بیروز گار سیاستدان اکٹھے ہو گئے : یہ ڈاکوؤں کا ٹولہ ہے، ہندوستان کا ایجنڈا لے کر پھر رہے ہیں، عوام کسی کی چوری بچانے کیلئے نہیں نکلتے : عمران خان

اسلام آباد(اے پی پی،دنیا نیوز)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جتنے مرضی جلسے جلوس کر لے قانون توڑنے پر سیدھا جیل جائیں گے اور انہیں وی آئی پی جیل میں نہیں بلکہ عام قیدیوں کیساتھ رکھا جائے گا، سارے بیروز گار سیاستدان اکٹھے ہو گئے ہیں، اپوزیشن کا مسئلہ جمہوریت نہیں کرپشن بچانا ہے ، یہ ڈاکوئوں کا ٹولہ ہے ،یہ لوگ بھارت کا ایجنڈا لے کر پھر رہے ہیں، لندن میں بیٹھا شخص لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ اس کی چوری بچانے کے لئے باہر نکلیں، عوام چوری بچانے کے لئے نہیں نکلتے ، چاہے یہ پیسے بانٹیں یا قیمے کے نان کھلائیں، لوگ باہر نہیں نکلیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انصاف لائرز فورم کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حضرت علی ؓ کا قول ہے کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ناانصافی اور ظلم پر مبنی نظام نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں مدینہ کی ریاست کا نام ووٹ لینے کے لئے استعمال کر رہا ہوں تو یہ درست نہیں ہے ، قائداعظم سے بھی پاکستان کے آئین کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ 1400 سال پہلے بن گیا تھا، علامہ اقبال نے بھی فرمایا کہ مسلمان معاشرہ نے جب بھی ترقی کی مدینہ کی ریاست کے اصولوں کی بنیاد پر کی، جہاں پر کوئی قانون سے بالاتر نہیں تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ شریف خاندان عدالتوں کے فیصلوں کو نہیں مانتا، ایک فیکٹری سے ان کی کئی فیکٹریاں بن گئی ہیں، بیرون ملک جائیداد بھی بنا لی ہے لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے کوئی اس بارے میں پوچھ نہیں سکتا۔ سڑکوں پر نکل کر عمران خان کو بلیک میل کرنے کا خواب دیکھنے والے ناکام ہوں گے ۔ ہم سے بڑا کوئی جلسہ نہیں کر سکتا۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما نواز شریف کے بیرون ملک جانے کو امام خمینی کی جلاوطنی سے مماثلت دے رہے ہیں حالانکہ امام خمینی اور ان کے بچوں کی بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادیں نہیں تھیں، ایران کے لوگ ان سے محبت کرتے تھے اور ان کا ایران میں چھوٹا سا گھر تھا، ان کی طرح محلات نہیں تھے اور لاہور سے ہیلی کاپٹر نہاری لے کر نہیں آتا تھا۔ کہاں امام خمینی اور کہاں ہمارا نہاری کھانے والا یہ شخص؟۔ تمام اپوزیشن مل بھی جائے تو انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا، یہ عناصر عدالتوں کے فیصلوں کو بھی تسلیم نہیں کرتے ، یہ عناصر پیغام دیتے ہیں کہ یہ خاص طبقہ ہیں جن پر کسی قانون کا اطلاق نہیں، نواز شریف نے بیماری کا بہانہ بنا کر اور باہر جانے کیلئے منت سماجت کا راستہ اختیار کیا لیکن لندن کی ہوا لگتے ہی ایک نیا نواز شریف سامنے آ گیا، کابینہ کے اجلاس میں نواز شریف کی ایسی ایسی بیماریوں کے بارے میں ایسی داستان بتائی گئی کہ ہماری وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے ۔ لندن میں نواز شریف کے ہر بچے کے الگ الگ فلیٹس ہیں اور یہ بیرون ملک اپنی جائیداد اور اثاثوں کی مصدقہ دستاویزات پیش نہیں کر سکے ، کتنی حیرانی کی بات ہے کہ تین بار وزیراعظم رہنے والے کے پاس ثبوت کے لئے کچھ نہیں۔ اگر میں کھلاڑی ہوکر40سال پرانے معاہدے لا سکتا ہوں تو یہ اپنی دستاویزات کیوں پیش نہیں کر سکتے ، میں نے سپریم کورٹ میں اپنے تمام اثاثوں کی تفصیل پیش کی۔ وزیراعظم نے کہا یہ ایک ایسی جماعت ہے جس کا ایک سینئر رہنما گزشتہ دنوں رات کے تین بجے اپنی ایک خاتون رکن کے گھر تنظیم سازی کرنے چلا گیا اور پھر اس کے بھائیوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا،رات تین بجے تنظیم سازی کرنیوالے ہی نوازشریف کو ایماندار سمجھتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا ایک رپورٹ آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں غریب ترین ممالک سے سالانہ ایک ہزار ارب ڈالر چوری ہو کر مغربی ممالک اور یورپ میں بھجوائے جاتے ہیں۔ سکولوں اور ہسپتالوں میں پیسہ کیسے خرچ ہو گا جب جو بھی حکمران ہوں اپنا علاج بھی باہر کرانے جا ئیں اور اپنے ملک میں پیسہ خرچ نہ کریں۔ یہ فیصلہ کن جنگ ہے ، ہر شخص چاہے کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو اس پر قانون کا اطلاق ہو گا، آج ملک میں عدلیہ آزاد ہے ، پرویز مشرف نے دباؤ میں آ کر ان لوگوں کو این آر او دیدیا تھا، دس سال میں معیشت کو انہوں نے تباہ کیا اور ملک پر قرضوں میں اضافہ کیا، دو سال مشکلات سے ہم نے نکال لئے ہیں اور اس عرصہ میں بڑے بڑے بحران آئے جن میں کوویڈ۔19 کا بحران بھی شامل تھا، ڈبلیو ایچ او نے بھی کہا ہے کہ پاکستان ان چار ممالک میں شامل ہے جو کامیابی سے کوویڈ ۔19 کے چیلنج سے نمٹنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے معاملہ پر بھی قانون سازی میں اپوزیشن نے رکاوٹ ڈالنے اور ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی کیونکہ اگر یہ قانون منظور نہ ہوتا تو پاکستان پر پابندیاں لگ جاتیں۔ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے اس لئے اپوزیشن کو حکومت گرانے کی جلدی ہے ، اس وقت ساری دنیا میں مشکل حالات ہیں لیکن ملکی تاریخ میں گزشتہ ماہ سیمنٹ کی سب سے زیادہ فروخت ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ موٹر سائیکلوں کی بھی ریکارڈ فروخت رہی ہے ۔ یہ لوگ فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بھارت بھی یہی چاہتا ہے لیکن ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیاں دی ہیں اور اس کی قربانیوں کی وجہ سے ہم محفوظ ہیں،نواز شریف پاک فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے ہیں۔ فوج پر انگلیاں اٹھانے والوں سے پوچھتا ہوں کہ مجھے فوج سے کیوں کوئی مسئلہ نہیں، فوج نے کورونا کی صورتحال سے نمٹنے اور کراچی میں حالات کی بہتری سمیت ہر معاملہ میں ہماری مدد کی ہے ، آئی ایس آئی دنیا کی سب سے بہترین ایجنسی ہے ۔ جسٹس (ر) کھوسہ نے کہا تھا کہ فوج اور عدلیہ کے سوا کوئی بھی ادارہ آزادانہ طریقہ سے کام نہیں کر رہا تھا اور ہر ادارے پر سابق حکمرانوں کا کنٹرول تھا، آئی ایس آئی کو ان کی چوری کا علم تھا، اس لئے نواز شریف کی آرمی چیف سے نہیں بنی، آئی ایس آئی کو پورا علم ہے کہ عمران خان کیسی زندگی گزار رہے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے اگر نواز شریف سے استعفیٰ طلب کیا تھا تو نواز شریف اس لئے خاموش ہو کر بیٹھ گئے تھے کیونکہ ظہیر الاسلام کو نواز شریف کی چوری کے بارے میں معلوم تھا۔ اگر جمہوریت کا معاملہ ہو تو اس کی سب سے بڑی مثال میں ہوں جو پانچ حلقوں سے الیکشن جیت کر آیا ہوں، 2013 اور 2018 کے الیکشن کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، 2013 میں قومی اسمبلی کے انتخابات کے حوا لے سے 140 عذر داریاں دائر کی گئی تھیں جبکہ 2018 کے انتخابی نتائج سے متعلق 93 عذر داریاں دائر کی گئیں جن میں سے آدھی سے زیادہ تحریک انصاف کے امیدواروں کی تھیں، تحریک انصاف کے امیدوار کہیں پچاس اور کہیں سو ووٹوں سے ہارے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی پارٹی فوج اور عدلیہ کو بھی برا بھلا کہتی رہی ہے ، یہ چاہتے ہیں کہ انہیں کسی طرح این آر او مل جائے ، اگر یہ این آر او چاہتے ہیں تو ملک کے ان غریب قیدیوں کا کیا قصور ہے جو جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔انہیں این آر او مل گیا تو اس سے ملک کی تنزلی شروع ہو جائے گی اور ملکی بالادستی کو نقصان پہنچے گا۔علاوہ ازیں وزیرِاعظم عمران خان نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے ، ماضی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ کو نظر انداز کئے جانے کے باوجود ہمارے نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ کی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے ۔ وزیرِاعظم نے چیئرمین این آئی ٹی بی کو ہدایت کی کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے پیش کی جانے والی تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے مفصل حکمت عملی اور روڈ میپ تشکیل دیا جائے ۔

Courtesy duniya news