حکومت نے نوازشریف کا والیم 10 کھولنے کا فیصلہ کرلیا

سینئر صحافی صابر شاکر نے کہا ہے کہ حکومت نے نوازشریف کا والیم 10 کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے، والیم 10میں مختلف سفارتی اور غیرسفارتی ممالک کے ساتھ قانونی معاہدے، آف شورکمپنیز کی تفصیلات شامل ہیں، نوازشریف کو اب کسی قسم کی کوئی رعائت نہیں دی جائے گی۔ انہو ں نے اپنے تبصرے میں کہا کہ شریف فیملی اور مولانا فضل الرحمان حکومت گرانے کیلئے میدان میں اترنا چاہتے ہیں۔
معلومات ساری موجود ہے کابینہ ایک ہفتے میں جو فیصلے کیے ان میں آرمی چیف اور وزیراعظم مسلسل ایک بات کہتے آرہے تھے ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار ہے اور سوشل میڈیا کا استعمال ، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے ذریعے پاکستان میں کچھ گڑ بڑ پھیلانی تھیں۔کابینہ نے ان تمام ویب سائٹ پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا، ٹک ٹاک پر پابندی لگ چکی ہے۔
باقی ویب سائٹ کیلئے پی ٹی اے نے رولز بنا لیے ہیں۔

پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو تو کنٹرول کرسکتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا مشکل ہے۔ نوازشریف تین بار وزیراعظم رہنے کے بعد پکڑے گئے ہیں۔ نوازشریف نے کچھ چیزیں ریکارڈ کی ہوئی ہیں، وہ آہستہ آہستہ ان چیزوں کو باہر لا رہے ہیں۔آرمی چیف نے کھل کر جمہوریت ، آئین قانون کی بات کی، ہائبرڈ وار کی بات کی، یہ اس لیے کی ہیں کہ عسکری قیادت سے مطالبات کیے گئے ہیں کہ آپ موجودہ حکومت کی بجائے ہمیں آگے لے کر آئیں، یہ یقین دہانی باہر سے بھی کروا رہے ہیں۔
عسکری قیادت کو کہا گیا کہ ہم آپ کے ساتھ پاور شیئرنگ کا فارمولہ طے کرلیتے ہیں۔نیب کے پاس چھوٹے میاں کے کچھ ٹھوس ثبوت ہیں، 1044ملین ڈالر کی منی ٹریل، بینک اکاؤنٹس مل گئے ہیں۔جعلی ترسیلات بھی پکڑی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک اہم اقدام اٹھایا جارہا ہے، والیم 10کو کھولنے کی بات کی گئی ہے۔والیم 10کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے، والیم 10میں مختلف ممالک کے ساتھ ایم ایل اے، پانامہ سمیت آف شورکمپنیز ہیں، ایسے ممالک بھی شامل ہیں جن کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں
—————
سینئر تجزیہ کارہارون الرشید نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کا اشارہ تھا کہ شاہ محمود قریشی نے لندن میں فون کرکے کہامیرے ساتھ11لوگ ہیں، شاہ محمودقریشی موجودہ حالات میں کیسے فون کریں گے، ان کے ساتھ دس گیارہ آدمی بھی نہیں ہیں،عمران خان کو نکال کر دوسرا آدمی لایا جائے یہ بڑا مشکل کام ہے۔انہوں نے اپنے تبصرے میں کہا کہ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کے ایک وزیر نے نوازشریف کے ایک ساتھی کو فون کیا کہ ہم آپ کا انتظار کررہے ہیں، ہمارے ساتھ 10، 11لوگ ہیں۔
مجھے نہیں پتا اس میں کتنی حقیقت ہے؟ ان کا اشارہ شاہ محمود قریشی کی طرف تھا،کیونکہ شاہ محمود قریشی ہی اپنے سارے آپشن کھلے رکھتے ہیں۔ لیکن شاہ محمودقریشی موجودہ حالات میں کیسے فون کریں گے، ان کے ساتھ دس گیارہ آدمی بھی نہیں ہے۔
