منگھوپیر کے چشمے سوکھنے لگے … مزار پر آنے والے تشویش کا شکار

کراچی میں منگھوپیر کا علاقہ اپنے گرم چشموں کی وجہ سے مشہور ہے بنیادی طور پر یہ صوفی بزرگ خواجہ سخی سلطان المعروف منگھوپیر کےمزار سے پہچانا جاتا ہے یہاں گیارہویں صدی سے قدرتی طور پر گرم پانی کے چشمے رواں ہیں جن میں گندھک کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ کوڑھ اور جذام اور دیگر جلدی امراض میں مبتلا مریضوں کی بڑی تعداد یہاں علاج کے لیے آتی ہے ۔لیکن کچھ عرصے سے یہاں چشموں میں پانی کی مقدار کم ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے زائرین پریشان ہیں اور تشویش بڑھتی جا رہی ہے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آس پاس کے علاقوں میں بورنگ کی گئی ہے جس کی وجہ سے پانی کی مقدار یہاں کے چشموں میں کم ہو گئی ہے معلوم ہوا ہے کہ یہ پانی ہائیڈرنٹس کی وجہ سے ٹینکروں کے ذریعے بیچا جا رہا ہے علاقے میں بورنگ کر کے بڑے پیمانے پر پانی بھیجا جا چکا ہے زیر زمین پانی کم ہونے سے صورتحال ابتر ہو گئی ہے اور تالاب کو بھرنے کے لیے بھی آپ کو کھود کر پانی بھرا جا رہا ہے اعلیٰ حکام کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے منگھوپیر کے مگرمچھ بھی مشہور ہیں ان کے تالابوں کے لئے بھی یہی صورتحال رہی تو پانی کم پڑ جائے گا مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ چشموں کے لیے یہاں آتے تھے اور یہاں اب چشمے اور تالاب بھرنے کے لئے پانی واٹر ٹینکروں سے منگوانا پڑے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں