کل پہلی اکتوبر 2020 کو مجھے ڈاکٹر ماہم امبرین فاروق ایک نیورو سرجن کو بیکن ہاؤس ہیڈ آفس گورومانگٹ روڈ میں وہاں کے عملے بشمول کلیم حیدر نے زد کوب کیا اور میرے ہاتھ کی ہڈی توڑ دی جب میں انکی غیر قانونی فیس بھر رہی تھی اور ویڈیو بنا رہی تھی۔۔

کل پہلی اکتوبر 2020 کو مجھے ڈاکٹر ماہم امبرین فاروق ایک نیورو سرجن کو بیکن ہاؤس ہیڈ آفس گورومانگٹ روڈ میں وہاں کے عملے بشمول کلیم حیدر نے زد کوب کیا اور میرے ہاتھ کی ہڈی توڑ دی جب میں انکی غیر قانونی فیس بھر رہی تھی اور ویڈیو بنا رہی تھی۔۔۔

کل میرے بڑے بیٹے کا پہلا کیمبرج کا پرچہ تھا اور سکول نے statement of entry مجھے کل صبح دی اور مجھ سے ساڑھے تین لاکھ وصول کیے۔

جبکہ دو دن پہلے لاہور ہائی کورٹ کا حکم تھا کہ فیس کا معاملہ عدالت میں ہے اس لیے کسی بچے کی statement of entry اور تعلیمی سلسلہ نہیں روکا جائے۔

میرے اس معاملے میں CEO محکمہ تعلیم مجھے بلیک میل ہوتے ہوئے دیکھتے رہے۔

بلکہ ایک دن پہلے انہی CEO محکمہ تعلیم کے سامنے سکول نے مجھے زبردستی ایک affidavit بھی سائن کروانے کی کوشش کی۔۔۔۔ جس میں مجھ سے میرے چھوٹے بیٹے کے ہراسمنٹ کی FIR والا کیس واپس لینے کا کہا گیا۔ اس میں میرے پانچ سال کے بیٹے کو سارا دن بھوکا پیاسا لائبریری میں بند رکھا گیا تھا۔۔ اور میں اس کیس پر FIR کا عدالتی حکم بھی لے چکی ہوں اور چھ لاکھ روپیہ سکول کو جرمانہ بھی کروا چکی ہوں ۔۔۔

یہ affidavit کل CEO محکمہ تعلیم کے سامنے مجھے دی گئی تھی۔ مگر جب میں نے انکار کیا تو مجھ سے ساڑھے تین لاکھ فیس وصول کرنے پر CEO صاحب کے سامنے بات طے ہوئی۔

یہ فیس میں نے اپنے بچے کا
مستقبل بچانے کے لیے under protest دی۔

ان سے میرے شوہر نے مجھے بچایا اور میرے سولہ سالہ بیٹے نے 15 پر کال کرنے کی دھمکی دی تو انہوں نے ہمیں جانے دیا۔

میں نے اسی تکلیف میں royal Palm میں اپنے بیٹے کو پہلا امتحان دلوایا اور اسکے بعد میں نے advocate general کے پاس درخواست جمع کروائی۔

جتنی ویڈیو بنا پائی میں عدالت میں پیش کروں گی۔ جب سرکار بھی اس ظلم میں شامل تھی تو بتائیں میرے پاس ویڈیو بنانے کے علاوہ کیا چارہ تھا؟؟؟؟؟

نظام نے مجھے سکول مافیا کے سامنے اس لیے نوچنے کے لیے ڈالا کہ میں نے انکے خلاف آواز اٹھائی۔۔ فیسوں کے خلاف سپریم کورٹ گئی؟؟؟

میرے معصوم بچوں کو اس قصور میں سارا سارا دن بھوکا پیاسا لائبریری میں بند رکھا گیا۔ مگر پولیس FIR درج نہیں کر رہی۔

ہاں میں نے مغربی کلچر اور ملک دشمن مواد پڑھائے جانے پر آواز اٹھائی۔ کیا ہم پینسٹھ کی جنگ ہارے تھے؟
میں نے اردو اور اسلامیات پر آواز اٹھائی کہ ہمارے بچوں کو ٹھیک طرح پڑھائی جائے۔۔۔

کیا ایک ماں ان باتوں پر ہار مان جائے؟

میں ایک فوجی ایک بریگیڈیر کی بیٹی ہوں۔ میں اس نظام سے اپنے ملک اور اسلام کی خاطر لڑتی رہوں گی۔۔

اور قاسم قصوری!!!!!!
تم جتنے قانون توڑ سکتے ہو توڑ لو۔۔۔ میں بھی دیکھتی ہوں کہ میرا رب میرا ساتھ دیتا ہے یا تمہارا۔