163

اوٹسوکا پاکستان کے سی ای او حنیف ستار کی جیوے پاکستان سے خصوصی گفتگو۔ ملاقات… وحید جنگ

بہترین کوالٹی پروڈکٹس کی بدولت اپنی پہچان بنانے والی پاکستان کی نامور کمپنی او‏ٹسوکا پاکستان لمیٹڈ گزشتہ تین دہائیوں سے شاندار خدمات انجام دے رہی ہے ۔ انیس سو اٹھاسی ‏ نو اسی میں قائم ہونے والی اس کمپنی کی بنیادی توجہ آئی بی گروپ کی تیاری پر مرکوز ہے اور انتظامیہ مؤثر طریقے سے اس کا معیار اور مقدار برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے ۔کمپنی کے سی ای او حنیف ستا ر ہیں جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے خصوصی ملاقات میں حنیف ستار نے کمپنی کی کامیابیوں اور اپنے کیریئر کے نشیب و فراز پر کھل کر گفتگو کی ۔اس نشست کے بعد یہ بات بآسانی کہی جا سکتی ہے کے حنیف ستار کا تعلق ایک شریف اور سادہ خاندان سے ہے انہوں نے بالکل عام سے حالات میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا چھ بھائیوں اور بہنوں کے اس خاندان میں سب سے بنیادی پاؤں یہ تھا کہ بچوں کو پڑھایا لکھایا جائے اور حنیف سردار نے اپنے والد کا یہ خواب سچ ثابت کر دکھایا خوب دل لگا کر پڑھائی کی ۔ محنت کی اور چارٹر اکاؤنٹنٹ بن گئے ۔ ایک عام غریب سے گھرانے میں یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ بہت بڑا کارنامہ ہے ۔حنیف ستار اپنی زندگی میں آنے والی مشکلات و پریشانیوں سے کبھی نہیں گھبرائے ۔انہوں نے ہمیشہ جرات بہادری اور دلیری سے حالات کا مقابلہ کیا ۔قدرت ان پر مہربان رہی ۔وہ دل میں خوف خدا رکھنے والے انسان ہیں ۔اللہ کی رضا کے لیے کام کرتے ہیں ابتدا میں انہوں نے اپنی کمپنی جوائنٹ وینچر کے طور پر قائم کی پاکستان کی جانب سے مقامی سطح پر فیروز فیملی نے ساتھ دیا جن کے بہت سارے یونٹ سے ہیں جن میں فروز کیمیکل ۔ سنی پلاسٹ والے ۔ جاپان سے اور انڈونیشیا کی کمپنی بیچ میں شامل ہے طبی مصنوعات کے حوالے سے جس پروڈکٹ کو تیار کرتی ہے وہ ای وی سولوشن کہلاتی ہے عام طور پر اسے گلوکوز کی ڈر پ کہا جاتا ہے ۔پہلے اسے درآمد کیا جاتا تھا جب اس کا تجربہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ سے درآمد کرنے میں بہت سارا پیسہ اور وقت لگتا ہے اس حوالے سے جب ان سے بات کی گئی تو انہوں نے اتفاق کیا اور کہا کہ ایک پلانٹ کے بارے میں سوچیں ہم سے پہلے ایک پلانٹ لاہور میں میڈی پاک کے نام سے تھا پر اس کے علاوہ ایک پاک فضائیہ کا پلانٹ تھا یہ پلانٹ اب میں لگانے کی تجویز سامنے آئی جس کی بنیادی طور پر چار وجوہات تھیں پہلی وجہ وہاں پانی موجود تھا دوسری وجہ وہاں لیبر کراچی کی نسبت سستی ہے تیسرے نمبر پر وہاں ٹیکس کم تھا اور چوتھی وجہ یہ کہ وہاں زمین کراچی میں مقابلے میں سستی تھی لہذا وہاں پے کام شروع کر دیا گیا اور وزارت صحت سے اجازت لے کر باقاعدہ کمرشل پروڈکشن انیس سو نواسی میں ہوئی ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ان ڈسٹرکٹ ساری کی طرف چلی جائے گی ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسی جامعہ اور واضح ہونی چاہیے کیونکہ ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آپ سرمایہ کاری نہیں کر سکتے حکومت کہتی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کیا ہوتا ہے پلین میں چیزیں لکھی جاتی ہیں اور پچھلے پلان میں جو کچھ لکھا جاتا ہے وہ پھر بالکل الٹ ہو جاتا ہے حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ٹیکس نرخ بدل جاتے ہیں اور جو ٹرینیں منافع میں دکھائی گئی ہوتی ہیں وہ نقصان میں چلی جاتی ہیں اس وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری براہ راس نہیں آتی ۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ جو چیزیں ہم بنا رہے ہیں وہ ایکسپورٹ کے لحاظ سے کوالٹی میں بھارت اور سری لنکا کے مقابلے میں بہت اچھی اور اعلی ہیں حکومت کو چاہیے اس میں تعاون کرے اور ایکسپورٹ کے لیے فاسٹ ٹریک سسٹم بنائے اگر انڈسٹری کو بچانا ہے تو حکومت کو ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے جو سپریم کورٹ کا آخری حکم آیا تھا اس میں انہوں نے ایک ریٹ پر وڈمیٹ دیا تھا جس میں کچھ چیزیں مل کر کرنی ہے اس کے بعد بہت وفاقی کابینہ نے ٹاسک فورس بنائی ہے جس کے کچھ اجلاس اور چند تجاویز سامنے آئی ہیں اور امید ہے کہ مارکیٹ میں مناسب قیمت سامنے آئے گی اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر کمپنیاں بند ہو جائیں گی اور اگر ایسا ہوا تو اس کے نتائج سنگین ہونگے پھر یہ انہیں انڈسٹری نہیں لگیں گی اور ملک کو بچانے کے لیے مقامی پروڈکٹ کو پر موٹ کرنے کے لیے اقدامات کرنے پڑیں گے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے میرا پیغام ہے یا اپنا لائف سٹائل بہتر کریں تبدیل کریں اور یہ ہماری بیماریاں خود ساختہ ہیں جو قرآن کریم کے الفاظ ہیں کہ جو انسان پر مصیبت آتی ہے وہ اس کے اپنے کرنے پر آتی ہے اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی کو بنایا نماز کھانے اور سونے کا وقت مقرر کریں آپس میں صبر و تحمل سے رہیں اور ملکی قوانین پر عمل کریں اسوہ حسنہ پر عمل کریں اور پاکستان کے پاس ترقی کرنے کے سنہری مواقع ہیں ۔آخر میں انہوں نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی جانب سے بزنس انڈسٹری کے مسائل اور اسکے احکامات کے حوالے سے کام کو سراہا اور کہا کہ میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے انہوں نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی مزید کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں