سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال سے غریب عوام متاثر ہوتے ہیں بالخصوص صوبے کے دور دراز سے آئے ہوئے وہ مریض جو پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سکت نہیں رکھتے۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس

کوئٹہ ۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مشاہدے میں آرہا ہے کہ ہڑتالی ڈاکٹرز پے در پے میڈیا ورکرز کے ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں دوران کوریج ہتک آمیز رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں جب بھی ڈاکٹر وں کی کوئی ہڑتال ہوتی ہے تو وہ سرکاری ہسپتالوں کی تالہ بندی کر دیتے ہیں ، سرکاری ہسپتالوں کی بندش سے براہ راست عوام متاثر ہوتے ہیں بلخصوص صوبے کے دور دراز سے آئے ہوئے وہ غریب مریض جو پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سکت نہیں رکھتے جس کی کوریج صحافیوں کی فرائض میں شامل ہے لیکن دوران ہڑتال ڈاکٹرز صحافیوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ تشدد بھی کر تے ہیں ، آج بول نیوز کے خاتون رپورٹر اور باقی ٹیم کے ساتھ دوران کوریج ایک بارپھر ہڑتالی ڈاکٹرز کی جانب سے بد تمیز ی کی گئی ،بول نیوز کی ٹیم کچلاک ٹریفک حادثے کی زخمیوں اور اور شعبہ حادثات اور ایمرجنسی وارڈز کی بندش کے حوالے سے کوریج کر رہی تھی بول نیوز سمیت دیگر صحافیوں کے ساتھ ہڑتالی ڈاکٹرز کی بد تمیزی کی بلوچستان یونین آف جرنلسٹس شدید مزمت کرتی ہے ،بیان میں کہا گیا بلوچستان ایک قبائلی معاشرہ ہے جس میں خواتین کو عزت اور تکریم دی جاتی ہے خواتین کے ساتھ بد تمیزی اور تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں ہے بلوچستان حکومت ہڑتالی ڈاکٹروں کی جانب سے میڈیا ورکرز ساتھ نہ روکنے والے ہتک آمیز رویہ اور تشدد جیسے غیر مہذب رویہ کا نوٹس لیکر زمہ داران کے خلاف فوری طور پر قانونی کاروائی کرے اس سلسلے میں بی یو جے کی ہنگامی اجلاس طلب کر لی گئی ہے جس میں صحافیوں کی تحفظ کو یقینی بنانے اور ہڑتالی ڈاکٹروں کے رویہ سے متعلق اہم فیصلے کئے جائیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں