……….جلسے کی اجازت

سیاست میں اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے جبکہ حزبِ اختلاف کا کام ہی حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنا

، اُسکی بنائی گئی پالیسیوں میں

نقائص کی نشاندہی کرنا، معاملات اگر قومی مفادات سے ہٹ کر ہوں تو حکومت پہ جائز تنقید کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں بات تعمیری تنقید سے بہت آگے نکل چکی ہے اور اب اپوزیشن حکومت کیخلاف پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع کرنے جا رہی ہے۔ حکومت نے اِس حوالے سے سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کو جلسے کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ پیر کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہوانے والے اجلاس میں اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک پر بھی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے جلسوں اور ریلیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی اور اپوزیشن ملک بھر میں جہاں جلسے کرے، اجازت ہوگی تاہم اپوزیشن کو جلسوں میں کورونا ایس او پیز کا پابند بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ پُرامن احتجاج اور جلسے کرنا اپوزیشن کا حق ہے لیکن احتجاج کی آڑ میں کسی کو بھی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ جلسوں میں کورونا وائرس کے خلاف ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو جلسوں کی اجازت دینا نہایت خوش آئند اور ملک میں

جمہوری اقدار زندہ ہونے کی دلیل ہے لیکن وطن عزیز کی داخلی و خارجی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اُس کے باوجود ملک میں سیاسی چپقلش بڑھتی جا رہی ہے اور ایک عدم اعتماد کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ حکومت یہ سمجھتی ہے وہ جو کچھ کر رہی ہے وہ درست ہے اور اپوزیشن حکومت کی سست اور ناقص کار کردگی کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ اپنے جلسوں کو پُرامن بنانے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھے تاکہ کسی ملک دشمن عنصر کو فائدہ اُٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔

Courtesy jang news