وزیراعظم کا تابش گوہر کو معاون خصوصی بنانے کا فیصلہ درست ہے

وزیراعظم کا تابش گوہر کو معاون خصوصی بنانے کا فیصلہ درست ہے
mian zahid hussain sme 8-5-2020

۔
تابش گوہر توانائی کے شعبہ کے عالمی ماہرہیں ، بحران حل کر لینگے ۔
میرٹ کو ترجیح، ڈیموں کی تعمیر کو اولیت دی جائے ۔ میاں زاہد حسین

(12اکتوبر2020)

ایف پی سی سی آئی میں برسر اقتداربز نس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین ، ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ایف بی آر ،پبلک یوٹیلٹیزاورفیئر اینڈ ایگزیبیشن کے سربراہ اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کاروباری برادری وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے تابش گوہر کو وزیر اعظم کا معاون خصوصی برائے توانائی تعینات کرنے کے فیصلے کی غیر مشروط حمایت کرتی ہے ۔ تابش گوہر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں انھوں نے سالہا سال تک توانائی کے شعبے میں کام کیا ہے ،دنیا بھر میں بیمار صنعتوں کی بحالی کے ایکسپرٹس میں ان کا شمار کیا جا تا ہے اور ملک کے بجلی کے شعبے کو مسائل سے نکالنا ان کےلئے باعث افتخار ہو گا ۔ کاروباری برادری کو امید ہے کہ جس طرح انھوں نے سی ای او کی حیثیت سے کے الیکٹرک کو نقصان سے نکال کرمنافع بخش ادارہ بنایا تھا اسی طرح وہ کراچی اور ملک بھر کے بجلی کے شعبے کے مسائل حل کر کے اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس میں کاروباری برادری ان سے بھرپور تعاون کرے گی ۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ستمبر تک گردشی قرضہ 2.28 کھرب روپے کے قریب پہنچ چکا ہے اور اس میں روزانہ ڈیڑھ ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے جس کا حل نکالے بغیر آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی ناممکن ہے جو جنوری میں معطل ہو گیا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں بجلی گھر زیادہ ہیں جبکہ بجلی کی طلب کم ہے، بجلی گھروں کو انکی استعداد کے مطابق بھاری ادائیگیاں کی جا رہی ہیں جبکہ بجلی کی ترسیل کا سال خوردہ نظام پاور پلانٹس میں بننے والی بجلی کو صارفین تک پہنچانے کے قابل ہی نہیں ہے ۔ پرانے پاور پلانٹس کو بند کر دینے، بیچ دینے تک دیگر ممالک کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خزانے پر بوجھ کم ہو اور عوام کو کچھ ریلیف ملے ۔ اگر ٹرانسمیشن سسٹم کو بہتر بنایا جائے تو پاکستان سرپلس بجلی افغانستان کو فروخت کرنے کے یا پاک افغان سرحد پر صنعتی زون بنانے جیسے آپشن پر بھی کام کر سکتا ہے کیونکہ اس بجلی کو استعمال کئے بغیر بھی بھاری ادائیگیاں کی جا رہی ہےں جس سے نقصان بڑھ رہا ہے ۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ تابش گوہر نہ صرف سال خوردہ پاور پلانٹس کو سپلائی چین سے باہر نکال دیں گے بلکہ400ارب روپے کی چوری اور دیگر نقصانات پر بھی قابو پالیں گے، اربوں روپے کا نقصان کرنے والی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے ، جس سے صنعتوں کےلئے سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی ۔ تابش گوہر سیاست کے بجائے میرٹ کو ترجیح دینگے بلکہ قابل تجدید توانائی کے شعبہ کو ترقی دینگے اور زیر تعمیر ڈیموں پر کام کی رفتار بڑھانے کی لئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کریں گے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ بجلی کا شعبہ ملکی معیشت کے لئے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے جسے بہتر بنائے بغیر حکومت کی کوئی اقتصادی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی ہے ۔