* ایک بڑا آدمی ریٹائر ہو گیاہے*۔

یہ بڑا آدمی نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی ہیں، جنہوں نے اپنے تین سالہ دور میں پاکستان نیوی میں ایسا انقلاب برپا کیا جو نہ صرف قابلِ تحسین بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔

تفصیل کچھ یہ ہے:

ایڈمرل عباسی کی ہدایت پر پاک بحریہ اور بحریہ فائونڈیشن کے تحت چلنے والے تمام اسکولوں میں قرآن کو فہم کے ساتھ لازمی طور پر پڑھایا جا رہا ہے جس کے لئے پرانے اساتذہ کی تربیت کی گئی اور نئے استاد بھی بھرتی کئے گئے۔

اس کے ساتھ ساتھ بحریہ کے رہائشی علاقوں میں قرآن سنٹرز کھولے گئے ہیں جہاں بچوں، بڑوں اور بوڑھوں، سب کو قرآن حکیم کی فہم کے ساتھ تعلیم دی جاتی ہے اور اسلامی اقدار کے فروغ اور مغرب کی ذہنی غلامی سے چھٹکارے پر زور اور تربیت دی جاتی ہے۔ اسلامی لباس اور اسلامی شعائر کو اپنانے پر زور دیا جاتا ہے اور طلبہ کو بالخصوص علامہ اقبال کے فکری انقلاب سے روشناس کروایا جاتا ہے۔ بحریہ یونیورسٹی میں اسی سلسلہ میں اقبال چیئر کا بھی قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔

پاک بحریہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اب تک کوئی دو سو Religious Motivation آفیسرز بھرتی کئے جا چکے ہیں۔ اِن افسران نے بہترین دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کی ہوئی ہے اور نیول اکیڈمی کے تربیت یافتہ ہیں۔ اِن Religious Motivation Officers کی ذمہ داری ہے کہ وہ نیول افسران اور ماتحت اہلکاروں کی اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کے حوالے سے حوصلہ افزائی کریں۔ اِن افسران کو نیوی کے جہازوں میں بھی افسران اور ماتحت اہلکاروں کی اسلامی اصولوں کے مطابق تعلیم و تربیت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اِن افسران کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ خطبۂ جمعہ دیں اور دورِ حاضر کے ایشوز پر عوام کی اسلام کی روشنی میں رہنمائی کریں۔

ریٹائر ہونے والے نیول چیف کے دور میں بحریہ کے تحت چلنے والی تمام مساجد کی بہتر تزین و آرائش کی گئی ہے جبکہ خطیب اور امام مساجد کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نیوی اکیڈمی کے کیڈٹس کے لئے عربی زبان کی تعلیم کو لازم کر دیا گیا ہے جبکہ PNS جوہر کی ڈگری میں قرآنی عربی کا نفاذ بھی کر دیا گیا ہے۔

خواتین کو پردہ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، اُن کے لئے خصوصاً پڑھاتے وقت ستر کو چھپا کر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ مردوں کو نگاہوں کی حفاظت کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

پروموشن کے لئے پاک بحریہ کے افسران کے کردار کو اب بہت اہمیت دی جاتی ہے یعنی اگر کوئی افسر چاہے جتنا ہی قابل اور لائق ہو لیکن باکردار نہ ہو تو اُسے ترقی نہیں دی جاتی۔

یہ سب کسی خوبصورت انقلاب سے کم نہیں، جس پر ایڈمرل ظفر عباسی مبارک باد کے مستحق ہیں اور جس کی لازمی طور پر پورے پاکستان میں تقلید ہونی چاہئے کیونکہ نہ صرف ہمارے آئین کا یہی منشا ہے بلکہ یہ سب پاکستان کو ریاستِ مدینہ کے اصولوں کے تحت چلانا ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ نہ صرف نئے نیول چیف اِن اقدامات کو آگے بڑھائیں گے بلکہ آرمی چیف اور ائیر چیف بھی اس خوبصورت انقلاب کو پاکستان آرمی اور پاکستان ائیر فورس میں متعارف کروائیں گے۔

یہاں میں قارئین کو یہ بتاتا چلوں کہ سبکدوش ہونے والے نیول چیف اسلام اور اسلامی نظام کے نفاذ کا وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میٹنگز میں کھل کر اظہار کرتے تھے۔

ایک میٹنگ کے دوران ایڈمرل عباسی نے وزیراعظم سے کہا کہ پاکستان میں موجود بہت سی خرابیوں کا تعلق سودی نظام سے ہے، جو اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے اور جسے ختم کئے بغیر ہم ان بیماریوں اور خرابیوں سے جان نہیں چھڑا سکتے۔
————
اصغر علی عاجز (اسپین)