آشوبِ پسنی

آشوبِ پسنی

عزیز سنگھور
روزنامہ آزادی، کوئٹہ

پسنی ءِ ریکاں چاراناں
منی دل بوتگ دیوانہ
مشہور و معروف بلوچی کلاسیکل گلوکار محمد جاڑوک بلوچ نے مکران کے ساحلی شہر پسنی کوگنگنایا۔ جاڑوک کہتا ہے کہ پسنی کے ریتوں کو دیکھتا ہوں میرا دل پسنی کا دیوانہ ہوجاتا ہے۔
پسنی کی خوبصورتی بھی ان کے ریت کی ٹیلوں میں ہے۔ سورج کے طلوع اور غروب کے منظر شہر کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگاتےہیں۔ نام پسنی، اصل میں ریتوں کی وجہ سے پڑا۔ یہ لفظ بلوچی ہے۔ جس کا مطلب ہے پھنسنا یعنی گاڑی، انسان اور جانور ریت میں دھنس کر پھنس جاتے ہیں۔ تاہم بعض مورخ اس نام کے لفظی مطلب سے متفق نہیں ہے۔
پسنی اپنے اندر ایک درد بھری کہانی رکھتا ہے۔ اس کی تاریخ بہت طویل ہے۔ یہاں کے لوگوں کے ساتھ ماضی میں بڑے دھوکے ہوئے۔ حال بھی گمبھیر ہے اور مستقبل بھی تاریک نظر آتا ہے۔ حملہ آوروں نے پسنی کو بزور طاقت قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا قتل عام کیاگیا۔ ان کی بستیوں کو جلایا گیا۔ پسنی کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹاگیا۔ جس کے ہاتھ جتنا لگا اپنا حصہ لیتا رہا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
325قبل مسیح میں سکندر اعظم جب برصغیر سے واپس یونان جا رہا تھا تو اس نے یہ علاقہ اتفاقاً دریافت کیا اس کی بحری فوج نے اپنے جہاز پسنی کے ساحل پر لنگرانداز کیے۔ جبکہ 16ویں صدی میں پرتگیزیوں نے مکران کے متعدد ساحلی علاقوں کو قبضے کرنے کی کوشش کی۔ جس سے میر حمل کلمتی کی قیادت میں بلوچ اور پرتگیزوں کے درمیان شدیدلڑائی ہوئی۔ جن میں پسنی کا علاقہ بھی شامل تھا پرتگیزیوں نے شکست کے بعد پسنی کے علاقے سیاہیں کوہ کو جلا دیا تھا۔
اٹھارویں صدی میں پسنی کی ساحلی پٹی انگریز فوج نے قبضہ کرلیا۔ جس کے خلاف مزاحمت شروع ہوگئی۔ اس مزاحمتی تحریک کی قیادت میر بلوچ خان کررہے تھے۔ انگریز فوج اور بلوچ مزاحمت کاروں کی گوک پروش کے مقام پر دو بدو جنگ ہوتی ہے۔ اس لڑائی میں میر بلوچ خان اپنے ساتھیوں سمیت شہادت نوش کرلیتا ہے۔آج بھی لوگ تربت سے پسنی جاتے ہوئے گوک پروش کے پہاڑوں کو بڑے غور اور خاموشی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ یہ خاموشی ایک احترام کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہ احترام دراصل بلوچ اپنے بلوچ ہیروں (شہیدوں) کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرتے ہیں۔ کیونکہ جب قومیں اپنے ہیروں کو فراموش کرتی ہیں وہ قومیں دنیا مٹ جاتی ہیں۔
پسنی نے نہ صرف حملہ آواروں کے ظلم و ستم کو برداشت کیا بلکہ قدرتی آفات نے بھی ان کا جینا حرام کردیا تھا۔ 1942ء میں پسنی میں ایک شدید سونامی (سمندری زلزلہ) آیا۔ سمندری موجوں نے تمام شہر تہ و بالا کر کے رکھ دیا۔
نویں کے دھائی میں پسنی میں ایک بجلی گھر تعمیر کیاگیا۔ جو نہ صرف پسنی شہر کو بجلی فراہم کرتا تھا بلکہ تربت شہر کو بھی بجلی فراہم کرتا تھا۔ پاور ہاؤس کو ٹینکروں کے ذریعے کراچی سے تیل فراہم کیا جاتا تھا۔ اس کا ٹھیکہ تربت کے ایک نامی گرامی کاروباری شخصیت کے پاس تھا۔ ٹھیکیدار نے ایران سے اسمگلنگ شدہ غیر معیاری تیل فراہم کرنا شروع کردیا۔ اس طرح ان کے ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بھی بچ جاتے تھے اور تیل سستا بھی پڑتا تھا۔ ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق تیل کی فراہمی کی مدمیں دو ارب سے زائدکی کرپشن سامنے آئی۔ غیرمعیاری اور سستے تیل کی فراہمی کی وجہ سے پاور ہاؤس کے تمام انجن ناکارہ ہوگئے۔ اور پورا پروجیکٹ اسکریپ ہوگیا۔ آج تک نہ ذمہ داروں کی گرفتاری نہیں ہوسکی۔
ماہی گیروں کی سہولت کے لئے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں فش ہاربر بنایا گیا تھا۔ 56 کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے پسنی فش ہاربرکا افتتاح اس وقت کی وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو اورگورنر بلوچستان شہید نوب اکبر خان بگٹی نے 1989 کوکیاتھا۔ اور یہ فش ہاربر مقامی لوگوں کو روزگار کے تحفظ کی ضمانت کے لئے بنایا گیا ہے۔ پسنی فش ہاربر کی تعمیر کا کام ایک جرمن کمپنی نے کیاتھا۔ اور پسنی فش ہاربر کے انتظامی اور مالی اختیارات پسنی فشریز ہاربر اتھارٹی کے نام پر ایک صوبائی اتھارٹی بناکر ان کے سپرد کردئے گئے۔ پسنی فش ہاربر ماضی میں ایک منافع بخش ادارہ تھا۔ تاہم حکام مالی بے قاعدگیوں اور بد انتظامی کے شکار بھی رہے ہیں۔ ہاربر کی مشینریز سمیت گاڑیوں کو سازباز کرکے من پسندوں لوگوں میں بانٹاگیا۔ جبکہ ہاربر کی قیمتی اراضی کو بھی پرائیوٹ پارٹیز کوفروخت کیاگیا۔ ہاربر پاور ہاؤس کے جنریٹر کو گوادر منتقل کردیاگیا۔ جس کے جتنا ہاتھ لگا سب نے اس دھندے میں اپنا منہ کالا کیا۔
موجودہ فش ہاربر صرف ایک ڈھانچے کا منظر پیش کررہا ہے۔ جہاں کشتیوں اور لانچوں کا نام و نشان نہیں ہے کیونکہ ڈریجنگ نہ ہونے کے باعث فش ہاربرکئی سال سے غیرفعال ہے۔ باربر مٹی سے بھر گیا۔ ماہی گیر اپنی کشتیوں اور لانچوں کو زرین کوہ کے قریب جڈی ہور میں لنگرانداز کرنے پر مجبور ہیں۔
پسنی فش ہاربر کی بحالی کے حوالے سے مختلف ادوار کے حکمرانوں نے دعوے تو بہت کیے مگر ہاربر کی مکمل بحالی اب تک سوالیہ نشان بن گئی۔
پسنی نے بڑی شخصیات بھی پیدا کئے۔ جن میں انقلابی شاعر قاضی مبارک، نامور بلوچی شاعرانور صاحب خان، شاعر منیر مومن، بلوچی گلوکارہ گل جان گلو، بلوچی گلوکار نورخان بزنجو، گلوکار نصیر پسنی والا،اکلوتا بلوچی نیوز چینل وش کے بانی احمد اقبال، ٹی وی اداکار انور اقبال اور دیگر شامل ہیں۔ انور صاحب خان نہ صرف ایک اچھے شاعر تھے بلکہ وہ ایک تھیٹر رائٹر بھی تھے۔ وہ اپنے تھیٹر کے ذریعے پسنی کے ماہی گیروں کی حالت زندگی اور مشکلات کو اجاگر کرتے تھے۔ بلوچی انقلابی شاعر قاضی مبارک اپنی شاعری سے بلوچ تحریک کو ایک جذبہ اور حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ قاضی صاحب ایک الگ تھلگ اور منفرد شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی شاعری سے نادیدہ قوتیں پریشان اور نالاں ہیں۔ قاضی مبارک کو بلوچ نوجوان اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں۔ ان کی شاعری بلوچ مزاحمتی تحریک کی عکاسی کرتی ہیں۔
ٹی وی اداکار انوراقبال بلوچ نہ صرف پاکستانی فلمی صنعت میں اپنا ایک مقام بنایا بلکہ انہوں پہلی بلوچی فلم حمل ماہ گنج بنائی تھی۔ جو بلوچ اور پرتگیز سامراج کی جنگ سے متعلق تھی۔ احمداقبال نے بلوچی نیوز چینل وش کی بنیاد رکھی۔ وہ اردو اور بلوچی کے اچھے شاعر بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں قوم پرستی کے ساتھ ساتھ وفاق پرستی بھی جھلکتی ہے۔
پسنی بحریہ بلوچ کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ اپنے محل وقوع کے لحاظ سے بڑی جنگی اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔ نائن الیون کے حملے کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملے کرنے کے لئے پسنی کی سرزمین بھی استعمال کی۔ آج بھی عالمی قوتوں کی پسنی کے محل وقوع پر نظریں ہیں۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایئرپورٹ کے قریب تمام علاقوں کی اراضی کی لیز کو کینسل کردیاگیا۔ جو مقامی افراد کی جدی پشتی اراضی تھی۔ یہ اراضی تقریبا 35ہزار ایکڑ پر مشتمل ہیں۔ ایک مصدقہ ذرائع کے مطابق ان کینسل شدہ اراضی میں بیس ہزار ایکڑ اراضی ایک غیرملکی فرم کے حوالے کردی گئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ عالمی قوتیں یہاں سے ہمارے ایک اور ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال کرینگی۔یہ ہمسایہ ملک پسنی سے کافی قریب واقع ہیں۔ تاہم حکام اس الاٹمنٹ کی سرکاری طورپر تردید کرتے ہیں۔ اس طرح بلوچستان کی سرزمین ایک بار پھر عالمی قوتوں کے قبضے میں جائے گی۔ سرزمین کے اصل مالک (بلوچ) کو ان تمام معاملات سے دور رکھا گیا۔ بلکہ کوہ مارگلہ کی سرکار نے ان کو غداری کا سرٹیفیکٹ بھی جاری کردیےہیں۔ اس صورتحال میں شاعر نے کیا خوب کہا:
میں بولتا ہوں تو الزام ہے بغاوت کا
میں چپ رہوں تو بڑی بے بسی سی ہوتی ہے