پاکستان میں تعینات اعزازی قونصل جنرل اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزیاں ۔ پاکستان میں اعزازی قونصل جنرل کا کردار ذمہ داریاں اور سرگرمیاں ایک سوالیہ نشان بن چکی ہیں

مختلف ملکوں کے اعزازی قونصل جنرل جو پاکستان کے شہری ہیں وہ ملکوں کے باہمی تعلقات بالخصوص تجارتی ثقافتی سفارتی تعلقات کے فروغ کے لیے کیا خدمات انجام دے رہے ہیں.اس حوالے سے سفارتی حلقوں میں اکثر بحث ہوتی ہے کہ کیا پاکستان میں تعینات ان قونصل جنرل کی کارکردگی کردار اور سرگرمیوں کو کوئی دیکھنے اور پوچھنے والا ہے یا نہیں ۔
ویانا کنوینشن پر پاکستان نے بھی دستخط کررکھے ہیں ویانا کنونشن کا چیپٹر تھری کونسلر ریلیشنز اور اعزازی قونصل جنرل کے حوالے سے بالکل واضح ہے لیکن اس پر عمل درآمد بھی نہیں ہو رہا اور خلاف ورزی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پاکستان میں اعزازی قونصل جنرل کا کردار ذمہ داریاں اور سرگرمیاں ایک سوالیہ نشان بن چکی ہیں مختلف متعلقہ تنظیموں کی جانب سے دفتر خارجہ کو لکھے گئے خطوط ماضی کی حکومتوں نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت کیا کرتی ہے ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اس سلسلے میں بڑی توقعات وابستہ کی جارہی ہیں۔
ویانا کنوینشن کے مختلف آرٹیکلز کے حوالے سے کونسلیٹ ریلیشنز کی ذمہ داریاں ہیں اور کون سے جنرل کے کردار کے حوالے سے سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف سمیت ماضی کے مختلف وزیر خارجہ اور فارن آفس کے اعلیٰ حکام کی توجہ اس جانب مختلف شخصیات مبذول کراتی رہی ہیں کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ پاکستان میں تعینات اعزازی قونصل جنرل کیا خدمات انجام دے رہے ہیں ان کا کردار اور کارکردگی کیسی ہے پورے پاکستان کو کیا فائدے یا نقصانات ہو رہے ہیں بالخصوص وہ شخصیات جو 25 یا 30 سال سے بھی زائد عرصے سے ان پوزیشنوں پر فائز ہیں انہوں نے پاکستان کے باہمی تعلقات تجارتی روابط کو فروغ دینے میں کیا کردار اور کامیابیاں حاصل کی ہیں اگرچہ ان کے حوالے سے فیصلہ ان کے ملکوں نے کرنا ہوتا ہے ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی کارکردگی کو دیکھیں لیکن یہ غازی کونسل جنرل کیوں کے پاکستان کے شہری بھی ہیں اس لئے نے پاکستان کا مفاد بھی عزیز ہونا چاہیے حکومت کو یہ دیکھنا چاہئے کہ ان شخصیات کو جب کلیئرنس دے کر ان عہدوں کے لیے چنا گیا تھا تو انہوں نے ملکی مفاد عمل کے لیے کیا خدمات انجام دیں ایسے وقت میں جب پاکستانی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے پاکستان بحران سے گزر رہا ہے ما شروط سعدی صورتحال مستحکم کرنے کے لیے تجارتی روابط کو فروغ دینا اور پاکستانی مصنوعات کو مختلف عالمی منڈیوں میں رسائی اور پذیرائی دلانا وقت کی ضرورت ہے تو یہ اعزازی قونصل جنرل آخر کس مرض کی دوا ہے اور یہ کس دن کام آئیں گے بظاہر پاکستان میں تعینات آزادی کونسل جنرل صرف ذاتی نمود و نمائش مراد حاصل کرنے اور اپنی اور اپنے خاندان کی پروجیکشن میں مصروف نظر آتے ہیں ان لوگوں کو ایسی شخصیات نے صرف اپنی اور اپنے خاندان کی پروجیکشن کے لیے مخصوص کر رکھا ہے ان کی پوزیشن سے پاکستانی عوام اور پاکستانی قوم کو جو فائدہ پہنچنا چاہیے کیا وہ پہنچ رہا ہے اس بات کا جائزہ پاکستان کے دفتر خارجہ کو بھی لینا چاہیے جب یہ افراد سرکاری پروٹوکول لیتے ہیں چیسی نمبر پلیٹ گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں غیر ملکی جھنڈے اپنے گھروں پر لہراتے ہیں تو انہیں پاک سرزمین اور یہاں کے لوگوں کی بہتری اور ملکی تجارت کے فروغ کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے تجارتی روابط بڑھانے اور مختلف ملکوں میں روزگار کے مواقع پاکستانیوں کے لئے تلاش کرنے میں بھی انہیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو پانچ سال کی مدت کے لیے کونسے جنرل بنے تھے لیکن ہر مرتبہ اپنے عہدے کی معیاد اور مدت میں اضافہ کروانے کی گنجائش سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ٹھیک ہے ان کی کارکردگی ان کے ملکوں کے لیے اچھی ہوگی اس لئے وہ ان کو بار بار اگلی مدت کے لیے تعینات کر دیتے ہیں لیکن ہمارے دفتر خارجہ کو بھی دیکھنا چاہیے کہ پچیس اور تیس سال سے زائد عرصے سے تعینات ان لوگوں نے ملک کے لیے کیا خدمات انجام دی ہیں ان کے ملکوں کے ساتھ تجارتی حجم کیا ہے اس میں پچھلے پانچ دس پندرہ بیس سالوں میں کتنا فرق پڑا ہے ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو 75 سال سے زائد عمر کے ہو چکے ہیں بعض بیمار ہیں بعض بیرون ملک جا چکے ہیں وہاں کی شہریت دے چکے ہیں وہیں پر زیادہ وقت گزارتے ہیں لیکن پھر بھی پاکستان میں اعزازی قونصل جنرل پوزیشن اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض ملکوں کے سفارتی مشن پاکستان میں نہیں بلکہ قریب کے ملکوں سے پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں اور یہاں پر انہوں نے بعض قونصل جنرل تعینات کر رکھے ہیں حیران کن بات یہ ہے کہ ان ملکوں کے اپنے سفارتی مشن بھی پاکستان میں تعینات کونسل جنرل سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے نہ ہی انہیں پتہ ہے کہ یہاں یہ کیا کیا کرتے ہیں ۔بس سفیروں نے بھی اس بات پر ضرور دیا ہے وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ملکوں کے لیے نئے نوجوان اور اینرجیٹک افراد کو اب ذمہ داریاں دی جائیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ بھی پرانے لوگوں کے روٹین ورک سے بیزار آ چکے ہیں بعض ملکوں نے پچھلے چند سالوں میں پرانے لوگوں کو ریٹائر کر کے نوجوانوں کو یہ ذمہ داریاں دینا شروع کر دی ہیں یہ بہترین وقت ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور نئے سیکرٹری خارجہ اس جانب توجہ دیں اور پاکستان میں تعینات برسہا برس سے موجود اعزازی قونصل جنرل کی کارکردگی کردار اور سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیں اور ان کے بارے میں باقاعدہ رپورٹس بنوائی جائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں