سکھر حیدرآباد موٹروے کی تعمیر پر ایک سو پچھتر ارب روپے سے زائد رقم خرچ ہونے کا امکان


کراچی کو پشاور سے ملانے والی موٹروے کا ایک انتہائی اہم حصہ جو حیدرآباد سے سکھر تک باقی رہ گیا ہے یہ تین سو چھ کلو میٹر پر محیط ہے اور اس پر ایک سو پچھتر ارب روپے کی لاگت کا اندازہ لگایا گیا ہے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق تین سو چھ کلومیٹر کے اس موٹروے کے اہم حصے کو ایم سکس کا نام دیا گیا ہے یہاں پر چودہ انٹرچینج اور ڈریس ان پر ایک بڑا پل اس کے علاوہ چھ فلائی اوور دس سروس ایریا اور بارہ ریسٹ ایریا شامل ہوں گے ۔محتاط اندازہ ہے کہ اس پر ایک سو پچھتر ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی اس اہم پروجیکٹ کو غیر ملکی سرمایہ کاری سے مکمل کرنے میں دلچسپی لے رہی ہے اسی لیے انٹرنیشنل سرمایہ کاری کی ترغیب دی گئی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اسے مکمل کرنے کا پروگرام بنایا گیا واضح رہے کہ کراچی سے پشاور تک بننے والی موٹروے تقریباً مکمل ہے صرف سکھر سے حیدرآباد کا تین سو چھ کلومیٹر کا ایریا باقی ہے ۔

یاد رہے کہ پاکستان میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی قومی شاہراہوں کی دیکھ بھال کرنے والا اہم قومی ادارہ ہے جو تقریبا سینتالیس نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز اور اہم قومی شاہراہوں کی نگرانی کرتا ہے اور ان کی دیکھ بھال کرتا ہے ۔
ذرائع کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو اس کے پروجیکٹ کی ضرورت کے مطابق فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں اور گزشتہ برس 158 ارب روپے سے زیادہ کے منصوبے تھے جن میں سے 34 ارب روپے منٹیننس پر رکھے گئے مجموعی طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی ملک بھر میں 12 ہزار کلومیٹر کی موٹروے نیشنل ہائی ویز کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ملک کا 80 فیصد ٹریفک کسی کے شہروں سے گزرتا ہے ۔
jeeveypakistan.com-report