عبوری آئینی صوبہ مسترد۔۔۔۔۔


تحریر: شفقت انقلابی.

——————-
آج جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ گلگت بلتستان کے زیر اہتمام گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں اسلام آباد کی جانب سے عبوری آئینی سیٹ کے نام پر ریاستی تشخص مٹانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے کاونٹر میں ریاستی باشندوں کی جانب سے قومی بیانیہ کے تشکیل کے لئے ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیام گنڈاپور کی جانب سے آنے والے بیان کے بعد یہ پہلا باضابطہ پروگرام ہوا جس کے انعقاد پر جے کے ایل ایف جی بی اور ایس ایل ایف جی بی کے دوستوں کی یہ کاوش قابل تعریف تھی۔
جے کے ایل ایف کے سنئیر ترین رہنما برادر ضیاالحق نے شرکا کو اپنے پارٹی موقف سے آگاہ کیا۔۔۔۔
مجھے بحثیت ایکسپرٹ جموں کشمیر کنفلیکٹ کے قومی بیانیے کے تشکیل, موجودہ صورت حال, جی بی کے جموں کشمیر سے تعلق اور تاریخ ریاست جموں کشمیر پر بات کرنے کی زمہ داری سونپی گئی تھی۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے سابق سربراہ مولانا سلطان رئیس نے راقم کی گفتگو کی مکمل تائید کی جس پر میں ان کا ممنون ہوں۔۔۔۔۔
کانفرنس میں وکلا برادری کی جانب سے برادر اشفاق احمد ایڈوکیٹ اور غلام عباس ایڈوکیٹ نے گفتگو کی۔ اشفاق ایڈوکیٹ نے قانونی پہلوں پر روشنی ڈالی, عوامی ایکششن کمیٹی کے فدا حسین , بالاورستان نیشنل فرنٹ کی یوسف علی ناشاد ,جی بی این اے کے سابق سربراہ و سابق نگران وزیر عنایت اللہ شمالی, جے یو آئی کے امیر و سابق ممبر جی بی کونسل مولانا عطااللہ شہاب, متحدہ قومی پارٹی کے اقبال, جے کے ایل ایف کے نصرت علی, شاعر ادیب تاریخ دان ہدایت اللہ اختر, سول سوسائٹی اور سیاسی تنظیموں کے نمائندوں نے گفتگو کی۔۔۔۔
شرکا نے موجودہ عبوری آئینی صوبے کو مکمل مسترد کیا۔۔۔

پچانوے فیصد شرکا نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں دو با اختیار حکومتوں کے قیام , جی بی کونسل اور جے کے کونسل کو ختم کرکے گلگت اور مظفر آباد کی حکومتوں کے اوپر برابری کی نمائندگی پر مشتمل سنیٹ جیسے ادارے کو قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا گیا کہ یہ ادارہ پاکستان کے ساتھ عبوری معملات طے کرے گا اور یہی ادارہ ریاست کے بقایا حصہ کے لئے عالمی رائے عامہ بنانے کا کام بھی کرے گا۔ شرکا نے مشترکہ طور پر قانون باشندہ ریاست کی فوری بحالی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر کی جانے والی اصلاحات کسی صورت قبول نہیں۔ شرکا محفل اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ موجودہ چھیڑخانی سے ہندوستانی اقدامات کو بھی جواز ملے گا ۔ جس سے ریاست جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی نقصان ہوگا۔۔۔
آج کا پروگرام بہت کامیاب رہا ۔ اس پروگرام کے انعقاد پر ایک بار پھر سے جے کے ایل ایف کے صدر, جنرل سیکرٹری مقبول, ضیا الحق, نصرت اور ان کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج پہلی بار اس موضوع پر طویل گفتگو بھی ہوئی اور یک زبان ہوکے عبوری آئینی صوبے کو گلگت کی سرزمین سے مسترد کیا گیا۔
ویلڈنJKLF GB
ویلڈن آیس ایل ایف GB
آج جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ گلگت بلتستان کے زیر اہتمام گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں اسلام آباد کی جانب سے عبوری آئینی سیٹ کے نام پر ریاستی تشخص مٹانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے کاونٹر میں ریاستی باشندوں کی جانب سے قومی بیانیہ کے تشکیل کے لئے ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیام گنڈاپور کی جانب سے آنے والے بیان کے بعد یہ پہلا باضابطہ پروگرام ہوا جس کے انعقاد پر جے کے ایل ایف جی بی اور ایس ایل ایف جی بی کے دوستوں کی یہ کاوش قابل تعریف تھی۔
جے کے ایل ایف کے سنئیر ترین رہنما برادر ضیاالحق نے شرکا کو اپنے پارٹی موقف سے آگاہ کیا۔۔۔۔
مجھے بحثیت ایکسپرٹ جموں کشمیر کنفلیکٹ کے قومی بیانیے کے تشکیل, موجودہ صورت حال, جی بی کے جموں کشمیر سے تعلق اور تاریخ ریاست جموں کشمیر پر بات کرنے کی زمہ داری سونپی گئی تھی۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے سابق سربراہ مولانا سلطان رئیس نے راقم کی گفتگو کی مکمل تائید کی جس پر میں ان کا ممنون ہوں۔۔۔۔۔
کانفرنس میں وکلا برادری کی جانب سے برادر اشفاق احمد ایڈوکیٹ اور غلام عباس ایڈوکیٹ نے گفتگو کی۔ اشفاق ایڈوکیٹ نے قانونی پہلوں پر روشنی ڈالی, عوامی ایکششن کمیٹی کے فدا حسین , بالاورستان نیشنل فرنٹ کی یوسف علی ناشاد ,جی بی این اے کے سابق سربراہ و سابق نگران وزیر عنایت اللہ شمالی, جے یو آئی کے امیر و سابق ممبر جی بی کونسل مولانا عطااللہ شہاب, متحدہ قومی پارٹی کے اقبال, جے کے ایل ایف کے نصرت علی, شاعر ادیب تاریخ دان ہدایت اللہ اختر, سول سوسائٹی اور سیاسی تنظیموں کے نمائندوں نے گفتگو کی۔۔۔۔
شرکا نے موجودہ عبوری آئینی صوبے کو مکمل مسترد کیا۔۔۔
پچانوے فیصد شرکا نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں دو با اختیار حکومتوں کے قیام , جی بی کونسل اور جے کے کونسل کو ختم کرکے گلگت اور مظفر آباد کی حکومتوں کے اوپر برابری کی نمائندگی پر مشتمل سنیٹ جیسے ادارے کو قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا گیا کہ یہ ادارہ پاکستان کے ساتھ عبوری معملات طے کرے گا اور یہی ادارہ ریاست کے بقایا حصہ کے لئے عالمی رائے عامہ بنانے کا کام بھی کرے گا۔ شرکا نے مشترکہ طور پر قانون باشندہ ریاست کی فوری بحالی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر کی جانے والی اصلاحات کسی صورت قبول نہیں۔ شرکا محفل اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ موجودہ چھیڑخانی سے ہندوستانی اقدامات کو بھی جواز ملے گا ۔ جس سے ریاست جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی نقصان ہوگا۔۔۔
آج کا پروگرام بہت کامیاب رہا ۔ اس پروگرام کے انعقاد پر ایک بار پھر سے جے کے ایل ایف کے صدر, جنرل سیکرٹری مقبول, ضیا الحق, نصرت اور ان کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج پہلی بار اس موضوع پر طویل گفتگو بھی ہوئی اور یک زبان ہوکے عبوری آئینی صوبے کو گلگت کی سرزمین سے مسترد کیا گیا۔
ویلڈنJKLF GB
ویلڈن آیس ایل ایف GB