مولانا عادل کے اہل خانہ نے ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کر دیا، پولیس ذرائع

کراچی: پولیس کی جانب سے جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عادل خان کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔ ڈاکٹرعادل کے اہل خانہ نے ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کردیا ہے.

پولیس ذرائع کے مطابق اہل خانہ کی جانب سے انکار کے بعد مولانا ڈاکٹرعادل خان کے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق مقدمہ ایس ایچ او شاہ فیصل کالونی کی مدعیت میں درج کیا جائے گا۔ مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی دفعات بھی شامل ہوں گی۔

خیال رہے کہ دو روز قبل کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی شمع شاپنگ سینٹر کے قریب فائرنگ سے مولانا عادل خان اور ان کے ڈرائیور مقصود جاں بحق ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق مولاناعادل پر فائرنگ دارالعلوم کراچی سے واپسی پر ہوئی تھی۔ مولانا عادل کا ساتھی عمیر اس واقعہ میں محفوظ رہا تھا اور وہ اسپتال میں ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والی گولیوں کے خول کی فارنزک جانچ مکمل کر لی گئی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ واردات میں نیا ہتھیار استعمال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے ہیں۔ مولاناعادل کی ٹارگٹ کلنگ میں ایک ہی نائن ایم ایم سے فائرنگ کی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں کی گولیوں کے پانچ خول فارنزک لیب بھیجے گئے تھے۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعے پر جیو فینسنگ بھی کرائی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا نےجو راستہ اختیار کیا اس پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز حاصل کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابقمولاناعادل کے بیٹے کے بیان کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔

دوسری جانب انسپکٹر جنرل سندھ نے مولانا عادل پر فائرنگ کے واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کردی ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت کاشیخ رشیدکومولانا عادل قتل کیس میں شامل تفتیش کرنےکامطالبہ

رپورٹ کے مطابق مولانا عادل کا ایک ساتھی خریداری کیلئے گاڑی سے اترا اور اسی دوران موٹر سائیکل سوار ملزموں نے فائرنگ کر دی۔

نامعلوم دہشت گرد مولانا عادل پر دائیں جانب سے حملہ آور ہوئے۔ دہشت گردوں کے آتشی اسلحہ سے نکلنے والی پانچ گولیاں مولانا عادل کو لگیں۔

پانچ میں سے چار گولیاں مولانا عادل کے سر اور چہرے پر لگیں اور ایک بازو میں لگی۔ مولانا عادل کے سر اور چہرے پر لگنے والی گولیاں موت کا سبب بنیں۔

مولانا کے ڈرائیور مقصود کو صرف ایک گولی لگی۔ حملہ آوروں نے ڈرائیور کے سر پر وار کیا۔ مقصود احمد کے سر میں لگنے والی واحد گولی جان لیوا ثابت ہوئی۔

ترجمان لیاقت نیشنل اسپتال کے مطابق مولانا عادل خان اسپتال پہنچنے سے قبل ہی وہ دم توڑ چکے تھے۔

مولانا عادل کی گاڑی پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے جس میں حملہ آور کو گولیاں مارنے کے بعد پیدل سڑک پار کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک نے موٹر سائیکل سے اتر کر فائرنگ کی جسکے بعد تینوں حملہ آور موٹر سائیکل پر فرار ہوئے۔

کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تین تھی جوایک ہی موٹر سائیکل پہ سوار تھے۔

مولانا ڈاکٹر عادل مولانا سلیم اللہ کے صاحبزادے تھے اور مولانا سلیم اللہ خان مرحوم وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سابق صدر تھے۔

ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے شیخ الحدیث مولانا عادل کی نماز جنازہ آج صبح نو بجے جامعہ فاروقیہ کراچی میں ادا کی جائے گی۔
—–from—humnews—-pages—-