اعزازی قونصل جنرل بننے والوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور سرگرمیاں کیا ہیں؟

پاکستان میں دو طرح کے ڈپلومیٹس ہیں ایک کیرئیر ڈپلومیٹس ہیں اور دوسرے آنریری ڈپلومیٹس

کیریئر ڈپلومیٹس وہ ہیں جنہیں دوسرے ملک کی حکومتیں خود سفارت کار بنا کر مکمل ٹریننگ اور اپنے ایجنڈے پروگرام اور پالیسی دے کر پاکستان میں تعیناتی کے لیے حکومت پاکستان کے پاس اجازت کے ذریعے پاکستان بھیجتی ہیں اور وہ اسلام آباد یا مختلف شہروں میں اپنے ملک کے سفیر یا قونصل جنرل یا ہائی کمشنر اور ڈپٹی ہائی کمشنر کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔
دوسری قسم آنریری ڈپلومیٹس کی ہے جو اعزازی طور پر مقامی افراد میں سے بنائے جاتے ہیں پاکستان کے مقامی افراد اپنی خدمات مختلف ملکوں کو بطور اعزازی قونصل جنرل بننے کے لیے پیش کرتے ہیں۔دونوں ملکوں کی منظوری سے ان کی تعیناتی ایک طے شدہ طویل کلیئرنس کے عمل سے گزر کر عمل میں آتی ہے اور پھر وہ افراد پاکستان کے مختلف شہروں میں مخصوص ملک کے اعزازی قونصل جنرل بن کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں ان کی ذمہ داریاں فرائض مراعات سب کچھ طے شدہ ہوتا ہے اس پر دونوں ملک نظر رکھتے ہیں ۔

دونوں قسم کے ڈپلومیٹس میں اچھے بہت اچھے اور کچھ خراب قسم کے لوگ بھی آ جاتے ہیں لہذا ان کی پرفارمنس ان کی ذمہ داریوں اور ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے ۔
اعزازی قونصل جنرل بننے والی مقامی شخصیات بظاہر قد آور شخصیات ہوتی ہیں ان کی معاشرے میں عزت احترام نیک نامی اور ساکھ ہوتی ہے وہ پروفیشنل اور کامیاب لوگ ہوتے ہیں اعلی تعلیم یافتہ اور مضبوط مالی حیثیت اعلی اخلاقی اقدار کے حامل ہوتے ہیں لہذا ان سے ایسی ہی عادات اور اقتدار کے مظاہرے کی توقع بھی کی جاتی ہے ۔

پاکستان میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص کچھ عرصے سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا اعزازی قونصل جنرل بننا ایک کاروبار بن چکا ہے کیا کوئی بھی محض اپنی دولت کے بل بوتے پر یہ پوزیشن حاصل کر سکتا ہے اور اس کے حصول کے بعد اس شخص کی ذمہ داریاں کیا کیا ہوتی ہیں کیا وہ ان ذمہ داریوں پر عہدہ برآ ہوتا ہے یا نہیں کوئی اس پر چیک اینڈ بیلنس ہوتا ہے یا نہیں کی اعزازی قونصل جنرل کسی مخصوص مدت ایک یا دو یا تین دن کے لیے بنایا جا سکتا ہے یا تاحیات بنا دیا جاتا ہے ۔

کیا اس کا کام صرف جھنڈا لہرانا اور مراعات انجوائے کرنا ہوتا ہے یا اس کے ظلم ہے اور بھی کام ہوتے ہیں کیا ذمہ داریوں کو ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن بھی ہوتا ہے یا کوئی پوچھنے والا نہیں رہتا ؟
یہ اور اس طرح کے متعدد سوالات ہیں جو اکثر لوگ مختلف محفلوں میں پوچھتے رہتے ہیں عام طور پر کیا سوالات اٹھائے جاتے ہیں آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔

پاکستان میں مختلف ملکوں کے اعزازی قونصل جنرل کیا کر رہے ہیں ؟

ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور سرگرمیاں کیا ہیں ؟

کیا اعزازی قونصل جنرل کا کام صرف مراعات سے فائدہ اٹھانا ہے ؟

کیا اپنے گھر اور گاڑی پر غیر ملکی جھنڈا لہرانا ہی واحد ذمہ داری ہوتی ہے ؟

وہ کون کون سے اعزازی قونصل جنرل ہیں جو کئی مرتبہ عہدے کی مدت مکمل کر چکے ہیں ؟

بطور اعزازی قونصل جنرل اس منصب پر سلور جوبلی مکمل کرنے والوں کے نام کیا ہیں ؟

کچھ ایسے بھی ہیں جو تیس30 سال سے بھی زیادہ عرصے سے اعزازی قونصل جنرل ہیں ۔۔۔۔

کیا غیر ملکی جھنڈے اور سی سی نمبر پلیٹ والی گاڑیاں بیگمات کو شاپنگ اور بچوں کو اسکول کالج پک اینڈ ڈراپ کے لیے استعمال ہونی چاہیے ۔۔۔۔؟

