کراچی چیمبر نے بجلی نرخ میں اضافہ مسترد کردیا

وفاقی حکومت بجلی نرخوں میں اضافہ فوری واپس لے، شارق وہرا کی اپیل

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر شارق وہرا نے کے الیکٹرک کے بجلی نرخوں میں حالیہ اضافے کومسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ بجلی نرخوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے۔ ایک بیان میں انہوں نے پاور ڈویژن کے نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کے الیکٹرک کو یکم ستمبر 2020 سے 1.09 روپے سے 2.89 روپے فی یونٹ تک بجلی نرخوں میں اضافے کی اجازت دی گئی ہے اور اس کاروبار مخالف اقدام سے تجارت و صنعت کو شدید دھچکا لگے گا جو اب بھی کرونا کے وبائی مرض پر قابو پانے کے لیے تقریباً 6 ماہ تک لاک ڈاؤن لگنے سے باعث پیدا ہونے والی تباہ کن صورتحال سے نمٹنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
شارق وہرا نے وفاقی حکومت کے بجلی نرخوں میں اضافے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل مہنگائی کے باعث کراچی والے پہلے ہی بری طرح متاثر ہیں لہٰذا کے الیکٹرک بلوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اگرچہ قانون ساز یہ یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت مہنگائی پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہی ہے لیکن یہ واقعی بدقسمتی ہے کہ انہوں نے کے الیکٹرک کو نرخوں میں اضافے کی اجازت دے دی جس سے نہ صرف کاروباری برادری کی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ کاروباری لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا نیز غریب عوام پر بھی بہت برے اثرات پڑیں گے جو مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ کے ای کے نرخوں میں اضافے سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔


انہوں نے کہاکہ یہ بات واقعی بہت مایوس کن ہے کہ موجودہ مشکل حالات میں وفاقی حکومت کراچی کے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے شہریوں کو ریلیف دینے کی بجائے کاروباری اور کراچی مخالف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا معاشی مرکز بدترین بحران سے گزر رہا ہے اور تباہ حال انفرااسٹرکچر، بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت وغیرہ کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ خدارا غریب شہریوں اور کراچی کی پریشان حال تاجروصنعتکار برادری پر رحم کریں جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
شارق وہرا نے نشاندہی کی کہ ایک طرف حکومت تاجروصنعتکار برادری پر زور دے رہی ہے کہ وہ پیداواری سرگرمیوں اور برآمدات میں اضافہ کریں تاکہ بیمار معیشت میں بہتری لانے کے لیے زیادہ سے زیادہ آمدنی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں لیکن یہ کیسے ممکن ہے جب وہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کرتے رہیں گے جو ہر طرح سے کاروبار مخالف اور عوام دشمن اقدام ہے۔ پاکستان میں یوٹیلیٹیز کی قیمتیں خطے میں موجود دیگر ممالک سے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت نہیں کر پارہیں۔انہوں نے کہاکہ معیشت اور کاروبار اس وقت ہی ترقی کریں گے جب بجلی، گیس اور پانی کے نرخوں میں خاطر خواہ کمی کرکے کاروباری لاگت کوکم کیا جائے گا جبکہ بھاری بھرکم ٹیکسوں، ڈیوٹیز کو بھی لازمی طور پر کم کرنا ہوگا اور حکومت کو کراچی کے خستہ حال انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی جو کراچی کے7 صنعتی علاقوں میں واقع تمام صنعتوں کی ناقص صنعتی کارکردگی کی سب سے بڑی وجہ رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ فیصلہ سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر کاروباری و پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ ناقص کارکردگی اور صنعت کی پیداوار کو کم کرنے کا باعث بنے گا اور اس کے نتیجے میں ریونیو وصولی میں کمی کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی معدوم ہورہے ہیں جبکہ بین الاقوامی مارکیٹوں میں ہم مسابقت کی صلاحیت بھی کھوتے جارہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی چیمبر کے الیکٹرک کے نرخوں میں اس مخصوص اضافے کی شدید مخالفت کرتا رہا ہے اور 10 جولائی 2020 اور 3 ستمبر 2020 کو جاری کردہ میڈیا بیانات کے ذریعے کے ای حکام کو ٹیرف میں اضافے سے گریز کرنے کی تنبیہ کی گئی تھی۔اگرچہ اُس وقت بجلی نرخوں میں اضافہ ملتوی کردیا گیا تھا لیکن ایک بار پھربجلی کے نرخوں میں اضافے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے بالخصوص ایسے غیر معمولی حالات میں جب کاروباری افراد اپنی بقا کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذکورہ بالا تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت بجلی نرخوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن پر نظرثانی کرے گی اور فوری طور پر اس کو واپس لے گی جسے یقینی طور پر نہ صرف تاجروصنعتکار برادری بلکہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے بھی بے حد سراہا جائے گا۔

عامر حسن
ڈائیریکٹر میڈیا، پبلک ریلیشنز