نواز شریف آصف زرداری کو جیل جانے سے نہیں بچائیں گے

سابق وزیراعظم نواز شریف کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے آصف زرداری اور ان کی بہن کے سر پر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے آنے والے دنوں میں انہیں کسی بھی مرحلے پر گرفتار کیا جا سکتا ہے وہ ذہنی طور پر اس کے لئے تیار نظر آتے ہیں اس لیے انہوں نے جیالوں کو کہہ دیا ہے کہ بلاول کا خیال رکھنا ۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ نواز شریف آصف زرداری کو جیل جانے سے نہیں بچائیں گے کیونکہ جب نواز شریف اقتدار میں تھے تو آصف زرداری نے ان کے خلاف بلوچستان حکومت کی تبدیلی سے لے کر سینٹ کے الیکشن اور عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے مختلف مراحل میں نواز شریف کی کوئی بات نہیں مانی نہ ہی ان کا ساتھ دیا بلکہ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کا باعث بنتے رہے اس لیے اب نواز شریف عمران خان سے بدلہ لینے کی شدید خواہش کے باوجود آصف زرداری کو جیل جانے سے نہیں بچائیں گے ۔مولانا فضل الرحمن کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوئی اس لیے وہ خود پریشان نظر آتے ہیں اور انہیں اسپتال بھی جانا پڑ گیا ۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو ایک جیسی مشکلات کا سامنا ہے ہوگا وہ جیل میں ہونگے یا بیرونے ملک نہیں جا سکیں گے اور ان کی قید سے رہائی کا دارومدار ان کی صحت پر ہوگا ۔بلاول بھٹو زرداری کے خلاف بھی مقدمات بنیں گے اور انہیں بھی الزامات کا سامنا رہے گا لیکن وہ نہ تو گرفتار ہوں گے نہ ہی حکومت کے خلاف دباؤ میں کمی لائیں گے ۔نیشنل ایکشن پلان اور کالعدم تنظیموں کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اپنا رکھا ہے اس کی وجہ سے حکومت دباؤ کا شکار ہے بلاول کے موقف میں اسی وقت گھر میں آئے گی اگر ان کے والد اور پارٹی کو رعایت ملے گی جب تک رات نہیں ملے گی وہ نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر دباؤ بڑھاتے رہیں گے جس کی وجہ سے حکومت کو دباؤ میں آکر ان کے ساتھ کوئی سیٹلمنٹ کرنی پڑے گی اس دوران اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے معاملات پر بھی اپوزیشن بالخصوص بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ حکومت کو معاملہ طے کرنے پڑیں گے جس کا مطلب آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ اور پیپلز پارٹی اور رعایت دینا ہوگا فوری طور پر وزیراعظم عمران خان اس موڈ میں نہیں کہ آصف زرداری یا پیپلز پارٹی کی قیادت کو کسی قسم کی کوئی رعایت دی جائے ابھی تو وہ نیب کے اختیارات سے اپوزیشن کے خلاف آنے والے نتائج اور کارروائیوں پر خوشی منا رہے ہیں لیکن ملکی معیشت کی خراب صورتحال کی وجہ سے انہیں سیاسی جماعتوں کی قیادت بالخصوص اپوزیشن کے ساتھ آج نہیں تو کل بیٹھنا پڑے گا بظاہر وہ فی الحال کسی کے ساتھ بیٹھنے یا بات کرنے کے لیے راضی نہیں بلکہ ملاقات سے صاف انکاری ہیں لیکن اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری آنے والے دنوں میں حکومت پر اتنا دباؤ بڑھائیں گے یہ عمران خان کی حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ بات کرنی پڑے گی جس کا مطلب مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کے ساتھ سیٹلمینٹ یا ان کو رعایت دینی پڑے گی بصورت دیگر نہ تو کسی قسم کی قانون سازی آگے بڑھ سکے گی نا این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ حل ہو سکے گا اٹھارویں ترمیم پر کوئی بات ہو سکے گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں