فرض شناس اور خداترس چیف سیکرٹری ۔ممتاز علی شاہ

اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ ممتاز علی شاہ ایک فرض شناس آفیسر اور خداترس انسان ہیں بطور چیف سیکریٹری سندھ انہوں نے نہایت شاندار اور قابل تعریف انداز سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے کر آنے والے افسران کے لئے ایک روشن مثال قائم کردی ہے وہ پورے کیرئیر میں انتہائی محنت ناگن اور جانفشانی سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے

یہاں تک پہنچے ان کا پورا کیریئر شاندار کامیابیوں سے عبارت ہے وہ صوبائی اور وفاقی حکومت کے مختلف اہم عہدوں پر جہاں جہاں بھی فائز رہے عمدہ اور اچھے ورکنگ اسٹائل کی یادیں چھوڑ کر آئے وہ جس ضلع محکمے اور وزارت میں بھی گئے وہاں انہوں نے نمایاں بہتری پیدا کی اور ڈسپلن کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کا رویہ اپنے ماتحت ملازمین کے ساتھ ہمیشہ ہمدردانہ اور شفقت سے بھرپور رہا


یہی وجہ ہے کہ ان کے تمام جونیئر افسران اور ملازمین ان کی دل سے عزت کرتے ہیں اور ان کو ہر پل دعائیں دیتے ہیں ۔ممتاز علی شاہ خوف خدا رکھنے والے انسان ہیں قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہر کسی کی حد ممکن جائز مدد کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور بھرپور کوشش کرتے ہیں ان کا جذبہ قابل تعریف ہے اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی بھی سائل ناکام اور نامراد واپس


نہ جائے بلکہ اس کی قانونی طریقے سے بھرپور مدد کی جائے اور مشکلات کا شکار کوئی بھی شخص ریلیف حاصل کئے بغیر نہ جائے ۔وہ تمام ملاقاتیوں سے ملاقات کرتے ہیں ان کے مسائل سنتے ہیں اور موقع پر ضروری ہدایات اور احکامات جاری کرتے ہیں ۔
ممتاز علی شاہ کے دور میں صوبائی حکومت میں افسران اور ملازمین کی ترقیوں اور تعیناتی


کے معاملات میں کافی تیزی اور بہتری آئی ہے کتنے پرموشن بورڈ کے اجلاس ان کے دور میں ہوئے ہیں ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔اسی طرح اینٹی کرپشن بورڈ کے حوالے سے بھی انہوں نے معاملات کو بہتر کیا اور باقاعدگی سے اجلاس منعقد کر کے پرانے اور نئے کیسز کو آگے بڑھایا ۔

ممتاز علی شاہ کراچی سے کشمور تک پورے صوبے کی خبر رکھتے ہیں ہر ڈویژن ہر ضلع کے معاملات پر ان کی نظر رہتی ہے اور وہ کسی بھی اہم واقعہ اور مسلک کا فوری نوٹس لیتے ہیں اور ضروری ہدایات جاری کرتے ہیں اور فیڈ بیک بھی لیتے ہیں ۔

انتہائی شائستہ لب و لہجے کے مالک ممتاز علی شاہ ایک سادہ طبیعت کے انسان ہیں ملاقات کے لیے آنے والوں سے نہایت خندہ پیشانی سے ملتے ہیں خلوص اور محبت سے دوسروں کا دل جیت لیتے ہیں لوگ دل کی گہرائیوں سے ان کی عزت اور احترام کرتے ہیں ۔

جہاں اصولوں اور قانون کی بات آجائے وہاں ممتاز علی شاہ صرف اور صرف قاعدے قانون کو دیکھتے ہیں اور قاعدے قانون کے خلاف نہیں جاتے ۔قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور صوبے میں گورننس کی بہتری کے لیے جتنی محنت اور جدوجہد انہوں نے کی ہے وہ قابل تعریف اور قابل ستائش ہے ۔

سندھ میں مسائل کا انبار لگا ہوا ہے اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن ممتاز علی خان نے بطور چیف سیکریٹری اب تک اپنے دور میں جتنی بہتری اور اچھائی جاسکتی تھی اس کے لئے عملی اقدامات اور کوششیں کی ہیں

اور اس میں وہ کافی حد تک سرخرو نظر آتے ہیں کیونکہ سرکاری افسر کا اپنا ایک ڈومین ہوتا ہے

اور اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوتا ہے اس لحاظ سے ممتاز علی شاہ نے اپنا کام بخوبی انجام دیا ہے

اور ان کی کوششیں رنگ لارہی ہیں اور آنے والے دنوں میں ان کے اچھے اور

جرات مندانہ اقدامات کے مزید مثبت اور نتیجہ خیز اثرات اور ثمرات سامنے آنے کی توقع ہے ۔