سمندری پانی کو میٹھا بنانے اور منچھر جھیل کی صفائی کے لیے حکومت سندھ نے فرانس سے مدد مانگ لی

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت ملک بالخصوص صوبہ سندھ کو درپیش توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے جامع اور ٹھوس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور گذشتہ روز تھر کے کوئلے سے چلنے والے 660 میگاواٹ کے دو پاور پلانٹس کا افتتاح کیا ہے جوکہ سندھ حکومت کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے یہ بات آج وزیر اعلیٰ ہائوس میں فرانس کے کاروباری وفد جس کی سربراہی فرانس کے پاکستان میں سفیر ڈاکٹر مارک باریتی کررہے تھے سے ملاقات کے موقع پر کہی ۔ وفد میں فرانس – پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین مسٹر تھیری، کراچی میں متعین فرانس کے قونصل جنرل دائدیر تالپین، پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے سے اقتصادی قونصلر مسٹر فلپ فیوٹ بھی موجود تھے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ صوبائی وزرا اسماعیل راہو، امتیاز شیخ، چیف سیکریٹری سید ممتاز شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم اور مختلف محکموں کے سیکریٹریز شامل تھے۔ اجلاس میں سندھ کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری، توانائی، رینیوایبل توانائی ، کولڈ چین، زراعت، ڈیری اینڈ میٹ، انفرااسٹرکچر کی ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے پر بات چیت کی گئی۔وزیراعلیٰ سندھ نے فرانس کے وفد کو بتایا کہ صوبہ سندھ میں تھر کول کے حوالےسے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور کام ہورہاہے ۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل اور مین گرڈ میں شامل کرنے کے لیے اپنی سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (ایس ٹی ڈی سی) قائم کی ہے اور اس حوالے سے اس شعبے کو ترقی دینے کے لیے وسیع پیمانے پر گنجائش اور مواقع موجود ہیں ۔ انہوں نے فرانس کے وفد کو بتایا کہ وہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے فرانس کے سرمایہ کاروں کو راغب کریں ، سندھ حکومت انہیں تمام تر سہولیات اور ترغیبات فراہم کرے گی۔ صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ نے بھی وفد کو بریفنگ دی اور بتایا کہ صوبائی محکمہ انرجی اور محکمہ سرمایہ کاری انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ہر طرح سے سرمایہ کاروں کو سپورٹ کرتی ہے اور سندھ حکومت کا پی پی پی موڈ کے تحت کامیابی کے ساتھ کام ہورہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے سمندری پانی کی ڈیسیلینیش اور منچھر جھیل کی صفائی کے حوالے سے سرمایہ کای کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں منچھر جھیل جوکہ ایشیا کی سب سے بڑی جھیل ہے جس کا پانی آلودہ اور زہریلا ہوچکا ہے کی مکمل صفائی ہو اوراس جھیل کی صفائی کے حوالے سے کوئی جامع پلان پیش کیاجائے کیونکہ سندھ حکومت منچھر جھیل کو بحال کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے فرانس کے وفد کو سندھ حکومت کے ساتھ پی پی پی موڈ کے تحت اس حوالے سے سرمایہ کاری کرنے کی بھی پیشکش کی۔ فرانس کے وفد نے فیصلہ کیا کہ وہ محکمہ پی اینڈ ڈی ، محکمہ سرمایہ کاری اور پی پی پی یونٹ کے ساتھ مزید اجلاس منعقد کرے گا اور اس کے بعد سمندر اور منچھر جھیل کی سائٹ کاوزٹ کرکےسندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ فرانس کے زرعی سرمایہ کاروں نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ وہ سندھ حکومت کے ساتھ کینال لائننگ ، گوشت اور ڈیری کارپوریٹ فارمنگ، شرمپ فارمنگ اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں بھی کام کرنے کے خواہاں ہیں ۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ مزید کارروائی کے لیے محکمہ پی اینڈ ڈی ، زراعت اور سرمایہ کاری کے محکموں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں