محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ۔۔۔۔ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

اپنے کیریئر میں اسد اللہ خان نے جو کامیابیاں سمیٹی ہیں وہ کم لوگوں کے حصے میں آتی ہیں قسمت کی دیوی نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے اور وہ ہر مشکل وقت میں اپنے مخالفین ناقدین اور حاسدین کے مقابلے میں اللہ کی خصوصی کرم نوازی کے ذریعے سرخرو ہوئے ۔یہ ان کے بزرگوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے لوگوں کے ساتھ ان کی نیکیوں کا ثمر ہے یا ان کا خلق خدا کے ساتھ شفقت اور محبت کا رویہ ہے ۔کچھ بھی ہے قدرت ان پر خاص مہربان نظر آتی ہے اور وہ ہر آزمائش اور چیلنج کا پراعتماد انداز سے مقابلہ کرنے کے بعد پر سکون نظر آتے ہیں ۔ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لئے قربانیاں نہیں دیں ۔مشکلات کا سامنا نہیں کیا پریشانیوں کو گلے نہیں لگایا اور ان کی زندگی میں کبھی نشیب نہیں آیا بالکل ایسا ہوا ہے لیکن وہ اللہ کا شکر بجا لانے والے شخص ہیں اللہ پر ان کا توکل مضبوط ہے اس لیے غیب سے ان کی مدد آ جاتی ہے ان کا بھلا کرنے والوں کی کمی نہیں ہے اس لئے ان کے ساتھ بھلے لوگوں کی دعائیں بھی ہیں ۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر اسد اللہ خان کی کارکردگی ہر مرتبہ نہایت شاندار اور قابل تعریف رہی ہے حالانکہ یہ سرکاری افسران کے لیے ایک انتہائی مشکل عہدہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے مسائل بےپناہ ہیں اور وسائل بہت محدود ہیں کراچی واٹر بورڈ پر پانی کی فراہمی سے لے کر پانی کی نکاسی کے

معاملات تک تنقید کرنا لوگوں کا پسندیدہ مشغلہ بھی ہے اور سب سے آسان کام بھی ۔اس ادارے میں ماضی میں کرپشن کی داستانیں بھی عام ہیں اور مختلف اسکینڈل بھی ہر کسی کی زبان پر رہے ہیں لیکن اسد اللہ خان نے مینیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں ایک نئے دور

کا آغاز کیا اور اس ادارے کے مشکل سمجھے جانے والے وہ تمام کام کام تیزی سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جو طویل عرصے سے التوا کا شکار تھے یا جن کی وجہ سے بنیادی مسائل تھے ان کی قابلیت جان تو تجربہ بے مثال ہے اور یہی وجہ ہے کہ اعلی حکام اور صوبائی حکومت نے ان پر ہمیشہ اعتماد کا اظہار کیا اعلی سرکاری اجلاسوں سے لے کر اعلیٰ عدلیہ کے اہم مقدمات تک

وہ ہمیشہ صاف گوئی اور مکمل ہوم ورک کے ساتھ پیش ہوئے اور انہوں نے جو پلان پیش کیے اور جو اقدامات اور تجاویز دیں ان کو سراہا گیا ۔ہر مرتبہ مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر اسداللہ خان کی آمد پر سرکاری افسران اور ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ان کے آنے سے محکمہ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ان کے ٹھوس اقدامات کے نتیجہ خیز ثابت ہوئے اور آنے والے دنوں میں ان کے اقدامات کی وجہ سے مزید بہتری اور نمایاں تبدیلی سامنے آنے کی توقع ہے