کتنے ملکوں کے اعزازی قونصل جنرل باقاعدگی سے اپنے اپنے ملک کا نیشنل ڈے مناتے ہیں ؟

کون کون سے اعزازی قونصل جنرل دیگر ملکوں کی شہریت حاصل کرکے شفٹ ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی پاکستان میں اعزازی قونصل جنرل بنے بیٹھے ہیں ۔،؟

وزارت خارجہ اور ہمارے فارن آفس کی ناک کے نیچے کیا کچھ ہو رہا ہے؟

نیب زدگان بھی اعزازی قونصل جنرل بن بیٹھے ۔۔۔۔؟
اعزازی قونصل جنرل رہنے والوں کی ایک گرفتاری بھی ہوئی ہتھکڑی بھی لگی ۔۔۔یہ کیسے ہوا ۔۔۔۔کی اعزازی قونصل جنرل شپ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ ۔۔۔۔۔جیسا کھیل بن گیا ہے ۔۔۔وہ کون کون لوگ ہیں جو اعزازی قونصل جنرل شپ سے ہٹائے جا چکے ہیں لیکن ابھی تک بجرنگ کارڈ بھی استعمال کرتے ہیں اور اپنا تعارف اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے ہی کر آتے ہیں ۔۔۔۔۔کچھ ایسے آزادی کونسل جنرل بھی ہیں جنہیں ان کے ملک سے آنے والے سفیر بھی نہیں ملے ۔۔۔۔۔کافی عرصہ پاکستان میں ہو گیا ہے لیکن ایک دوسرے کو جانتے ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔سفیر حیران ہیں کہ ان کے ملک کے اعزازی قونصل جنرل ان کے ملک کے لیے کوئی کام بھی کرتے ہیں یا نہیں ۔۔۔۔کچھ ایسے ملک بھی ہیں جو اپنے اعزازی قونصل جنرل کا متبادل ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔۔۔کی اعزازی قونصل جنرل کو پیسے والوں نے اسٹیٹس سمبل بنا رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں دولتمند گھرانے بے تاب ہیں کہ کسی طرح انہیں یا ان کے کسی فیملی ممبر کو بھی کسی بھی ملک کا اعزازی قونصل جنرل بنا دیا جائے اس مقصد کے لیے بڑی بڑی انویسٹمنٹ اور اونچی اونچی سفارشی بھی کراتے ہیں ۔۔۔کچھ اعزازی قونصل جنرل ہے ایسے ہیں جنہوں نے اس پوزیشن کو صرف ویزے جاری کرانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے ۔۔۔۔۔کچھ ویزوں کے اختیارات نہیں رکھتے اور کچھ ویزوں کے معاملے میں صاف انکاری ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔پہلے ہی کہا کہ اچھے برے ہر طرح کے لوگ موجود ہیں ۔۔۔۔ڈپلومیٹک پارٹیاں کر کے بزنس مین اپنے لئے نئے نئے بزنس پلان اور بزنس ڈیل کو میںچور کر آتے ہیں
پاکستان میں ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے جو چھوٹے چھوٹے افریقی ملکوں کے اعزازی قونصل جنرل ہیں جن کے نام بھی پاکستانیوں نے کبھی نہیں سنے ہوں گے لیکن ان ملکوں کا جھنڈا لہرا کر یہ اعزازی قونصل جنرل نہ صرف سپرپاور ملکوں کی پارٹیوں میں معزز مہمان بنے ہوتے ہیں بلکہ ان کی میزبانی کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں ۔

اعزازی قونصل جنرل بننا یوں تو واقعی بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے کیونکہ اپنی قابلیت صلاحیت ذہانت اور خارجہ امور پر مہارت کا بخوبی مظاہرہ کرنے کا موقع ملتا ہے اور اپنے ملک کی نیک نامی اور دو ملکوں کے درمیان تعلقات کو دوستانہ بنانے تجارتی رابطےبڑھانے سیاحت ٹیکنالوجی روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے لے کر سفارتی سطح پر اہم عالمی اور علاقائی ایشوز میں اپنے ملک کے موقف کے لیے حمایت حاصل کرنا اپنے اصولی موقف کو اجاگر کرنا ۔ایسی پوزیشن میں اکثر اوقات بڑا مفید اور موثر ثابت ہوتا ہے لہذا اس کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

