دنیا کے 75 ملکوں نے سود سے پاک بینکاری کا آغاز کر دیا ہے لیکن ہماری معیشت ۔۔۔ . .

سود اور قرضوں کی معیشت سے نجات کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔حکومت وفاقی شرعی عدالت میں سو د کے حق میں دی گئی درخواست واپس لے۔سینیٹر سراج الحقلاہور9اکتوبر 2020ء    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظمدوسال میں صرف سونامی لانے کا اپنا وعدہ پورا کرسکے ہیں ۔آج ہر طرفمہنگائی اوربے روزگاری کا سونامی ہے جس میں عوام ڈوب رہے ہیں۔ حکمرانوںنے پاکستان کے عزت ووقار کو نیلام کردیا ہے ۔ایٹمی پاکستان کا پاسپورٹدنیا بھر میں بے توقیر ہوچکا ہے ۔جب سے حکومت آئی ہے معصوم بچوں اوربچیوں کے اغواء،بدفعلی اور قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اپوزیشن کی سابقہ حکمران پارٹیاںدوسال سے حکومت کی سہولت کار بنی ہوئیہیں ۔پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ اور پی ٹی آئی میںایک کلب کے لوگ ہیں۔یہتینوں پارٹیاںظلم و جبر اور اسٹیٹس کو کا نظام مسلط رکھنا چاہتی ہیں۔عواماس ظالمانہ نظام سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں سیالکوٹ کے اہم سیاسی و سماجی راہنما حافظخاور مرزا کی اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کے موقعپر خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پنجاب وسطی کے امیرجاوید قصوری ۔صوبائی سیکرٹری جنرل بلال قدرت بٹ اور سیکرٹری اطلاعات قیصرشریف بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے جماعت میں شامل ہونے والوں کاخیر مقدم کرتے ہوئے انہیں جماعت اسلامی اور پاکستان کے پرچم کا تحفہ پیشکیا۔    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ معاشی تباہی سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہہے کہ سودی معیشت سے فوری تائب ہو کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جاریجنگ کو ختم کردیا جائے ۔پاکستان کے نظریے ،اس کیلئے دی گئی لاکھوں جانوںکی قربانیوں اور اپنا سب کچھ پاکستان پر نچھاور کرکے ہجرت کرنے والے آباﺅاجداد سے بے وفائی کرنے والوں نے قوم کی منزل کو کھوٹا کردیا ہے ۔73سالسے ملک کے اقتدار پر قابض انگریز کے وفاداروںنے وہی نظام مسلط کررکھا ہےجس سے نجات کیلئے تاریخ انسانی کی بے مثال قربانیاں دی گئی تھیں ۔عوامفاقہ کشی پر مجبور جبکہ ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کرنے والے اشرافیہ کودولت چھپانے کیلئے جگہ نہیں ملتی اس لئے وہ کبھی پانامہ کبھی دوبئی اورکبھی لندن اور امریکہ کے بنکوں میں جعلی ناموں سے کھاتے کھلواتے ہیں۔دنیا کے 75ملکوں نے سود سے پاک بینکاری کا آغاز کردیا ہے مگر ہماری معیشتآئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ملازموں کے ہاتھ میں ہے جو کسی قیمت پر سودچھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ حکومت وفاقی شرعی عدالت میں سود کے حق میں دیگئی نواز شریف دور کی درخواست واپس لے اور آئندہ اس مقدمہ کی پیروی نہکرے ۔سود معیشت کا کینسر اور تمام خرابیوں کی جڑ ہے ۔جماعت اسلامی ملک کوحقیقی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی مملکت بنانے کیلئے سود کے خلاف مہمچلارہی ہے۔    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ورلڈ بنک کی رپورٹ ہے کہ آئندہ دوسالوںمیں معیشت کی شرح نمو صفر اعشاریہ پانچ رہے گی جس کا مطلب ہے کہ ملک میںمہنگائی ،بے روزگاری اورغربت مزید بڑھے گی۔