آپ بیرون ملک چلے جائیں آپ کو کہیں بھی لکھا نہیں ملے گا کہ خالص دودھ، خالص گھی، خالص شہد،


——-
محمد سعید اختر
———————–

آپ بیرون ملک چلے جائیں آپ کو کہیں بھی لکھا نہیں ملے گا کہ خالص دودھ، خالص گھی، خالص شہد، خالص اجزاء سے تیار فلاں چیز، خالص تانبا، خالص آٹا یا سو فیصد خالص انار کا جوس وغیرہ وغیرہ
وہاں لفظ خالص کا تصور خالص تک ہی ہے، وہاں ان چیزوں میں ملاوٹ کا تصور موجود ہی نہیں کہ بھلا ان میں بھی ملاوٹ کی جاسکتی ہے۔ وہ اپنی برانڈز کے نام یروشلم کی کسی عبادت گاہ یا روم کے کسی چرچ کے نام پر بھی نہیں رکھتے کہ مذہبی جذبات کا فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ منافع کما پائیں۔ وہ اقوام اپنی چیزوں کو بہتر سے مزید بہتر کر کے مارکیٹ میں لاکر ایمانداری سے زیادہ سے زیادہ بکری چاہتے ہیں۔
ہمارے ہاں انداز ہی نرالہ ہے، اسلامی شہد، مدنی گھی، مکی آٹا وغیرہ اور مزید اضافہ کہ سو فیصد خالص۔ ارے بھائی یہ خالص لکھنے کی نوبت ہی کیوں پیش آئی؟ کیوں کہ جناب یہاں ہر طرف مکاری ہے، جھوٹ فریب ملاوٹ ہے۔ لوگوں کو کماحقہ لکھ کر بتا کر جتانا پڑتا ہے کہ جناب ہماری چیز خالص ہے اس پر مزید رنگ مذہبی عقیدت کا چڑھا دیا جاتا ہے تا کہ لوگوں کو پکا یقین ہوجائے کہ اب تو اس کا خالص ہونا یقینی بنتا ہے حالانکہ تب بھی معاملہ ویسا نہیں ہوتا۔
یہاں گائے بھینس انجکشن کے زور پر دودھ دیتی ہے، عام گھی میں کچھ ایسنس ملا کر دیسی گھی بنایا جاتا ہے، گڑ میں شہد کا فلیور ملایا جاتا ہے، لوہے میں تانبے کی رنگت ملا کر اسی ہی کی شکل میں ڈھالا جاتا ہے، بھوسی ملے آٹے کو کیمیائی مشینری کے ذریعے بو سے پاک کیا جاتا ہے اور نہ جانے کیا کیا۔۔۔۔
جہاں کوئی قسم کھا کر کہے قسم خدا کی ایسا ہے ویسا ہے سمجھیں دال کالی ہے۔ مغرب و لادینوں میں قسم اور جھوٹ کا تصور نہیں، ایسا نہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے ہونگے۔ اچھے برے ہر جگہ ہیں پر ہمارے ہاں حالات سخت برے ہیں۔ ہم ہدایت مانگتے ضرور ہیں پر سچائی پر چلنے واسطے پیٹ میں مروڑ آتے ہیں۔
میری تحریر پر کئی لوگوں کو اعتراض ہوسکتا ہے ظاہر ہے ہر شخص کا اپنا نکتہ نظر ہے۔ چین سمیت ہر ملک میں جعلسازی جھوٹ کسی نہ کسی شکل میں موجود ضرور ہے پر ان پر ناقابل معافی سزائیں بھی ہیں اور یہاں شاید ایسا کوئی قانون ہی نہیں ہے اور بلاخوف و خطر, ہرقسم کی دو نمبری کام, ملاوٹ, رشوت, , دھوکہ دہی, کمیشن اپنے عروج پر ہے اور کہنے کو ہم مسلمان ہیں.