پوری قوم حکومتی نااہلی کا شکار ہو رہی ہے اور عوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے یہی وجہ ہے کہ آج اپوزیشن جماعتیں عوام مشکلات کو دیکھتے ہوئے اتحاد کی صورت میں ترجمانی کر رہی ہے

ریاض ( ثناء بشير ) سعودی عرب میں مسلم لیگ ن ریاض ریجن کی جانب سے بارہ اکتوبر 1999 یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لئے تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں دیگر سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی اس موقعہ پر پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر خالد اکرم رانا نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ جمہوری نظام کو مستحکم اور مضبوط بنانے کے لئے جو سفر کا آغاز ہوا ہے یہ اب منطقی انجام تک پہنچ کر رہے گا پاکستان بقا جمہوریت اور جمہوری اداروں کی مضبوطی میں ہے تاکہ ایک جانب عوامی امنگوں کے مطابق پاکستان کی ترقی و خوشحالی کو ممکن بنایا جاے اور دوسری جانب ادارے فعال کردار ادا کریں موجودہ نظام میں اپوزیشن اتحاد کو جس طرح عوامی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے یہ حکومتی ایوانوں پر قوم کا عدم اعتماد ہے پوری قوم حکومتی نااہلی کا شکار ہو رہی ہے اور عوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے یہی وجہ ہے کہ آج اپوزیشن جماعتیں عوام مشکلات کو دیکھتے ہوئے اتحاد کی صورت میں ترجمانی کر رہی ہے نوازشریف عوامی لیڈر ہیں اور جمہوری روایات کے فروغ کے لئے ہمیشہ سے جدوجہد کرتے آئے ہیں تین بار قوم نے نوازشریف پر اعتماد کیا اور تینوں بار نوازشریف نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنایا اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا دیگر مقررین میں مسلم۔لیگی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان کی بقا جمہوریت میں ہے پاکستان کسی مسلح جدوجہد کے نتیجے میں حاصل نہیں کیا گیا تھا اسے سیاسی امور کی انجام دہی کے بعد ہی حاصل کیا گیا تھا پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس کا نظام عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہونا ضروری ہے مگر پاکستان میں کبھی جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا گیا اور ہر بار سازش کرکے مارشل لاء کو نافذ کر دیا گیا جب بھی مارشل لاء لگا ملک کمزور ہوا اور جمہوریت کو شدید نقصان پہنچا بارہ اکتوبر 1999 کو بھی دوتہائی اکثریت رکھنے والے وزیراعظم کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا جس کے بعد نا صرف ترقی کا سفر رک گیا بلکے ملک کا متفقہ آئین بھی معطل کرکے اسے پامال کیا گیا اور ملک پر نام نہاد جمہوریت کو رائج کر دی گئی جو ربڑ سٹیمپ ثابت ہوئی دہشت گردی کا دور شروع ہوا جس نے پاکستان کو شدید نقصانات سے دوچار رکھا معیشت کا برا حال ہوا مگر جب بھی حقیقی جمہوری پارٹیوں نے ملکی نظام سنبھالا ملک نے ترقی کا نیا دور شروع کیا مگر 2013 کے بعد جس طرح مسلم لیگ ن اور نوازشریف کے خلاف سازشیں رچائی گئیں اس کا مطلب صرف یہی تھا کہ جمہوریت مضبوط نا ہوجاے اور 2018 کے بعد عمران خان کی صورت میں ایک ایسے شخص کو حکمران کے طور پر بیٹھایا گیا جس نے ثابت کیا کہ وہ حکومت کرنے اور عوامی حلقوں میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے مگر اب زیادہ دیر تک یہ ربڑ سٹیمپ حکومت نہیں چلے گی اور حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں اور عوام طاقت سے حکومت کو گھر بھیجا جاے گا تقریب سے ریاض راٹھور،مرزا منیر بیگ، راجہ یعقوب، حافظ عبدالوحید، محمد خالد رانا، احسن عباسی، قاضی اسحاق میمن، قاری عزیز الرحمان درانی، حفیظ بلوچ، مولانا عبدالمالک مجاہد، سردار شعیب، اقبال ودود، حافظ ارشد، رانا خادم اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا