اسحق ڈار بھی واپس لائے جائینگے ، پرویز مشرف بھی واپس لائے جائینگے وہ علیحدگی پسند بھی واپس لائے جائینگے جو بیرون ملک کوئی ”نام نہاد بلوچستان ریڈیو“ چلا رہے ہیں مگر اچانک پتہ چلا کہ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے والے ”غیر جانبدار “ادارے نیب نے وزارت داخلہ سے درخواست کی ہے کہ ”کرپٹ“نواز شریف کا پاسپورٹ ہی کینسل کردیا جائے،اسکا مطلب ہے یہ ہے کہ اب وہ واپس نہ آئیں ۔ نہ جانے کیا کھیل ہیں؟؟ اس دوران وزیر اعظم نے عوام کو یہ خوشخبری دی کہ ملکی ذرمبادلہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہمیشہ کی طرح بیرون ملک پاکستانی پھر میدان میں آئے ہیں اور ریکارڈ ذرمبادلہ اپنے وطن عزیز کو بھیجا ہے جس نے سابقہ ماضی قریب کے ریکارڈز توڑ دئے ہیں، وزیر اعظم نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی مسلسل چار ماہ سے دو ارب ڈالر سے زائد ترسیلات بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’کورونا کے باوجود محنتی پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم ہماری معیشت کے لیے خوش خبری ہیں۔‘پیر کو اپنی ایک ٹویٹ میں عمران خان نے ملکی

معیشت کے حوالے سے ’خوشخبری‘ سناتے ہوئے لکھا کہ ’ستمبر2020 میں بیرون ملک سے ہمارے محنتی پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلاتِ ذر 2.3 ارب ڈالرز کی سطح تک پہنچیں جو گزشتہ ستمبر سے 31 فیصد جبکہ اگست 2020 سے 9 فیصد زیادہ ہیں، الحمدللہ۔ یہ لگاتار چوتھا مہینہ ہے کہ یہ ترسیلات 2 ارب ڈالر سے ز یادہ رہیں۔ سعودی عرب سے بھیجے جانے والے پاکستانیوں کے ذرمبادلہ نے بھی سابقہ توڑ دیئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک میں مقیم پاکستانیوں نے جولائی 2020 میں دو ارب سات کروڑ ڈالر سے زائد، اگست میں دو ارب سے زائد جبکہ ستمبر میں 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کے قریب ترسیلات زر بھیجیں۔رواں سال ستمبر میں ترسیلات زر بھیجنے والوں میں حسب سابق سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سرفرہرست رہے جنھوں نے 6 کروڑ 65 لاکھ ڈالر سے زائد رقوم بھیجیں۔سعودی عرب سے پاکستان جانے والی ترسیلات زر میں 74.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں، سینٹرل بینک کے مطابق، کیونکہ گذشتہ ماہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے آمدنی ریکارڈ 2 اعشاریہ 8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔کورونا وائرس وبائی بیماری کے باوجود، جس کی توقع تھی کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں سے رقم کی منتقلی پر اثر انداز ہوگا، مالی سال 2019۔20 میں 23.12 بلین ڈالر کی ریکارڈ اعلی سطحی ترسیل ہوئی، جو جون میں ختم ہوگئی۔ جولائی میں، تمام ترسیلات کے حجم میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں 12.2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک بیان
میں کہا، ”پاکستان میں ایک ہی ماہ میں ترسیلات زر کی اب تک کی یہ بلند ترین سطح ہے۔ پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں یہ اضافہ 36.5 فیصد ہے۔رواں سال جولائی میں 21 821.6 ملین یا جولائی 2019 کے مقابلے میں 74.45 فیصد زیادہ کے ساتھ سعودی عرب سب سے زیادہ آمد کا ذریعہ رہا۔سعودی عرب یا دیگر خلیجی ممالک سے بڑی ریکارڈ توڑ ذرمبادلہ کی آمد پر حکومتی ماہرین معاشیات کو بغلیں نہیں بجانی چاہیں چونکہ ذرمبادلہ کا بڑھنا سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے اسلئے بھی زیادہ ہے کہ دوران کروناء معاشی صورتحال کچھ اسطرح ابتر ہوئی، کہ کئی ادارے بند ہوئے، وہاں کے لوگ کی ملازمتیں ختم ہوئیں انہیں کئی سال کے واجبات انکے اداروں سے ملے چونکہ خاص طور پر سعودی قانون یا خلیجی قانون کے تحت ادارے بند ہوجانے کی صورت میں بھی آجروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے تمام حقوق و واجبات ادا کریں کئی لاکھ افراد کی بے روزگاری کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ترسیل لازمی امر ہے، دوم جو ملازمت پیشہ افرادہیں کروناء وباء میں تجارت کی کمی کی بناء پر مہنگائی کا مقابلہ نہیں کرپاتے انہوں نے بڑے پیمانے اپنے اہل خانہ کو پاکستان واپس بھیج دیا ہے جس وجہ سے ذر مبادلہ کا ایک بڑا حصہ پاکستان پہنچا، کروناء وبا ء کی وجہ سے وہ تمام کارباری افراد جو رقم بھیجنے کیلئے دیگر ذرائع استعمال کرتے تھے وہ بھی بند اور تمام تر ترسیل بنکو ں سے ہوئی ان تمام باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ بیرون ممالک روزگار کے ذرائع محدود ہونے کی وجہ سے یہ صورتحال اسی طرح بڑھتی نہیں بلکہ تنزلی کی طرف جائیگی۔ متحدہ عرب امارات سے 4 کروڑ 73 لاکھ ڈالر، بحرین، کویت، قطر، اور عمان سے دو کروڑ 61 لاکھ ڈالر سے زائد رقوم ترسیلات زر کی مد میں موصول ہوئیں۔اعداد و شمار کے مطابق امریکہ سے 2 کروڑ 90 لاکھ، برطانیہ سے ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر جبکہ دیگر یوپر ممالک سے بھی دو کروڑ ڈالر سے زائد کی رقوم پاکستان منتقل ہوئیں۔گزشتہ مالی سال میں مجموعی ترسیلات زر 23 ارب ڈالر سے زائد تھیں جبکہ رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ یعنی جولائی اگست ستمبر میں ترسیلات زر سات ارب 15 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ مگر ماہرین معاشیات اور پاکستان کی معیشت پرنظررکھنے والے بین الاقوامی جریدوں کا کہنا ہے کہ ’حکومت کو ان ترسیلات زر سے بہت زیادہ خوش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ملکی معیشت کے لیے اگرچہ وقتی طور پر یہ خوش آئند ہے لیکن معیشت کی بہتری کا مستقل حل نہیں ہے۔‘ معیشت کی بہتری اور پائیداری برآمدات کا بڑھنا اہم ترین عنصرہے جبکہ ہم آٹا، گیہوں،چینی درآمد کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو معیشت کیلئے نہائت نقصان دہ ہے۔ برآمدات میں اضافہ نہ کیا گیا تو غربت اور بے روزگاری کا سبب بنے گا ، ہم اپنی معیشت کا دارومدار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے سروں پر رکھے ہیں جہاں اب روزگار کے مواقع کم سے کم ہورہے ہیں۔دوسری جانب وفاقی حکومت کا قرضہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 35 ہزار 659 ارب پر پہنچ گیا-دو سال میں مرکزی حکومت کے قرضوں میں دس ہزار 928 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق اگست دوہزار اٹھارہ سے اگست دو ہزار بیس کے دو سال میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں مجموعی طور پر دس ہزار 928 ارب روپے کا اضافہ ہوا جس میں مقامی قرض 6 ہزار 746 ارب روپے اور غیر ملکی قرض 4 ہزار 181 ارب روپے بڑھ گیا-دستاویز کے مطابق اگست دو ہزار بیس تک مرکزی حکومت کے قرضوں کا حجم بڑھ کر 35 ہزار 659 ارب روپے ہوگیا جو اگست دو ہزار اٹھارہ میں 24 ہزار 732 ارب روپے
تھا-خود وزارت خزانہ نشاندہی کررہی ہے کہ ملک میں معیشت کی پسپائی کی طر ف گامزن ہے اسلئے غربت کی شرح موجودہ24.3 سے بڑھ کر 33.5 فیصد ہونے کی توقع ہے ، بے روزگاری امن وامان کا مسئلہ بھی پیدا کرتی ہے جسکے لئے ہمارے لاء اینڈ آرڈر نافذ کرنے والوں کی یہ حالت ہے روزآنہ جرائم کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور سب سے پریشان کن بات جنسی ذیاتیوں کے معاملات ہیں جنکے مجرمان کر پکڑنے ہم سست روی کا شکارہیں، حالیہ مجرم عابد کی گرفتاری کیلئے تمام مشینری کو کتنے دن لگے ، جبکہ کارکردگی کی بنیاد پر دیکھا جائے تو لگتا تھا یہ معاملہ بھی دیگر معاملات کی طرح داخل دفتر ہوجائے گا۔ فضول خرچیوں سے ہم باز نہیں آتے حال میں حکومت نے پنجاب نے کئی بلٹ پروف گاڑیان خریدنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ اب ارکان پارلیمان کے اہل خانہ کے سفری اخراجات بھی حکومت کے ذمہ ہے۔ وزیر اعظم کی ولولہ انگیز قیادت کو مہنگائی، بے روزگاری پر قابو پانے کیلئے ٹائیگر فورس کو نہیں حکومتی مشینری کو کارآمد کرنا پڑے گا۔