K 4 منصو بہ کی پرایویٹ اراضی کا معاوضہ نہ مل سکا

October 07,2020
K 4 منصو بہ کی پرایویٹ اراضی کا معاوضہ نہ مل سکا

(رپورٹ۔اسلم شاہ) پانی کے k-4منصوبہ کی اراضی کے حصول کی مختص تقریبا پونے چار ارب روپے 630پرائیویٹ الاٹیز میں معاوضہ تقسیم نہ ہوسکا کمرشل بینک میں ڈھائی سال سے رقم کا منافع اور کمیشن ڈپٹی کمشنر ملیرہڑپ کرنے کا انکشاف ہوا ہے پرائیویٹ اراضی کی زمین کے حصول کی منظوری اور5ارب روپے بجٹ مختص کردیاگیا تھا جس میںدوقسطوں میں یعنی ڈھائی ارب روپے اور ایک ارب 25کروڑ روپے ایڈونس ادائیگی کردیا گیایہ فنڈز ڈپٹی کمشنر ملیر کے اکاونٹ میں موجودہے، پانی کے K-4منصوبے میں 11,396ایکٹر مجموعی طور پر گورٹمنٹ لینڈ اور1,053ایکٹر اراضی پرائیویٹ لینڈ حاصل کیا جائے گاڈپٹی کمشنر ملیر کے مطابق نجی ادارے کی زمین کے الاٹیز کو معاوضہ کے لئے سروے اور الاٹیز کا معاوضہ کا فارمولا بن چکا تھا بعض الاٹیز کے اعتراضات اور سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ کی وجہ ان الاٹیز کی ادائیگی روک دیا گیاہے ،اس ضمن میں اسٹنٹ کمشنر بن قاسم کو سربراہ بنایا گیا ہے اوربورڈ آف ریونیو، محکمہ بلدیات، محکمہ منصوبے بندی، خزانہ کی منظوری کے بعد فنڈز جاری کردیا گیا ہے واضح رہے کہ124کلومیٹر میں کنجر جھیل ٹھٹھ سے کراچی تک 99کلومیٹر اوپن کنال کی تعمیر کے راستوں میں ٓانے والے اراضی کا حصول کے لئے سرکاری اور نجی اراضی کی خریداری کرکے منصوبہ شامل کرنا ہے،اوپن نہر یا کنال کے 600میٹر علاقہ منصوبے کااطراف زمین حصہ یا ملکیت تصور کیا جائے گامنصوبہ کی گرز گاہوں کے علاوہ فلٹر پلانٹ نمبر1 دیہہ کاٹھور،فلٹر پلانٹ نمبر2دیہہ نارتھن،فلٹرپلانٹ نمبر3دیہہ اللہ فائی کے پہلے مراحلے میں دیہہ دھابے جی تا ایم نائن موٹر وے(دیہہ ڈنڈو، دیہہ جوراجی، دیہہ کاٹیھورو، دیہہ ابیڈار، دیہہ چھوار، دیہہ امیل نارئیو)دوسرے مراحلے میں دیہہ ناراتھار تا کے فور(دیہہ شاہ مرید تا دیہہ اللہ فائی)کی سرکاری زمین حاصل کرلیا گیا اور244ایکٹر اراضی سندھ گورٹمنٹ ایمپیلائز کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کی زمین کی منصوبے میں شامل ہوچکاہے اور دیوان سیمنٹ فیکٹر ی کے1000فٹ منصوبہ کی گزر گاہ کے لئے مختص کردی گئی ہے نجی اداروں کی زمین بن قاسم کی 10ایکٹر، دیہہ عبدارکی12.24ایکڑ،دیہہ چھاچھورکی32ایکٹر، دیہہ امیل نولائی کی 27ایکٹر، دیہہ کاٹھورکی62ایکٹر، دیہہ کنکارکی 99.23ایکٹر، دیہہ ناراتھن کی296، دیہہ شاہ مریدکی253اور دیہہ اللہ فائی کی229ایکٹرزمین حصول کا معاملہ تعطل کا شکار ہوچکا ہے اور فکس ڈیپازٹ سے رقم کا منافع وصول کیا جارہا ہے،جبکہ مجموعی طور پر 630نجی الاٹیز کی زمین کا ماہ ستمبر2017ء میں باضابط الاٹ کردیا گیا تھا14اگست 2016ء کو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے پہلے فیز260ملین گیلن پانے کے اہم منصوبہ کا افتتاح کیاتھا،سابق اسٹنٹ کمشنر اسحاق گاڈموجودہ سروے سپرڈٹنڈنٹ کراچی کا کہنا تھا کہ جعلی ،بھوگس کلیم کو بورڈ آف ریونیو نے تسلیم کرنے سے انکار کرنے کم معاوضہ دینے کے خلاف الاٹیز نے سند ھ ہائی کورٹ سے رجوع کررکھا ہے اورمیر ے تبادلہ تک تمام رقم بینک کے اکاونٹ میں موجودتھی اب بھی موجود ہوگا عدالتی فیصلے کے بعد الاٹیز کو فوری ادائیگی کا سلسلہ کا آغاز ہونے کی توقع ہے