اتنی دولت ہم رکھیں گےکہاں؟


خالد بدر
—————————————–

کرپشن سے روزانہ 12 ارب بچ رہے ہیں. حکومتی اخراجات میں کمی کی وجہ سے 5000 ارب پہلے سے بچے ہوئے ہیں. بیری کے درخت والی شہد سے بھی اربوں کی آمدنی متوقع ہے اور ہم نے اربوں کھربوں درخت بھی لگا رکھے ہیں۔
ظاہر ہے انکی اضافی لکڑی بھی ایکسپورٹ ہوگی اور زرِمبادلہ ملک آئے گا۔ ابھی تو باہر پڑے 200 ارب ڈالر الگ اور 5000 ہزار کروڑ ڈالر الگ سے بھی ملک لانے ہیں اور گلابی نمک جو ہم نے بھارت جانے سے روک کر خود ایکسپورٹ کرکے اربوں ڈالر باہر سے پاکستان لائیں گے وہ الگ۔
چرس اور بھنگ کی کاشتکاری سے اربوں ڈالرز کی کمائی اور ساتھ میں جو عوام کو انڈے، کٹے اور مرغیاں دی گئی ہیں ظاہر ہے وہ بھی دو سے تین ہزار ارب سالانہ منافع تو دینگے ہی دینگے۔۔۔۔

مجھے معلوم ہے لوگ نہیں مانیں گے مگر باقی سب چھوڑیں یہ دیکھیں کہ صرف ان 2 سال میں آٹے کا تھیلا 700 سے بڑھا کر 1300 تک پہنچایا۔ 55 کی چینی 105 پر پہنچائی، 110 کا گھی 220 پر پہنچایا۔ 65 کا لیٹر پیٹرول 105 پہنچایا۔ 55 ہزار کا تولہ سونا 1 لاکھ 20 ہزار پر پہنچایا۔ 102 کا ڈالر 166 پر پہنچایا۔ موٹرویز پر 100 روپے کا ٹیکس 350 پر پہنچایا. ڈاکخانے کا 20 والا پارسل 80 پر پہنچایا. بجلی کی 8 روپے یونٹ 20 پر پہنچائی. گیس کی 110 روپے فی ایم ایم بی ٹی 450 پر پہنچائی…

صرف یہی جمع کر لیں تو آپکے کئی ہزار ارب روپے تو آپکے لیئے یہیں سے خان صاحب نے جمع کر لیئے ہیں۔۔۔۔

مجھے تو پورا یقین ہے خان صاحب نے ہماری معیشت کی جو کمر سیدھی کی ہے وہ بس پھل دینے ہی والی ہے۔
بس میری ایک چھوٹی سی پریشانی ہے۔ وہ یہ کہ اتنا سارا پیسہ ہم رکھیں گے کہاں؟
خان صاحب سے دست بستہ اپیل ہے کہ اس سے پہلے کہ دشمن کی نظر ہماری اس دولت پر پڑے فوراً سے آئی ایم ایف یا ورڈ بینک کی کوئی بڑی برانچ بھی پاکستان میں کھلوادیں۔

آپ جناب کے لیئے تو بس ایک تقریر کی محنت سے بڑھ کر تو نہیں ہوگا یہ۔۔۔۔بس اللہ کا نام لیں اور کر ڈالیں