راستے کیا ہیں؟ تحریک عدم اعتماد بڑا مشکل کام ہے، عمران خان کو نکال کر دوسرا آدمی لایا جائے یہ بڑا مشکل کام ہے، کیونکہ پارٹی اسی کے نام پر ہے، اسی نے چلائی ہے، تیسرا آپشن یہ ہے کہ اپوزیشن استعفے دے دے، پھر نئے الیکشن کروائے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک آخر میں حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات ہوجائیں گے۔اس کیلئے کوئی آپشن نہیں ہے۔واضح رہے گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ان سے کوئی پوچھے کہ وہ کون وزیر تھا جس نے لندن سے فون کیا اور کہا کے میرے ساتھ پی ٹی آئی کے 11اور 12 ایم این ایز ہیں۔ کچھ کریں ہم تیار بیٹھے ھیں. جن کو فون ہوا تھا ان کا نام میں بتا سکتا ہوں۔
اس سے قبل وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے آج سیالکوٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ استعفوں کی نوبت آئی تو خواجہ آصف پارٹی کا ساتھ نہیں دیں گے، اسمبلیوں سے استعفے دینا آسان کام نہیں، زیادہ سے زیادہ 18 سے 20 ن لیگی ارکان استعفی دیں گے، یہ تو اسی دن استعفے دینے لگے تھے، زرداری نے ان کو استعفے دینے سے روک دیا
نہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا ہے کہ اللہ نے بڑی مہربانی کی ہے کہ پاکستان میں کورونا زیادہ نہیں پھیلا، اب ہمیں بے وقوفی نہیں کرنی چاہیے، یہ نا ہوں کہ جیسے لندن اور امریکا میں واپس آیا ہے۔
بہتر یہ ہوگا کہ ہم بچ جائیں۔ میں سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ 3 مہینے کیلئے سیاسی سرگرمیاں معطل کردیں، اور فروری میں دوبارہ شروع کردیں۔جن ممالک میں سردی ہوئی ہے وہاں کورونا بڑی شدت سے واپس آیا ہے۔
———————-
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ عمران خان کو کئی بار کہا کہ ٹی وی کم دیکھا کریں، عمران خان موبائل فون پر بھی ٹی وی دیکھتا رہتا ہے،عمران خان کو مہنگائی کا علم ہے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا ہم پر کوئی دباؤ نہیں ہے، لیکن اپوزیشن کی بے وفوقی ہے ، اس سے کورونا اور دہشتگردی پھیلنے کا خدشہ ہے، میں ان کو بار بار کہہ رہا ہوں کہ عمران خان ان کے جلسوں ، احتجاج سے نہیں جا رہا ہے۔
میں اشٹام پر لکھ کر دے دیتا ہوں۔ یہ جلسے کرنے کیلئے ماسک کا انتظام کریں۔باالآخر پیپلزپارٹی ان سے علیحدہ ہوجائے گی۔پیپلزپارٹی استعفے نہیں دے گی۔
اگر اپوزیشن نے قانون میں ہاتھ میں لیا تو قانون ان کے ساتھ چھترول کرے گا۔آخر کار الیکشن انہوں نے بھی لڑنا ہے، ہم نے بھی لڑنا ہے، لیکن یہ عمران خان سے ڈرے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے چینی، آٹے کا مسئلہ حل کردیا تو اس پر کوئی چوری کا الزام تو نہیں ہے۔

عمران خان کی واحد حکومت ہے، جس نے ٹڈی دل، کورونا کو حل کیا۔انہوں نے کہا کہ ساری قوم کو کہتا ہوں کہ اپوزیشن کا خوفناک ایجنڈا ہے، پاکستان کوعدم استحکام کا شکار کرنا عالمی ایجنڈا ہے، فرقہ واریت پھیلانا انٹرنیشنل سازش ہے، نوازشریف اس کا آلہ کاربن رہے ہیں ، کیونکہ نواز شریف نے فوج کیخلاف بات کی، جو کہ خود جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4کی پیداوار ہے۔
