خوفزدہ وزیراعلی کی کہانی

ویسے تو وزیراعظم عمران خان کے سامنے اس طرح کوئی بھی وزیراعلی بات کرنے کی ہمت نہیں رکھتا جس طرح سید مراد علی شاہ بات کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ ایک خوفزدہ وزیراعلی کیوں ہیں آج ان کے عمل سے ان کے دور حکومت کا جائزہ لیتے ہیں ۔
یہ تاثر عام ہے کہ سندھ کا وزیر اعلی قانونی اور آئینی طور پر بھرپور اختیارات رکھنے کے باوجود پارٹی قیادت کی جانب سے کھینچی گئی لائن کی وجہ سے ایک محدود کردار ادا کرنے کے قابل رہ جاتا ہے اور وزیر اعلی کو اپنے دائرے کار کا اچھی طرح علم ہے اس لئے وہ اپنا پاؤں اس لائن سے آگے نہیں نکالتا جسے ریڈ لائن کہا جاتا ہے ورنہ اس کے پاؤں جلنا شروع ہو جاتے ہیں ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صوبے میں گڈگورننس چاہتے ہیں اس کے لیے پرعزم بھی ہیں اور متعدد اقدامات بھی اٹھا چکے ہیں ۔

لیکن دوسری طرف صوبے کے انتظامی معاملات اور مختلف محکموں کے اختیارات اور فیصلوں کا مرکز کچھ ایسی شخصیات ہیں جو بلاول اور وزیراعلی سے بھی زیادہ طاقتور ہیں یا کم از کم انہیں زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ سندھ کے مختلف محکموں میں افسران کے تبادلے اور تعیناتی سے لے کر اہم فیصلوں تک مختلف شخصیات زیادہ سرگرم طاقتور اور بااثر سمجھی جاتی ہیں ۔

بظاہر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ خود کو آئینی اور قانونی طور پر نہایت بااختیار قرار دیتے ہیں اور وزیراعظم کے اجلاس ہو یا قومی سطح پر سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ ملاقات ہو وہ کھل کر اپنی بات کرتے ہیں اور جہاں وفاقی حکومت اور دیگر شخصیات سے اختلاف کرنا ہوتا ہے وہاں اپنی پارٹی کا موقف اور اپنا سیاسی نقطہ نظر اور اپنی حکومت کی کارکردگی اور اقدامات کا کھل کر اظہار بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں سندھ کا صحیح ترجمان کیا جاتا ہے اور عوام انہیں بھی پسند کرتے ہیں اور ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں لیکن ان کے اعلانات بیانات اور اقدامات سے وفاقی حکومت اور دیگر شخصیات زیادہ خوش یا مطمئن نہیں ۔وزیراعلیٰ کو اس بات کی کوئی پرواہ بھی نہیں کہ وفاق میں بیٹھا کوئی شخص ان کے بارے میں کیا خیال رکھتا ہے کیونکہ انہیں اپنے صوبے کے عوام اور پارٹی قیادت اعتماد اور اطمینان زیادہ عزیز ہے وہ صوبے کے مفاد پارٹی قیادت کی پالیسی اور گائیڈ لائینز پر چلتے ہیں ۔


وزیراعلی سے آج تک کسی نے یہ نہیں پوچھا نہ انہوں نے کسی کو یہ بتانا مناسب سمجھا کہ اتنے بڑے صوبے میں انہیں کوئی ایک وزیر داخلہ کیوں نہیں مل سکا ۔یہ قلمدان انہوں نے اپنے پاس کیوں رکھا ہوا ہے کیا کوئی اس قابل نہیں کہ وہ صوبے کے داخلہ امور کی دیکھ بھال کرسکے یا وہ اپنی کابینہ کے کسی رکن پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ؟یا انہیں اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنی کابینہ میں کسی کو داخلہ کا قلمدان تفو یز کر سکیں ۔یہی صورتحال محکمہ خزانہ کی ہے ۔ایک ایسا صوبہ جو ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کے بجٹ پر چلتا ہے جس کے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی فنڈز کے اوپر بہت بحث ہوتی ہے اور اس کے فنڈز کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے ہیں اس بارے میں بھی وزیر اعلی سندھ کسی پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ وہ کسی کو محکمہ خزانہ کا قلمدان سونپے ۔پیپلز پارٹی 2008 جب سے برسراقتدار آئی ہے صوبے میں خزانہ کے معاملات کسی نہ کسی طور پر مراد علی شاہ دیکھ رہے ہیں ۔سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں میں

فنڈزکی تقسیم کا معاملہ بھی براہ راست مراد علی شاہ کی زیر نگرانی کا ہوتا ہے لاڑکانہ کو ہزاروں ارب روپے دیے گئے ہو یا کراچی کو مطلوبہ فنڈز نہ دیے گئے ہو اس حوالے سے جب بھی بحث ہوتی ہے جب بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں تو مراد علی شاہ کا ہی کردار سامنے آتا ہے کیونکہ خزانہ کا قلمدان ان کے پاس ہے اور لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ صوبے کی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں بھی انہی کا عمل دخل ہے ۔کیا ان کے 19 وزیروں اور چار مشیروں اور 11 معاونین خصوصی اور ایک کوآرڈینیٹر میں کوئی اس قابل نہیں کے وہ صوبے کا خزانہ کاقلمندان سنبھال سکے ۔کیا پوری سندھ دھرتی میں کوئی ایک اور ایسا سپوت نہیں جو اتنا ذہین اور قابل ہو کے صوبے کے خزانہ کے

معاملات کو دیکھ سکے ۔کیا وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں یا ان کی نظر میں وہی صوبے کے سب سے قابل ترین شخص ہیں اور ان کے علاوہ اس دھرتی نے کسی اور کو ایسا ذہین اور قابل پیدا نہیں کیا کہ وہ صوبائی حزانہ کے امور کی بہتر دیکھ بھال کرسکے ۔
صوبائی کابینہ کی ساخت عجیب ہے کہ وزیر اعلی نے چند وزراء کو چار چار اور چھ قلمدان سونپ رکھے ہیں اور کچھ کہ ذمہ بمشکل ایک قلمدان ہے اور خود وزیراعلی نے بہت سے قلمدان سنبھال رکھے ہیں جن محکموں کا کوئی وزیر

نہیں ہے وہ سب محکمے براہ راست وزیراعلی کے ماتحت ہیں اور جہاں پر معاونین خصوصی یا مشیر اور معاونین خصوصی اور کوآرڈینیٹر موجود ہیں درحقیقت وہ محکمے بھی وزیر اعلی کی نگرانی میں آتے ہیں ۔کیا کوئی وزیراعلی اتنے قلمدان اپنے

پاس رکھ کر مختلف محکموں سے انصاف کر سکتا ہے بے شک سندھ کا وزیر اعلی بہت سرگرم ہے فعال ہے اور 24 گھنٹے میں سے 16 گھنٹے سے زیادہ کام کرتا ہے لیکن اس کے

باوجود اتنے سارے محکموں کا قلم دان اپنے پاس رکھ کر

ان محکموں کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔
—-by—Salik-Majeed—-for—jeeveypakistan.com