مہنگائی مافیا کو دیکھ لوں گا

مہنگائی مافیا کو دیکھ لوں گا، ساری توجہ اسی پر ہے، صورتحال خود مانیٹر کر رہا ہوں، ریلیف کیلئے مشینری متحرک کریں گے، عمران خان

وفاقی کابینہ نے سابقہ صدور اور وزرائے اعظم پر اٹھنے والے اخراجات اور مراعات کا جائزہ لینے کی ہدایت دیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ متعلقہ قوانین میں ترمیم کے نتیجے میں صدر اور وزیرِ اعظم کو صرف ایک کیمپ آفس رکھنے کی اجازت ہوگی۔

کابینہ نے ملک میں اشیائے خور د و نوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور دستیابی کو یقینی بنا نے کیلئے جامع میکانزم کی منظوری دی ہے ‘کابینہ نے پی آئی اے کے بورڈ ممبران کی تعیناتی ‘ایکسپورٹ امپورٹ بنک آف پاکستان ایکٹ 2020 کی اصولی منظوری دے دی‘ اجلاس میں ملک کی معاشی وسیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ وفاقی کابینہ نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو درآمد شدہ چینی دینے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں بجلی گیس اور ادویات کی بڑھتی قیمتوں پر بھی بحث ہوئی، وزراء نے بڑھتی مہنگائی پر ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر مراد سعید، شیخ رشید، فیصل واوڈا اور دیگر وزراء نے مہنگائی کا معاملہ اٹھایا۔

وزراءنے ایک دوسرے پر الزامات بھی لگائے ‘مراد سعید نے ندیم بابر اور عمر ایوب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں فیصلے کچھ ہوتے ہیں اور بجلی گیس میں ریلیف نہیں ملتا، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے ذمہ دار آپ لوگ ہیں‘ کابینہ ارکان نے کہا کہ صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو اشیاء کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مشاورت جاری ہے، حکومت جلد ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کریگی، عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے تمام سرکاری مشینری کو متحرک کریں گے ، آنے والے دنوں میں ہماری اب پوری توجہ مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہوگی‘ساری صورتحال خود مانیٹر کررہا ہوں، دیکھتے ہیں اب مافیا کیا کرتا ہے۔

منگل کو وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ حکومت بھی گندم ریلیزکرنے پر تیارہوگئی ہے ‘ مہنگائی کنٹرول کر نے کا میکنزم بن چکا ہے‘ آنے والے دنوں میں مہنگائی کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

مہنگائی روکنے کی حکومتی حکمت عملی کامیاب ہوگی اور لوگوں کو واضح فرق نظر آئے گا‘روز ویلٹ ہوٹل بیچنے کا کوئی پروگرام نہیں‘ حکومت نے تو قرضہ ادا کر کے اسے مکمل ملکیت میں لے لیا ہے‘ کابینہ نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز میں ڈائریکٹر جنرل (نیشنل سوشو اکنامک رجسٹری) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شمولیت کی منظوری دی۔

اس کے ساتھ ساتھ ظہیر بیگ جو کہ بطور آزاد ممبرتعینات تھے انکا استعفیٰ منظور کرنے کی بھی منظوری دی گئی ۔ ایسے تمام ادارے جن کو کابینہ کی ہدایات کے مطابق خود مختار ادارہ بنانا مقصودہے یا جن کے انضمام، منتقلی، ختم کرنے یا نجکاری کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے ایسے اداروں کے لئے اضافی چارج کی بنیاد پر سربراہان تعینات کرنے کے حوالے سے تجویز کی منظوری دی گئی تاکہ کابینہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

کابینہ نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے بجٹ تخمینوں برائے مالی سال 2019-20اور 2020-21کی منظوری دی۔ کابینہ نے نائیجر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر حکومت پاکستان کی جانب سے امدادی سامان بھجوانے کی تجویز کی منظوری دی۔ کابینہ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بورڈ کے حوالے سے ممبران کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ مقرر کرنے کے حوالے سے تجویز کی منظوری دی۔ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 12مارچ2020 اور 01اکتوبر2020میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔

اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 07اکتوبر 2020میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔شبلی فراز نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بارشوں سے گندم کی فصل کو نقصان پہنچا، ملک میں ضرورت کے مطابق گندم کے ذخائر موجود ہیں، سندھ حکومت کی جانب سے گندم بروقت جاری نہ کرنے سے بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

اپوزیشن کے جلسے جلوسوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ اپوزیشن ارکان کی اکثریت پر کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں‘اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمان کو استعمال کررہی ہیں، اپوزیشن مولانا فضل الرحمان کے ساتھ گزشتہ سال کی طرح اس دفعہ بھی ہاتھ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے بیٹے لندن میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ عوام سڑکوں پر نکلے، اپوزیشن کے قول و فعل میں تضاد ہے‘اپوزیشن جماعتوں کے اکٹھ کی ہمیں کوئی فکر نہیں ، یہ چاہتے ہیں حکومت دبائو میں آکر کوئی رعایت دے ،مولانا فضل الرحمان کا بیٹا منتخب ہوا تو الیکشن ٹھیک ،مولانا خود ہارے تو الیکشن غلط تھا۔

Courtesy jang news