نوازشریف نے جو غلطیاں کی ہیں وہ گانٹھیں اپنے دانتوں سے کھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت میں سارے زیادہ تر وزراء نئے ہیں، لیکن عمران خان نے بہت سیکھا ہے۔مہنگائی حکومت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ مہنگائی کو عمران خان ختم کریں گے۔عمران خان سے لوگوں کو نفرت نہیں بس مہنگائی کی وجہ سے اختلاف ضرور ہے۔کیا عمران خان ٹی وی نہیں دیکھتا، وہ فون پر بھی ٹی وی دیکھتا رہتا ہے، عمران خان کو کئی بار کہا کہ ٹی وی کم دیکھا کریں
————-
مسلم لیگ ن کے منحرف ایم پی اے جلیل شرقپوری نے کہا ہے کہ میری کوشش بلاک بنانے کی نہیں، بلاک خود بخود بن جائے گا،شوکاز نوٹس کا جواب دے دیا ہے، پارٹی سے نکالنے کا مجھےکوئی نوٹس نہیں ملا، جب نوٹس ملا تو دیکھوں گا کہ اس کی اخلاقی قانونی حیثیت کیا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عمران خان صحیح بات کررہے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں اسلام کا نعرہ لگایا۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ہے تو پھرعمران خان کے ووٹ کو بھی عزت دینی چاہیے۔ ووٹ کوعزت دینی ہےتو تمام پارٹیوں کے ووٹوں کو عزت دینا ہوگی۔عمران خان کے ویژن کو سپورٹ کرتا تھا لیکن ٹکٹ نوازشریف کے کہنے پر لی ہے۔ نوازشریف سے نظریاتی اختلاف ہوا تو ن لیگ سے الگ ہوگیا تھا۔
جلیل شرقپوری نے کہا کہ جمہوری کلچریہ ہے کہ سب کی بات سنی جائے۔

مسلم لیگ ن میں نیک نیتی سے آیا ہوں اور مسلم لیگ ن کا حصہ ہوں۔ نواز شریف کو چاہیے ملک کے بہتری کیلئے بات کریں۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت کی توسیع کیلئے ووٹ دیا گیا، اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کسی صورت بھی مفاد میں نہیں۔ بھارت نوازشریف کے بیانیے سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ خواہش ہے کہ مسلم لیگ ن ملک کی بہتری کیلئےکام کرے۔ انہوں نے کہا کہ کس نے پارٹی نہیں بدلی۔
کیا نوازشریف نے پارٹی نہیں بدلی۔ پارٹی سے نکالنے کا مجھےکوئی نوٹس نہیں ملا۔ انہوں نے میاں رؤف کے خلاف کارروائی کے لیے پیر تک کی ڈیڈلائن دی ہے۔ کیسےجرأت کی گئی کہ میرے جیسے باکردار شخص کا راستہ روکا گیا؟ انہوں نے کہاکہ مجھے پارٹی کے فیصلوں سے اختلاف کرنے کا حق ہے ،بدقماش شخص ایم پی اے بن گیا ہے جس نے میرے ساتھ بداخلاقی کی ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں ممتاز قادری کو شہید کیا گیا ،منہاج القران پر چڑھائی کی گئی کیا کوئی بھول سکتا ہے ،کیپٹن (ر) صفدر ممتاز قادری کے معاملے میں شرمندہ تھے اور انکے مزار پر جا کے معافی مانگتے تھے۔
میں نے دونوں واقعات کی مذمت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں نیک نیتی سے آیا ہوں اور مسلم لیگ (ن) کا حصہ ہوں،نواز شریف کو چاہیے ملک کے بہتری کے لیے بات کریں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آج تک اگر نواز شریف اور رانا ثناللہ کے پاس ٹائم ہے وہ اس شخص کے بارے میں کیا اقدام اٹھاتے ہیں،اس کے بعد ہم لائحہ عمل اپنائیں گے اور سمجھیں گے نواز شریف بھی اس شخص کے مزاج جیسے ہیں،سپیکر سے درخواست ہے اس شخص کو سزا دی جائے