فحاشی (وہ مضمون جسے کئی بار لکھا اور مٹایا گیا)

آپ ایک منظر پر پابندی لگائیں گے، کروڑوں فحش منظر ناظرین کے سامنے تیرنے کو تیار پڑے ہیں۔ یاد رکھیں جب تک گندی نظریں فحاشی ڈھونڈتی رہیں گی ان کی نگاہوں کو گناہ کی غذا ملتی رہے گی۔

عفت حسن رضوی مصنفہ، صحافی @IffatHasanRizvi
—————–

تین دن سے سوشل میڈیا پر ہر کس و ناکس اپنی اپنی ذہنی اڑان کے مطابق فحاشی پر بھانت بھانت کے تجزیے، فقرے اور فلسفے بگھار رہا ہے۔ کسی نے مذہب اور الہامی ہدایات کی روشنی میں سمجھانے کی کوشش کی ہے تو کوئی سماجی فلسفہ دانوں کے اقوال سنا رہا ہے۔

فحاشی بری چیز ہے، اس سے کیسے بچا جائے، فحاشی کے نقصانات، فحاشی کے انفرادی اور اجتماعی اثرات سب کچھ زیر بحث ہے ماسوائے ایک سوال کے۔ یہ فحاشی ہے کیا بلا؟ اس کی تعریف کیا ہے؟ کون سی حرکتیں اور کون سا لباس بیہودہ ہے؟ کون سے انداز فحش ہیں؟ کون سے الفاظ اور آواز فحش ہے؟

اگر فحاشی جسم کی عریانی میں چھپی ہے تو بسکٹ کے اشتہار میں اداکارہ مہوش حیات کا لباس ان کا مکمل جسم ڈھانپے ہوئے ہے لیکن دیکھنے والوں نے ان کے کئی گز لمبے کپڑوں میں فحاشی کو ڈھونڈ نکالا۔ تو کیا عورت کا مکمل، ڈھیلا ڈھالا لباس بھی فحش ہوسکتا ہے؟
اس سوال کا جواب آپ کو وہ عورت دے گی جو اپنی ستر کو مکمل ڈھانپے ہوئے ہوتی ہے جو اپنی چال ڈھال میں شدید احتیاط کے ساتھ جسمانی ساخت کو کپڑے کی کئی تہوں کے نیچے چھپائے ہوتی ہے، جو پرکشش رنگوں کے بجائے کالے برقعے میں گھر سے نکلتی ہے۔ وہ بتائے گی کہ گندی نظروں کو دبیز سیاہ برقعے کی آڑ کافی نہیں ہوتی۔ تو کیا مکمل کپڑوں میں ناچتی ہوئی عورت فاحشہ ہے؟

ایک عورت تھرک رہی ہے، لہک لہک کر دیکھنے والوں کو کہہ رہی ہے کہ یہ بسکٹ کھا لیں۔ سراسر غیرضروری، مجہول اور نامناسب آئیڈیا ہے۔ ایسے ہی سٹیج پر ناچتی عورت جسے اس خطے میں مجرا کہا جاتا ہے وہ بھی ہماری ثقافت ہے نہ ہی تفریح کا کوئی صحت مند ذریعہ ہے۔
چلیں ناچنے والی، مردوں کے نازک جذبات سے کھیلتی عورت کو فاحشہ مان لیتے ہیں لیکن اگر سٹاپ پہ بس کے انتظار میں کھڑی، باپردہ لڑکی کو بھی یہی مرد فاحشہ سمجھیں بلکہ گھر سے نکلنے والی ہر عورت کو یہی قرار دیں اور زبردستی انہیں گاڑی روک روک کر بیٹھنے کی آفر دیں تو سمجھ میں نہیں آتا ایک ناچنے والی اور ایک دفتر جانے والی باحیا عورت میں کیا فرق رہ گیا؟ فحاشی کی جانب تو دونوں راغب کر رہی ہیں۔

اگر یہاں بھی فحاشی کی اصل تعریف واضح نہیں تو پھر پچھلے تمام سوالوں سے پہلے اس کا جواب کھوجیں کہ کیا فحاشی عورت کی جنس سے تعلق رکھتی ہے؟ کیا جہاں عورت ہوگی وہاں فحاشی کسی نہ کسی صورت پھیلنے کا ڈر ہے؟ اس سوال کا جواب اگر وہ بچہ دینے لگ گیا جو کسی سکول یا مدرسے میں اپنے استاد کی جنسی درندگی کا شکار ہوا تو فحاشی کے معنیٰ یکسر بدل جاتے ہیں۔

درس گاہ کے ایک نہایت خشک ماحول میں، جہاں سبق یاد کرنے والے بچوں کی ملی جلی آوازوں کی ہما ہمی ہے، اپنی عمر اور چھوٹے قد کے حساب سے بچوں نے مکمل کپڑے پہنے ہیں، نہ ان بچوں کی باتوں میں فحاشی ہے نہ حرکات گندی ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک مرد استاد کے جنسی جذبات کیوں کر انگیختہ ہوسکتے ہیں؟

مزید پڑھیے

فحاشی کا سیلاب اور کرائے میں برکت

کیا شمالی علاقوں کے لوگ واقعی فحاشی کے ذمہ دار ہیں؟

کیا یہ سندھی گانا فحاشی پھیلا رہا ہے؟

فحش فلمیں ماحولیات پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں؟
یعنی فحاشی کے وقوع پذیر ہو جانے کی تمام تر ذمہ داری صرف عورت نامی جنس پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ فحش نہ مخصوص لباس ہوتے ہیں نہ فحاشی کا کوئی مخصوص وقت، حالات یا مروجہ طریقہ کار واضح ہے۔

کیا ہم دائرے کا پورا چکر کاٹ کر بھی وہیں آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں سے بات شروع کی تھی؟ جی ہاں ایسا ہی ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا کیونکہ ہم فحاشی کو غلط جگہ بلکہ یوں کہیے کہ ہر جگہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

بےہودگی یا فحاشی منظر نہیں ناظر کی آنکھ میں چھپی ہے۔ ناظر یعنی دیکھنے والے کے منتشر خیالات، اس کے بےترتیب جذبات کسی بھی انداز، کسی بھی لباس، کسی بھی عمر کے زندہ انسان یہاں تک کہ عورت کے مردہ جسم تک سے اپنے پراگندہ دماغ کو تسکین پہنچا سکتے ہیں۔
ایک نامکمل معاشرتی تربیت کا نتیجہ ایسے مردوں کی شکل میں ملتا ہے جو اپنے چھوٹے دماغ کی وسعت سے باہر کی ہر چیز کو گناہ، غلط کاری یا فحاشی گردانتے ہیں۔ اخلاقی طور پر کمزور مردوں کو اگر رسم و رواج، قانون اور ثقافت کی طاقت مل جائے تو گویا پکا پکایا بہانہ مل گیا۔

وہ اپنے فحش دماغ اور فحش نظروں کا قصوروار عورت کو ٹھہرا کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ پھر معاشرے میں ایسے ہی فاحشہ عورتوں کی تلاش شروع ہوتی ہے جیسے آج ہو رہی ہے۔ پھر اپنی وحشت کے ہاتھوں مجبور، بے چارے مردوں کو بگاڑنے والی عورتوں کے لباس ناپے جاتے ہیں۔

سوشل سائنس کا ایک تجربہ کر کے دیکھیں۔ جسے یہاں عورت کے برقعے سے باہر نظر آنے والے ہاتھ یا پاؤں میں ہی شہوت کی ساری حشر سامانیاں نظر آتی ہیں اسے مغربی ممالک کے اس ساحل سمندر پر ایک ماہ کے لیے رکھیں جہاں دھوپ سینکنے کو عریاں عورتیں موجود ہوتی ہیں۔ یقیناً فحاشی سے متعلق اس کا نظریہ بدل جائے گا۔

آپ ایک منظر پر پابندی لگائیں گے، کروڑوں فحش منظر ناظرین کے سامنے تیرنے کو تیار پڑے ہیں۔ یاد رکھیں جب تک گندی نظریں فحاشی ڈھونڈتی رہیں گی ان کی نگاہوں کو گناہ کی غذا ملتی رہے گی۔ نگاہیں متلاشی ہوں تو آسمان پہ سجے بادلوں کے جھنڈ سے بھی تصویریں بنا لیتی ہیں۔
————Independenturdu——