سندھ بھر میں روڈ نیٹ ورک کی بہتری اور عملے کی استعداد میں اضافے کے لئے منصوبہ کے لئے ورکشاپ کاانعقاد

23بلین رو پے کی لا گت سے سندھ میں رو ڈ نیٹ ور ک کی بہتر ی اور ادا ر تی استعدا د کا منصو بہ ،وفا قی حکومت کی جا نب سے بھی سندھ کےمحکمہ مواصلات وتعمیرات کی جانب سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے اس منصو بے کی بھر پو ر پذیرا ئی ۔
سندھ بھر میں روڈ نیٹ ورک کی بہتری اور عملے کی استعداد میں اضافے کے لئے منصوبہ کے لئے ورکشاپ کاانعقاد
صو با ئی مشیر نثار کھوڑو ،صو با ئی سیکریٹری عمران عطا سومرو ، تعمیرا تی فر م کے نما ئندو ں خالد مرزا ،خرم امتیاز بٹ ، سا بق چیف انجینئر پریم چند تلریجہ ، پرو جیکٹ ڈا ئریکٹر مشتاق میمن ودیگر کا خطاب
کراچی07 اکتوبر ۔ وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے مواصلات وتعمیرات نثار احمد کھوڑو نے روڈ سیکٹر میںسندھ میں رو ڈ سنیٹ ورک کی بہتری کے منصو بو ں میں طے شدہ ہدف کے مقابلے میں مطلوبہ نتائج سے زیادہ حاصل کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کو اُجاگر کر تے ہو ئے ان کی تعریف کی ہے ،جس سے عام آدمی کی بہتری کے لئے کئے گئے اقدا ما ت سے صوبہ سندھ کے عوام کا مو جو دہ حکومت سندھ پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے ٹھو س و مثبت اورعملی اقدامات لیتے ہوئے روڈ سیکٹر میں 9مختلف تر قیا تی اسکیمو ں کو اپنی مکمل حمایت اورتعاون کو فروغ دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں مقامی ہوٹل میں ایشیا ئی تر قیا تی بینک کے تعاون سے سندھ پروونشل روڈ ایمپروومنٹ پروجیکٹ (ایس پی آر آئی پی) کی منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے محکمہ مواصلات وتعمیرات نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ موجودہ منتخب حکومت چیلنج کرسکتی ہے کہ اس جیسا ملک میں کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس بہت سے کامیاب منصو بو ں کی کہانیاں ہیں جیسے تھر کوئلہ ، روڈ بہتری کے نیٹ ورک ، ادارہ جاتی ، محکمہ / پروجیکٹ اسٹاف کی استعدا د بڑ ھا نے اور سندھ روڈ نیٹ ورک ماسٹر پلان (2020-40) کی تیا ر ی کا مر حلہ شا مل ہیں ۔ انہوں نے پی ایم یو ٹیم کو اضا فی اہداف حاصل کر نے کی کو ششو ں کو سرا ہا ،انہو ں نے کہا کہ منصو بے پر23 ارب روپے کی لاگت لگا ئی گئی جس میں سے 6.4 بلین کی بچت کرتے ہوئے قر ضہ واپس کیا جوکہ سندھ کے عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روڈ سیکٹر میں بہتری کی کل 9 اسکیموں محکمہ کے متعلقہ سربراہ اور اس منصوبے کی سر برا ہ اپنی بھر پو ر صلا حیتو ں کی بنا پر کامیابی کے ساتھ مکمل کی ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مشیر نے اس امر پر زور دیا کہ 10/15 سالوں میں با ر ش اور سیلا ب کے دوران تمام خراب شدہ اور ٹوٹے ہوئے روڈ نیٹ ورک کا جامع ڈیٹا تیار کریں تاکہ اب ہم تمام سڑکوں پر مرمت کے ابتدائی کام کو کم لاگت کے ساتھ شروع کرسکیں تاکہ خزانے کو بچایا جاسکے اور عوا م کا پیسہ ضا ئع نہ ہو یہ انتظار نہ کریں کہ جب تک مکمل روڈ نیٹ ورک کو نقصان پہنچے اور ہم اس پر بہت زیادہ فنڈز خرچ کریں اور عوا م کا قیمتی پیسہ ضا ئع کریں ، نثار کھوڑو نے اس منصوبے پر 25 فیصد اضا فی کام کرنے کے لئے اے ڈی بی اور ای سی آئی ایل کی وسیع بریفنگ اور تفصیلا ت کی بھی تعریف کی ہے ، انہوں نے صوبہ سندھ کی ترقی کے لئے متعدد ڈونر ایجنسیوں کی حمایت کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں بارش اور سیلاب کے دور میں روڈ نیٹ ورک کو بری طرح نقصان پہنچا تھا ، لیکن اب ہمیں اس منصوبے کے تحت تمام تباہ شدہ سڑکوں اور روڈز کو بہتر اور ضروری مر مت کے کا م کرنے ہیں۔ انہوں نے اس پروجیکٹ کے تحت اہلکاروں کی استعدا د و صلا حیت کو بڑھانے اور ادارہ جاتی استعدا د اور ضروری تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا ، سندھ روڈ نیٹ ورک ، ماسٹر پلان دسمبر 2020 تک 53,000 کے روڈ کا سروے کیا جا ئے گا ۔ سیمینار میں 1800 اہلکاروں کی تربیت کا سلسلہ آج بھی شرو ع کیا جارہا ہے ۔ اس سے قبل سکریٹری مواصلات وتعمیرات عمران عطا سومرو نے اپنی استقبالیہ تقریر میں کہا ہے کہ وقت مقررہ مدت سے قبل ، ہدف سے پہلے یہ منصوبہ پی ایم یو کی ٹیم کی کوششوں سے مطلوبہ اہدا ف سے زیا دہ نتائج حاصل کرچکا ہے جسے عوام کی فلاح وبہبود عملی طو ر پر خرچ کیا جائے گا۔انہوں نے منصوبے کے سنگ میل کو حاصل کرنے کے لئے اے ڈی بی ،ای سی آئی ایل ،رم بول اور پی ایم یو پی ڈی مشتاق میمن اور ان کی پوری ٹیم کی تعریف کی۔ اے ڈی بی کے نمائندے خرم امتیاز بٹ نے ایس پی آر آئی پی کے منصو بے کو بینک کی جانب سے منا سب مدد ، اور نمایاں خصوصیات کے بارے میں بتایا ، انہوں نے اہداف کے حصول سے قبل ہی ٹیم کے کام اور پی ایم یو کی کم سے کم مدت میں عمدہ کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے محکمہ سے مزید امکانات کو مزید سہل بنانے اور آپس میں صلاح مشورہ اور عوام کے فائدے کے لئے اس منصوبے میں مزید بہتری کا جائزہ لینے کے لئے ضرور ی تجا ویز کے لئے زور دیا ۔ سابق چیف انجینئر اور پی ڈی پریم چند تلریجہ ، ای سی آئی ایل کے سی ای او خالد مرزا نے بھی منصوبے کے روڈ اثاثہ جات انتظامی امور (رامس) کے متعلق آگاہی دی اور کہا کہ فیز 1 کے تحت ، اے ڈی پی کا 197.85 ملین ڈالر کا قرض منظورہوا، جس میں 328 کلومیٹر کی 6 سڑکوں کی بحالی اور محکمہ کے استعدا د کے منصو بے کی پی سی۔1 نومبر 2015 میں ایکنک سے منظوری ملی جس میں مجموعی طور پر22750ملین روپے جن میں90فیصد ADBاور 10فیصد سندھ حکومت کا حصہ ہے۔ کامیاب بین الاقوامی فرموں کے لئے بین الاقوامی مسابقتی بڑ نگ (آئی سی بی عمل) کے ذریعہ ، تخمینی بولی سے تقریبا 17 فیصد کی بچت ہو ئی جس کے بعد جون 2019 میں دوسرا مرحلہ شرو ع کر تے ہو ئے 80 کلومیٹر پر مشتمل 3 اضافی اہم سڑکیں شامل کی گئی ۔پراجیکٹ ڈائریکٹر ایس پی آر آئی پی مشتاق میمن، معظم مغل ، اور پی ایم یو کی دیگر ٹیم نے تما م شرکا ءکا شکریہ ادا کیا اور خصو صی دعوت پر آی ہو ئی ایم این اے نفیسہ شاہ اور صو با ئی مشیر نثار کھوڑو ، صو با ئی سیکریٹری عمران عطا سومرو اور تمام ریٹائرڈ چیف انجینئرز جنہوں نے ورکشاپ میں شرکت کی و دیگر مہما نو ں کو تھری کھیس اور سندھی ٹوپیوں کے تحائف پیش کیئے گئے ،پی ایم یو اور ایس پی آر آئی پی کے دوسرے عملے کو بھی کارکردگی کے سرٹیفکیٹ دیئے گئے۔ تقریب کے دورا ن منصو بے کے ٹیم لیڈر و ٹرا نسپو ر ٹ پلا نرو اکنا مسٹ ڈاکٹر ڈیو ڈ لپٹن اور منصو بے کے ادا ر تی ما ہر را بر ٹ بٹلر نے نیو زی لینڈ و لندن سے برا ہ را ست اپنی پیشہ وارا نہ و ما ہرانہ مشورو ں اور سوالا ت کے جوابا ت کے مر حلہ میں حصہ لیا اور تقریب منعقد کر نے اور منصو بے کی کا میا بی کو سرا ہا ۔
ہینڈآﺅٹ نمبر 701۔۔۔