اعزازی قونصل جنرل بننے والوں میں پاکستان کے بہت باکمال اور باصلاحیت لوگ شامل رہے ہیں اور ماضی میں انہوں نے بہت اچھے اچھے کام بھی کیے ہیں ایسے باکمال لوگوں نے اپنی قابلیت ذہانت اور کامیابیوں کی بدولت اس پوزیشن کو نہ صرف رونق بخشی بلکہ اس کی اہمیت کو اپنی شخصیت سے مزید فروغ دیا لہذا یہ کہا جائے کہ ایسی شخصیات بھی ہیں جنہوں نے اعزازی قونصل جنرل بن کر اس پوزیشن کو چار چاند لگائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہو گا ۔

جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح تمام اعزازی قونصل جنرل بھی ایک جیسی خصوصیات اور اعلی اوصاف کے مالک اور آئینہ دار نہیں ہیں کچھ ایسے بھی جو بہت اچھی سرگرمیاں دکھاتے ہیں کچھ ایسے بھی جو بالکل گمنامی میں رہتے ہیں کوئی سارا سال پارٹی اور پروگرام منعقد کرتے رہتے ہیں اور کچھ ہی سال تک ایک بھی پروگرام نہیں کرتے

کچھ ڈین بن کر بھی غائب رہتے ہیں کچھ بغیر ڈین بنے ہوئے بھی ڈین سے زیادہ متحرک و فعال نظر آتے ہیں ۔

ایک زمانے تک اعزازی قونصل جنرل ہو یا کیاریاں ڈپلومیٹ اکثر پارٹی اور نیشنل ڈے ان کی اپنی رہائش گاہ یا اپنے مقامات پر ہوتے تھے پھر سیکیورٹی کے معاملات حاوی آتے گئے تو یہ پارٹیاں اور نیشنل ڈے کے پروگرام فائیو سٹار ہوٹلوں میں منتقل ہوگئے اب زیادہ تر وہاں پر ہی کیک کاٹے جاتے ہیں اور وفاقی اور صوبائی حکومت کی اہم اور سرکردہ شخصیات اور معززین نے شہر کو مدعو کیا جاتا ہے ۔

مختلف ملکوں کے قومی دن ہو یا دیگر تقاریب وہاں پر ملکی و بین الاقوامی موضوعات حالات اور واقعات ذرا بحث رہتے ہیں خیالات کا تبادلہ ہوتا ہے معلومات بھی شیئر کی جاتی ہے سفارت کاروں کو بھی بہت سے معاملات پر خود کو اپڈیٹ رکھنے میں مدد ملتی ہے اور مقامی شخصیات کو بھی مختلف ملکوں کی پالیسی اور فیصلوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔
ایسی دعوتوں اور تقریبات میں شرکاء بہت نبی تو لی اور محتاط گفتگو کرتے ہیں سفارتی آداب محفل کے آداب کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور موقعے کی مناسبت سے عالمی اور علاقائی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے گفتگو ہوتی ہے انٹیلی جنس اداروں کے ریڈار بھی پوری طرح متحرک ہوتے ہیں ۔
بعض سفارتی دعوتوں میں بہت رنگینی بھی ہوتی ہے مستی بھی ہوتی ہے لیکن زیادہ تر دعوتی سفارتی پروٹوکول کے مطابق ہی ہوتی ہیں جن میں مقامی رسم اور رواج اور اقدار کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔
وزارت خارجہ مختلف شہروں میں ہونے والی ان سفارتی سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہے انٹیلی جنس ادارے بھی معلومات حاصل کرتے ہیں نگرانی بھی ہوتی ہے ان کا اپنا طریقہ کار اور نیٹ ورک ہوتا ہے ۔
اعزازی قونصل جنرل بننے سے پہلے بھی کلیئرنس کے کئی مراحل طے کرنے پڑتے ہیں اور پھر اعزازی قونصل جنرل بننے کے بعد جو ذمہ داریاں ہیں ان پر چیک اینڈ بیلنس فارن آفس کو رکھنا چاہیے لیکن یہ تاثر عام ہے کہ اس قسم کے چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آرہا جس کی توقع کی جاتی ہے اس لئے ایسا بہت کچھ ہوتا رہتا ہے جو فارن آفس کے ہوتے ہوئے نہیں ہونا چاہیے ۔
اس بارے میں آئندہ آنے والی رپورٹس میں مزید واقعات اور ایشوز پر بات کی جائے گی تب تک وزٹ کرتے رہیے۔ جیوے پاکستان ڈاٹ کام

اپنا تبصرہ بھیجیں