پہلے ہی مہنگائی نے عام آدمیکی کمر توڑ دی ہے ۔آٹا ،چینی ،گھی اور سبزیاں غریب کی پہنچ سے باہر ہوگئیہیں۔عام آدمی فاقوں پر مجبور ہے ۔مزدرو اور کسان کیلئے دو وقت کی روٹیکمانا مشکل ہوچکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی مجموعی آمدن میں سے آدھیسود کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے ،حکومت مہنگائی اور بے روز گاری میں کمیکی بجائے اضافہ کررہی ہے اور ٹیکسوں میں اضافے کیلئے نئی کمیٹیاں بٹھا دیگئی ہیں ۔انہوں نے مغربی سرمایہ دارانہ نظام منڈی کو اپنے قبضہ میں کرنےکیلئے تمام پالیسیاں بناتا ہے جبکہ اسلام کا سود سے پاک نظام معیشت عامآدمی کو ریلیف دینے کیلئے پالیسیاں بناتا ہے ۔اسلام معیشت کو ٹھیک کرنےکیلئے دولت کے ارتکاز کو روکتا ہے ۔امیروں سے لیکر غریبوں میں تقسیم کرتاہے ۔یتیموں ،بے واﺅں اور حاجت مندوں کی کفالت کرتا ہے ۔    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت گرانا آسان مگر نظام تبدیل کرنامشکل کام ہے ۔ہم چہرے نہیں نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ہماری لڑا ئی ظلم و جبراور اس استحصالی نظام سے ہے جو پون صدی سے کروڑوں عوام کو غربت مہنگائیبے رو زگاری اور بدامنی کی چکی میں پیس رہا ہے ۔لوگوں کو تعلیم صحت روزگاراور انصاف نہیں مل رہا ۔عدالتوں لاکھوں مقدمات زیر التوا ءہیں ،سرکاریہسپتالوں سے غریب کو ڈسپرین کی ایک گولی نہیں مل رہی ،عدالتوں میں انصافبکتا ہے اور جس کے پاس کروڑوں اور اربوں نہیں وہ ساری زندگی عدالتوں میںرل جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی دولت کی منصفانہ تقسیم اور عدلو انصاف روز گار اور تعلیم کے دروازے عوام کیلئے کھولنا چاہتی ہے ۔ہمچاہتے ہیں کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم ہو ،جس سکول میں حکمرانوں کے بچےپڑھتے ہیں اس میں غریب کا بچہ بھی تعلیم حاصل کرسکے ۔انہوں نے کہا کہ73سال سے عوام ظالم جاگیرداروں اور بے رحم سرمایہ داروں کے چنگل میںپھنسے ہوئے ہیں ۔چند خاندان اقتدار پر مسلط ہیں اور وہی باریاں لے رہےہیں ،انہی کے شہزادے اور شہزادیاں اسمبلیوں میں پہنچتی ہیں۔غریب ساری عمرمحنت مزدوری کرنے اور اپنا خون پسینہ بہانے کے باوجود پیٹ بھر کر نہیںکھا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ یہ ظلم کا نظام ہے جو زیادہ دیر قائم نہیں رہسکتا۔عوام کو اس نظام سے بغاوت کیلئے نکلنا اور جماعت اسلامی کا ساتھدینا ہوگا۔    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پنجاب وسطی کے امیر جاوید قصوری نے کہا کہعوام اب ظلم وجبر کے اس نظام سے تنگ آچکے ہیں اور اس کو بدلنے کیلئے بےتاب ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہر جگہ سے لوگ جماعت اسلامی میں شامل ہورہے ہیں۔عوام اب سابقہ حکمران پارٹیوں اور پی ٹی آئی کو برداشت کرنے کیلئے تیارنہیں ۔    حافظ خاور مرزا نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج میں پاکستان میں اسلامکی سربلندی اور آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے جدوجہد کرنے والی جماعتمیں شامل ہورہا ہوں ۔میں عہد کرتاہوں کہ میری تمام تر جدوجہد ملک میںنظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کیلئے ہوگی۔میں سیاست کو عبادت سمجھتا ہوں اور میریسیاست کا مرکز ومحور پاکستان کو ایک اسلامی و خوشحال پاکستان بنا نا ہے ۔                                        جاری کردہ                                    شعبہ نشرو اشاعت جماعت اسلامی پاکستان