جے ایس گروپ … نئی مشکلات کا شکار

کہتے ہیں کہ انسان پر جب مشکلیں آتی ہیں تو ایک ساتھ چاروں طرف سے آ جاتی ہیں اسے سمجھ نہیں آتا کہ اس کے ساتھ اچانک یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال اس وقت جے ایس گروپ کی ہے جو امریکہ میں پاکستانی سفیر کے عہدے سے ہاتھ دھونے کے صدمے سے باہر بھی نہیں نکل سکا تھا کہ نیب نے علی جہانگیر صدیقی کے خلاف 40 ارب روپے کا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا معاملہ تیز کر دیا ۔شیر مارکیٹ اور ایزگارڈ کمپنی سے لے کر اٹلی کی مونٹی بیلو فرم تک گڑھے مردے کھودے جانے لگے ہیں۔ ضمانت کرانے اور نیب کی گرفتاری روکنے کے لالے پڑ گئے ہیں۔

دوسری طرف ایف بی آر نے بھی عین اسی وقت اپنی کارروائی شروع کرنی تھی ۔ جے ایس گروپ کی ایک کمپنی جس نے 2016 میں اپنی آمدنی 44 کروڑ روپے سے زائد ظاہر کرکے جو ٹیکس ادا کیا اسے ایف بی آر نے مسترد کر دیا اور تقریبا پندرہ کروڑ روپے کی ادائیگی کا حکم دیا ۔یہ صورتحال جیز گروپ کی کمپنی کے لئے نئی مشکل کھڑی کر گئی ۔ قانونی مشاورت کے بعد وکلا کے ذریعے ایف بی آر کیخلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر وقت حاصل کرنے کی کوششیں شروع کی گئی ۔بزنس حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ اس گروپ کی مشکلات میں فوری طور پر کسی کمی کا امکان نظر نہیں آ رہا بلکہ آنے والے دن جگہ مشکلات سے بھرپور ہو سکتے ہیں ۔کہا جا رہا ہے کہ جے ایس گروپ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے یہ اس کے پرانے بزنس حریف کروا رہے ہیں یا اسے ان گناہوں کی سزا نہیں مل رہی جو اس نے کیے ہیں بلکہ یہ کچھ اور معاملات ہیں جن کے سیاسی تانے بانے ہیں ۔جے ایس گروپ کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ صورتحال سے خود کو کیسے باہر نکالے ۔اس کے سامنے کیا کیا آپشن ہیں ۔مارکیٹ میں یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ جی اس گروپ کو ان مشکلات سے باہر نکلنے کے لیے اپنے پرانے دوستوں سے رابطہ کرنا پڑے گا جنہیں اس نے اپنے اچھے اور بہت اچھے دنوں میں بھلا دیا۔



اپنا تبصرہ بھیجیں